Tafseer-e-Haqqani - Nooh : 9
وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ١ؕ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا
وَيَسْئَلُوْنَكَ : اور آپ سے پوچھتے ہیں عَنِ : سے۔ْمتعلق الرُّوْحِ : روح قُلِ : کہ دیں الرُّوْحُ : روح مِنْ اَمْرِ : حکم سے رَبِّيْ : میرا رب وَمَآ اُوْتِيْتُمْ : اور تمہیں نہیں دیا گیا مِّنَ الْعِلْمِ : علم سے اِلَّا : مگر قَلِيْلًا : تھوڑا سا
اور کیا تم نے اپنا یہ وظیفہ مقرر کرلیا ہے کہ تم تکذیب کرتے رہو۔
(82) اور کیا تم نے اپنا یہ وظیفہ مقرر کرلیا ہے کہ ہر نعمت کی تکذیب کرتے ہو۔ یعنی تم نے تکذیب اپنی غذا بنا لیا ہے کہ جس طرح کھانا ضروری ہے اسی طرح کلام کی تکذیب کرنا ضروری ہے یہ ایک محاورہ اردو میں بولا کرتے ……ہیں فلاں شخص نے تو میری مخالفت کو روٹی رزق بنا لیا ہے یہاں مطلب یہ ہے کہ قرآن اور قیامت اور پیغمبر کی تکذیب کو غذا اور رزق بنارکھا ہے۔ مطلب کا خلاصہ یہ ہے کہ اس قرآن کو سرسری سمجھتے ہو اور اس سے بڑھ کر یہ کہ ہر نعمت کی تکذیب کو اپنا شیوہ اور روٹی رزق بنا لیا ہے بجائے اس کے کہ نعمت کا شکر بجا لائو تکذیب کرتے ہو اور اسی وجہ سے توحید اور وقوع قیامت کا انکار کرتے ہو اور جھٹلاتے ہو ، آگے تنبیہہ ہے۔
Top