Al-Quran-al-Kareem - Al-Baqara : 33
اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ یُّؤْمِنُوْا لَكُمْ وَ قَدْ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَسْمَعُوْنَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ یُحَرِّفُوْنَهٗ مِنْۢ بَعْدِ مَا عَقَلُوْهُ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ
اَفَتَطْمَعُوْنَ : کیا پھر تم توقع رکھتے ہو اَنْ : کہ يُؤْمِنُوْا : مان لیں گے لَكُمْ : تمہاری لئے وَقَدْ کَانَ : اور تھا فَرِیْقٌ : ایک فریق مِنْهُمْ : ان سے يَسْمَعُوْنَ : وہ سنتے تھے کَلَامَ اللہِ : اللہ کا کلام ثُمَّ : پھر يُحَرِّفُوْنَهُ : وہ بدل ڈالتے ہیں اس کو مِنْ بَعْدِ : بعد مَا : جو عَقَلُوْهُ : انہوں نے سمجھ لیا وَهُمْ : اور وہ يَعْلَمُوْنَ : جانتے ہیں
پھر تمہاری موت کے بعد ہم نے تمہیں 72 زندہ کر اٹھایا کہ شاید اب ہی تم شکر گزار بن جاؤ
72 اب موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ فکر دامن گیر ہوئی کہ اکیلے واپس جا کر قوم کو کیا کہیں گے۔ چناچہ پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور فرمایا : اے اللہ ! اگر تیری یہ مشیت تھی تو آج سے پہلے انہیں اور مجھے بھی ہلاک کردیا ہوتا، کیا آج تو ان نادان لوگوں کی بات پر ہمیں ہلاک کرتا ہے ؟ (7 : 155) چناچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کی دعا قبول فرما کر انہیں ازسر نو زندہ کردیا۔
Top