Tafseer-e-Jalalain - Al-Baqara : 247
وَ الّٰتِیْ یَاْتِیْنَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِّسَآئِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوْا عَلَیْهِنَّ اَرْبَعَةً مِّنْكُمْ١ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا فَاَمْسِكُوْهُنَّ فِی الْبُیُوْتِ حَتّٰى یَتَوَفّٰهُنَّ الْمَوْتُ اَوْ یَجْعَلَ اللّٰهُ لَهُنَّ سَبِیْلًا
وَالّٰتِيْ : اور جو عورتیں يَاْتِيْنَ : مرتکب ہوں الْفَاحِشَةَ : بدکاری مِنْ : سے نِّسَآئِكُمْ : تمہاری عورتیں فَاسْتَشْهِدُوْا : تو گواہ لاؤ عَلَيْهِنَّ : ان پر اَرْبَعَةً : چار مِّنْكُمْ : اپنوں میں سے فَاِنْ : پھر اگر شَهِدُوْا : وہ گواہی دیں فَاَمْسِكُوْھُنَّ : انہیں بند رکھو فِي الْبُيُوْتِ : گھروں میں حَتّٰى : یہاں تک کہ يَتَوَفّٰىھُنَّ : انہیں اٹھا لے الْمَوْتُ : موت اَوْ يَجْعَلَ : یا کردے اللّٰهُ : اللہ لَھُنَّ : ان کے لیے سَبِيْلًا : کوئی سبیل
خدا چاہتا ہے کہ تم پر سے بوجھ ہلکا کرے اور انسان (طبعا) کمزور پیدا ہوا ہے
یریداللّٰہ ان یخفف عنکم، یعنی اللہ تعالیٰ تمہاری تکلیف ومشقت کے پیش نظر تمہارے لئے ہلکے احکام کا ارادہ فرماتے ہیں اسی لئے نکاح کے بارے میں ایسے نرم احکام دیئے ہیں جن پر عمل کرنا آسان ہو انسان چونکہ خلقی طور پر ضعیف ہے، اسلئے کہ نفس، خواہش شہوت اسکے اندرخلقتہً موجود ہے، اسی کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے انسان کیلئے آسانیاں رکھی ہیں۔ طرفین کی رضامندی سے طے کرنے کا اختیاردیدیا، اور ضرورت کے وقت ایک سے زائدعورتوں سے نکاح کی بھی اجازت دیدی بشرطیہ کہ دامن عدل ہاتھ سے نہ چھوٹے۔
Top