Bayan-ul-Quran - Al-An'aam : 82
وَ كَیْفَ اَخَافُ مَاۤ اَشْرَكْتُمْ وَ لَا تَخَافُوْنَ اَنَّكُمْ اَشْرَكْتُمْ بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ عَلَیْكُمْ سُلْطٰنًا١ؕ فَاَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ اَحَقُّ بِالْاَمْنِ١ۚ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَۘ
وَكَيْفَ : اور کیونکر اَخَافُ : میں ڈروں مَآ اَشْرَكْتُمْ : جو تم شریک کرتے ہو (تمہارے شریک) وَلَا تَخَافُوْنَ : اور تم نہیں ڈرتے اَنَّكُمْ : کہ تم اَشْرَكْتُمْ : شریک کرتے ہو بِاللّٰهِ : اللہ کا مَا : جو لَمْ يُنَزِّلْ : نہیں اتاری بِهٖ : اس کی عَلَيْكُمْ : تم پر سُلْطٰنًا : کوئی دلیل فَاَيُّ : سو کون الْفَرِيْقَيْنِ : دونوں فریق اَحَقُّ : زیادہ حقدار بِالْاَمْنِ : امن کا اِنْ : اگر كُنْتُمْ : تم تَعْلَمُوْنَ : جانتے ہو
اور اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو یہ شرک نہ کرتے ہم نے آپ کو ان کا نگراں نہیں بنایا اور نہ آپ ان پر مختار ہیں۔ (ف 1) (107)
1۔ اوپر کے مضامین میں طریق مشرکین کا ابطال اور نیز مضامین مذکورہ کے ساتھ اس کی تبلیغ کا امر بھی کیا گیا ہے آگے مشرکین کے معبودات باطلہ کو سب وشتم کرنے سے مسلمانوں کو ممانعت فرما کر تبلیغ دین کے حدود قائم کرتے ہیں جس حاصل یہ ہے کہ غیر قوم سے مناظرہ کرنا تو جزو تبلیغ ہے لیکن دشنامی اور دل خراش الفاظ ان کے معظمین کے حق میں کہنا ممنوع لغیرہ ہے کہ وہ ہمارے معبود یارسل کی شان میں گستاخی کریں گے تو گویا اس کے باعث ہم ہوئے۔
Top