Bayan-ul-Quran - Al-Israa : 87
یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْ١ۗ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ١ۚ فَاِنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ١ۚ وَ اِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ١ؕ وَ لِاَبَوَیْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلَدٌ وَّ وَرِثَهٗۤ اَبَوٰهُ فَلِاُمِّهِ الثُّلُثُ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَهٗۤ اِخْوَةٌ فَلِاُمِّهِ السُّدُسُ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ لَا تَدْرُوْنَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا١ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا
يُوْصِيْكُمُ : تمہیں وصیت کرتا ہے اللّٰهُ : اللہ فِيْٓ : میں اَوْلَادِكُمْ : تمہاری اولاد لِلذَّكَرِ : مرد کو مِثْلُ : مانند (برابر حَظِّ : حصہ الْاُنْثَيَيْنِ : دو عورتیں فَاِنْ : پھر اگر كُنَّ : ہوں نِسَآءً : عورتیں فَوْقَ : زیادہ اثْنَتَيْنِ : دو فَلَھُنَّ : تو ان کے لیے ثُلُثَا : دوتہائی مَا تَرَكَ : جو چھوڑا (ترکہ) وَاِنْ : اور اگر كَانَتْ : ہو وَاحِدَةً : ایک فَلَھَا : تو اس کے لیے النِّصْفُ : نصف وَلِاَبَوَيْهِ : اور ماں باپ کے لیے لِكُلِّ وَاحِدٍ : ہر ایک کے لیے مِّنْهُمَا : ان دونوں میں سے السُّدُسُ : چھٹا حصہ 1/2) مِمَّا : اس سے جو تَرَكَ : چھوڑا (ترکہ) اِنْ كَانَ : اگر ہو لَهٗ وَلَدٌ : اس کی اولاد فَاِنْ : پھر اگر لَّمْ يَكُنْ : نہ ہو لَّهٗ وَلَدٌ : اس کی اولاد وَّوَرِثَهٗٓ : اور اس کے وارث ہوں اَبَوٰهُ : ماں باپ فَلِاُمِّهِ : تو اس کی ماں کا الثُّلُثُ : تہائی (1/3) فَاِنْ : پھر اگر كَانَ لَهٗٓ : اس کے ہوں اِخْوَةٌ : کئی بہن بھائی فَلِاُمِّهِ : تو اس کی ماں کا السُّدُسُ : چھٹا (1/6) مِنْۢ بَعْدِ : سے بعد وَصِيَّةٍ : وصیت يُّوْصِيْ بِھَآ : اس کی وصیت کی ہو اَوْ دَيْنٍ : یا قرض اٰبَآؤُكُمْ : تمہارے باپ وَاَبْنَآؤُكُمْ : اور تمہارے بیٹے لَا تَدْرُوْنَ : تم کو نہیں معلوم اَيُّھُمْ : ان میں سے کون اَقْرَبُ لَكُمْ : نزدیک تر تمہارے لیے نَفْعًا : نفع فَرِيْضَةً : حصہ مقرر کیا ہوا مِّنَ اللّٰهِ : اللہ کا اِنَّ اللّٰهَ : بیشک اللہ كَانَ : ہے عَلِيْمًا : جاننے والا حَكِيْمًا : حکمت والا
تو تم اپنے رب عظیم کے نام کی تسبیح کرو !
(فسبح باسم ربک العظیم) (74) (نبی ﷺ کو صبر اور نماز کی تاکید)۔ یہ بحث کے آخر میں نبی ﷺ کو اپنے موقف حق پر ڈٹے رہنے اور اپنے رب کی تسبیح کرتے رہنے کی تاکید فرمائی۔ اس تاکید کا یہ محل ہے کہ جہاں تک دلائل کا تعلق ہے وہ تو تمہارے ساتھ ہیں لیکن یہ ہٹ دھرم لوگ ماننے والے نہیں ہیں سو ان کی پروا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تم اپنے رب کی تسبیح میں لگے رہو، تسبیح یہاں وسیع معنی یہاں پاکی بیان کرنے کے مفہوم میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ خواہشوں کے اندھے پرستار تو یہ گمان کیے بیٹھے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا محض ان کے عیش کے لیے بنائی ہے۔ ان کو علم نہیں ہے کہ رب عظیم اس بات سے پاک اور برتر ہے کہ وہ کوئی عبث اور محض کھیل تماشے کی قسم کا کام کرے۔ اس پر واجب ہے کہ وہ ایک ایسا دن لائے جس میں اپنے شکر گزار بندوں کو ان کی ناشکر گزاری کا صلہ دے اور جو نا شکرے ہیں وہ کیفر کردار کو پہنچیں۔ (باسم ربک میں ب کا صلہ اس امر کا قرینہ ہے کہ سبح یہاں اسعانت کے مضمون پر بھی متضمن ہے جس سے معنی میں یہ اضافہ ہوجائے گا کہ اپنے رب کی تسبیح کرو اور اسی سے اس صورت حال کے مقابلہ کے لیے مدد مانگو، لفظ اسم اس حقیقت کا سراغ دے رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے بندے کے تعلق و توسل کا ذریعہ صرف اس کے اسمائے حسنی ہی ہیں۔ انہی کی معرفت سے خدا کی معرفت حاصل ہوتی ہے جو تمام صحیح علم و عمل کا سر چشمہ ہے۔
Top