Bayan-ul-Quran - Al-An'aam : 108
وَ حَآجَّهٗ قَوْمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوْٓنِّیْ فِی اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنِ١ؕ وَ لَاۤ اَخَافُ مَا تُشْرِكُوْنَ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ رَبِّیْ شَیْئًا١ؕ وَسِعَ رَبِّیْ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ
وَحَآجَّهٗ : اور اس سے جھگڑا کیا قَوْمُهٗ : اس کی قوم قَالَ : اس نے کہا اَتُحَآجُّوْٓنِّىْ : کیا تم مجھ سے جھگڑتے ہو فِي : میں اللّٰهِ : اللہ وَ : اور قَدْ هَدٰىنِ : اس نے مجھے ہدایت دے دی ہے وَ : اور لَآ اَخَافُ : نہیں ڈرتا میں مَا تُشْرِكُوْنَ : جو تم شریک کرتے ہو بِهٖٓ : اس کا اِلَّآ : مگر اَنْ : یہ کہ يَّشَآءَ : چاہے رَبِّيْ : میرا رب شَيْئًا : کچھ وَسِعَ : احاطہ کرلیا رَبِّيْ : میرا رب كُلَّ شَيْءٍ : ہر چیز عِلْمًا : علم اَ : کیا فَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ : سو تم نہیں سوچتے
یہ لوگ کڑی کڑی قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ اگر کوئی نشانی ہمارے سامنے آ جائے تو ہم اس پر ایمان لے آئیں گے اے محمدؐ! ان سے کہو کہ "نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں" اور تمہیں کیسے سمجھایا جائے کہ اگر نشانیاں آ بھی جائیں تو یہ ایمان لانے والے نہیں
وَاَقْسَمُوْا [ اور انہوں نے قسم کھائی ] بِاللّٰهِ [ اللہ کی ] جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ [ اپنی قسموں کا زور لگاتے ہوئے (یعنی پختہ کرتے ہوئے ) ] لَىِٕنْ [ کہ یقینا اگر ] جَاۗءَتْهُمْ [ آئے ان کے پاس ] اٰيَةٌ [ کوئی نشانی (یعنی معجزہ ) ] لَّيُؤْمِنُنَّ [ تو وہ لوگ لازما ایمان لائیں گے ] بِهَا ۭ [ اس سے ] قُلْ [ آپ کہئے ] اِنَّمَا [ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] الْاٰيٰتُ [ نشانیاں ] عِنْدَ اللّٰهِ [ اللہ کے پاس ہیں ] وَمَا يُشْعِرُكُمْ ۙ [ اور تم کو کیا چیز شعور دیتی ہے (یعنی تم کو کیا خبر )] اَنَّهَآ [ کہ وہ ] اِذَا [ جب ] جَاۗءَتْ [ آئے ] لَا يُؤْمِنُوْنَ [ تو یہ لوگ ایمان نہ لائیں ]
Top