Tafseer-e-Baghwi - Al-Baqara : 89
قَالَ یٰۤاٰدَمُ اَنْۢبِئْهُمْ بِاَسْمَآئِهِمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَنْۢبَاَهُمْ بِاَسْمَآئِهِمْ١ۙ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۙ وَ اَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ
قَالَ : اس نے فرمایا يَآ : اے اٰدَمُ : آدم اَنْبِئْهُمْ : انہیں بتادے بِاَسْمَآئِهِمْ : ان کے نام فَلَمَّا : سو جب اَنْبَاَهُمْ : اس نے انہیں بتلایا بِاَسْمَائِهِمْ : ان کے نام قَالَ : فرمایا اَلَمْ : کیا نہیں اَقُلْ : میں نے کہا لَكُمْ : تمہیں اِنِّیْ : کہ میں اَعْلَمُ : جانتا ہوں غَيْبَ : چھپی ہوئی باتیں السَّمَاوَاتِ : آسمانوں وَالْاَرْضِ : اور زمین وَاَعْلَمُ : اور میں جانتا ہوں مَا : جو تُبْدُوْنَ : تم ظاہر کرتے ہو وَمَا : اور جو كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ : تم چھپاتے ہو
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت چھوڑ کر گمراہی خریدی، نہ تو ان کی تجارت ہی نے کچھ نفع دیا اور نہ وہ ہدایت یاب ہی ہوئے
(16) (آیت)” اولئک الذین اشتروا الضلالۃ بالھدی “۔ بالھدی کا معنی بالایمان (آیت)” فماربحت تجارتھم “ یعنی انہوں نے کفر کو بدلے میں لیا یعنی نہ نفع مند ہوئے وہ لوگ اپنی تجارت میں ، ربح یعنی نفع کی نسبت تجارت کی طرف کی کیونکہ نفع تجارت میں ہوتا ہے جیسے عرب والے کہتے ہیں ” ربح بیعک وخسرت صففتک “ یعنی تیری بیع نفع والی ہوئی اور تیرا سودا خسارہ کا ہوا ۔ (آیت)” وما کانوا مھتدین “ (یعنی نہیں تھے وہ راہ اپنانے والے گمراہی سے اور کہا گیا درست پہنچنے والے اپنی تجارت میں ۔
Top