Tafseer-Ibne-Abbas - Al-Faatiha : 6
قَالَ یٰۤاٰدَمُ اَنْۢبِئْهُمْ بِاَسْمَآئِهِمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَنْۢبَاَهُمْ بِاَسْمَآئِهِمْ١ۙ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۙ وَ اَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ
قَالَ : اس نے فرمایا يَآ : اے اٰدَمُ : آدم اَنْبِئْهُمْ : انہیں بتادے بِاَسْمَآئِهِمْ : ان کے نام فَلَمَّا : سو جب اَنْبَاَهُمْ : اس نے انہیں بتلایا بِاَسْمَائِهِمْ : ان کے نام قَالَ : فرمایا اَلَمْ : کیا نہیں اَقُلْ : میں نے کہا لَكُمْ : تمہیں اِنِّیْ : کہ میں اَعْلَمُ : جانتا ہوں غَيْبَ : چھپی ہوئی باتیں السَّمَاوَاتِ : آسمانوں وَالْاَرْضِ : اور زمین وَاَعْلَمُ : اور میں جانتا ہوں مَا : جو تُبْدُوْنَ : تم ظاہر کرتے ہو وَمَا : اور جو كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ : تم چھپاتے ہو
ہم کو سیدھے راستے چلا
(6۔ 7) ان لوگوں کا دین جن پر تو نے دین عطا کرکے احسان کیا ہے وہ حضرت موسیٰ ؑ کی قوم ہے اور ان کا وہ وقت جب تک اللہ تعالیٰ نے ان سے اپنی نعمتوں کو واپس نہیں لیا تھا کہ ان پر وادی تیہ میں بادل نے سایہ کیے رکھا اور اس امت پر بطور نعمت من وسلوی آسمان سے اتارا گیا۔ اور یہ تفسیر بھی ہے کہ انعام والی جماعت سے نبیوں کی جماعت مراد ہے جو ان یہودیوں کے دن کی طلب گار نہیں جن پر تو نے اپنا غصہ کیا اور ان کو ذلیل ورسوا کیا اور ان کے دلوں کو مضبوط نہیں کیا، یہاں تک کہ وہ یہودی بن گئے۔ اور نہ ان نصاری کے دین کے طلب گار ہیں، ان کے دلوں کو مضبوط نہیں کیا۔ یہاں تک کہ وہ یہودی بن گئے، اور نہ ان نصاری کے دین کے طلب گار ہیں، جو اسلام سے بےراہ ہوگئے، اس طرح ہماری یہ امیدیں بڑھتی رہیں اور اسی طرح ہوتا رہے یا یہ کہ اے ہمارے پروردگار ! ہم نے جو تجھ سے دلی درخواست کی ہے، وہ وہی ہمیں عطا فرما، (اور ہماری ان جملہ دعاؤں کو قبول فرما)
Top