Tafseer-e-Haqqani - An-Nisaa : 3
اَلَا لِلّٰهِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۘ مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ فِیْ مَا هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ١ؕ۬ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ كٰذِبٌ كَفَّارٌ
اَلَا : یاد رکھو لِلّٰهِ : اللہ کے لیے الدِّيْنُ : عبادت الْخَالِصُ ۭ : خالص وَالَّذِيْنَ : اور جو لوگ اتَّخَذُوْا : بناتے ہیں مِنْ دُوْنِهٖٓ : اس کے سوا اَوْلِيَآءَ ۘ : دوست مَا نَعْبُدُهُمْ : نہیں عبادت کرتے ہم ان کی اِلَّا : مگر لِيُقَرِّبُوْنَآ : اس لیے کہ وہ مقرب بنادیں ہمیں اِلَى اللّٰهِ : اللہ کا زُلْفٰى ۭ : قرب کا درجہ اِنَّ اللّٰهَ : بیشک اللہ يَحْكُمُ : فیصلہ کردے گا بَيْنَهُمْ : ان کے درمیان فِيْ مَا : جس میں هُمْ : وہ فِيْهِ : اس میں يَخْتَلِفُوْنَ : وہ اختلاف کرتے ہیں اِنَّ اللّٰهَ : بیشک اللہ لَا يَهْدِيْ : ہدایت نہیں دیتا مَنْ هُوَ : جو ہو كٰذِبٌ : جھوٹا كَفَّارٌ : ناشکرا
بھلا ایک جو بندگی میں لگا ہوا ہے رات کی گھڑیوں میں سجدے کرتا ہوا اور کھڑا ہوا خطرہ رکھتا ہے آخرت کا اور امید رکھتا ہے اپنے رب کی مہربانی کی تو کہہ کوئی برابر ہوتے ہیں سمجھ والے اور بےسمجھ سوچتے وہی ہیں جن کو عقل ہے
اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَاۗءَ الَّيْلِ۔ لفظ امن دو لفظوں سے مرکب ہے۔ ام حرف استفہام اور من اسم موصول اس جملے سے پہلے کفار کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ دنیا کی چند روزہ زندگی میں اپنے کفر اور فسق و فجور کے مزے اڑا لو، آخر کار تم جہنم کے ایندھن ہو گے۔ اس کے بعد اس جملے میں مومن مطیع کا بیان ہے جس کو امن کے لفظ سے شروع کیا گیا ہے۔ علماء تفسیر نے فرمایا کہ اس سے پہلے ایک جملہ محذوف ہے کہ کافر سے کہا جائے گا کہ تو اچھا ہے یا وہ مومن مطیع جس کا ذکر آگے آتا ہے۔ لفظ قانت کے کئی ترجمے کئے گئے ہیں۔ سب کو جامع قول حضرت ابن مسعود کا ہے۔ اس کے معنی ہیں اطاعت گزار اور یہ لفظ جب خاص نماز کے لئے بولا جائے۔ جیسے (آیت) قوموا للہ قانتین۔ تو وہاں مراد وہ شخص ہوتا ہے جو نماز میں اپنی نگاہ کو پست رکھے، ادھر ادھر نہ دیکھے، نہ اپنے بدن یا کپڑوں سے کھیل کرے، نہ دنیا کی کسی چیز کو اپنے اختیار سے نماز میں یاد کرے۔ بھول اور غیر اختیاری وسوسہ اس کے منافی نہیں۔ (قرطبی)
اٰنَاۗءَ الَّيْلِ کے معنی ساعات اللیل کے ہیں۔ جس سے مراد رات کا شروع حصہ اور درمیانی اور آخر ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ محشر کے موقف حساب میں اللہ تعالیٰ اس پر آسانی فرما دیں، اس کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اس کو رات کی اندھیری میں سجدہ اور قیام کی حالت میں پائے۔ اس طرح کہ اس کو آخرت کی فکر بھی ہو اور رحمت کی امید بھی۔ بعض حضرات نے مغرب و عشاء کے درمیان کے وقت کو بھی اناء اللیل کہا ہے۔ (قرطبی)
Top