Mazhar-ul-Quran - Al-Baqara : 78
اَوْ كَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِیْهِ ظُلُمٰتٌ وَّ رَعْدٌ وَّ بَرْقٌ١ۚ یَجْعَلُوْنَ اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ١ؕ وَ اللّٰهُ مُحِیْطٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ
أَوْ کَصَيِّبٍ : یا جیسے بارش ہو مِنَ السَّمَاءِ : آسمان سے فِيهِ : اس میں ظُلُمَاتٌ : اندھیرے ہوں وَرَعْدٌ : اور گرج وَبَرْقٌ : اور بجلی يَجْعَلُونَ : وہ ٹھونس لیتے ہیں أَصَابِعَهُمْ : اپنی انگلیاں فِي آذَانِهِمْ : اپنے کانوں میں مِنَ الصَّوَاعِقِ : کڑک کے سبب حَذَرَ الْمَوْتِ : موت کے ڈر سے وَاللَّهُ : اور اللہ مُحِيطٌ : گھیرے ہوئے ہے بِالْکَافِرِينَ : کافروں کو
اور بعضے ان میں سے ان پڑھ ہیں جو کتاب ( یعنی توریت) کو نہیں جانتے مگر ہو صرف (اپنے مطلب کی) باطل آرزوؤں کے جانتے ہیں وہ نرے گمان میں ہیں
ان آیتوں میں یہود کے ان پڑھ علماء کا حال ہے۔ علماء اپنی طرف سے اپنے ہاتھوں سے کچھ جھوٹ، مصنوعی باتیں جعلسازی سے کتاب الہیٰ میں لکھ کر اللہ کا حکم بتاتے ہیں اور جاہل لوگوں کو بہکا کر اس ذریعہ سے کچھ کما کھاتے۔ لیکن ان کا یہ جھوٹ اور یہ لقمہ حرام ایک دن ان کو خرابی میں ڈالے گا ۔
Top