Mazhar-ul-Quran - Al-Baqara : 61
وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى١ؕ كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ
وَظَلَّلْنَا : اور ہم نے سایہ کیا عَلَيْكُمُ : تم پر الْغَمَامَ : بادل وَاَنْزَلْنَا : اور ہم نے اتارا عَلَيْكُمُ : تم پر الْمَنَّ وَالسَّلْوٰى : من اور سلوا كُلُوْا : تم کھاؤ مِنْ ۔ طَيِّبَاتِ : سے۔ پاک مَا رَزَقْنَاكُمْ : جو ہم نے تمہیں دیں وَ مَاظَلَمُوْنَا : اور انہوں نے ہم پر ظلم نہیں کیا وَلَٰكِنْ : لیکن کَانُوْا : تھے اَنْفُسَهُمْ : اپنی جانیں يَظْلِمُوْنَ : وہ ظلم کرتے تھے
اور نماز قائم کرو اور زکوۃ دو اور نماز ادا کرو نمازیوں کے ساتھ (یعنی باجماعت)
سچی نماز کا ذکر فوائد القرآن : مسند امام احمد اور ابوداؤد میں حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ کا دل جب کسی بات سے پریشان ہوتا تو آپ نماز میں پڑھا کرتے تھے۔ پھر فرمایا کہ اس طرح کی نماز جس سے بری خصلت چھوٹ جاوے اور دل کی پریشانی رفع ہوجاوے انہی لوگوں کی ہے جو نماز پڑھتے وقت خدا کا خوف دل میں رکھتے ہیں۔
Top