Maarif-ul-Quran - Al-Baqara : 89
وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۚ وَ اِذَا خَلَا بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ قَالُوْۤا اَتُحَدِّثُوْنَهُمْ بِمَا فَتَحَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ لِیُحَآجُّوْكُمْ بِهٖ عِنْدَ رَبِّكُمْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ
وَاِذَا لَقُوا : اور جب وہ ملتے ہیں الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا : جو لوگ ایمان لائے قَالُوْا : وہ کہتے ہیں آمَنَّا : ہم ایمان لائے وَاِذَا : اور جب خَلَا : اکیلے ہوتے ہیں بَعْضُهُمْ : ان کے بعض اِلٰى۔ بَعْضٍ : پاس۔ بعض قَالُوْا : کہتے ہیں اَتُحَدِّثُوْنَهُمْ : کیا بتلاتے ہوا نہیں بِمَا فَتَحَ اللّٰهُ : جو اللہ نے ظاہر کیا عَلَيْكُمْ : تم پر لِيُحَاجُّوْكُمْ : تاکہ وہ حجت تم پر لائیں بِهٖ : اس کے ذریعہ عِنْدَ : سامنے رَبِّكُمْ : تمہارا رب اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ : تو کیا تم نہیں سمجھتے
یہ وہی ہیں جنہوں نے مول لی گمراہی ہدایت کے بدلے سو نافع نہ ہوئی انکی سوداگری اور نہ ہوئے راہ پانے والے
نویں آیت میں منافقین کے اس حال کا ذکر ہے کہ انہوں نے اسلام کو بھی قریب سے دیکھا اس کا ذائقہ بھی چکھا اور کفر میں تو پہلے سے مبتلا ہی تھے پھر کفر واسلام دونوں کو دیکھنے سمجھنے کے بعد انہوں نے اپنی ذلیل دنیاوی اغراض کی خاطر اسلام کے بدلے کفر ہی کو ترجیح دی ان کے اس عمل کو قرآن کریم نے تجارت (بیوپار) کا نام دے کر یہ بتلایا کہ ان لوگوں کو بیوپار کا بھی سلیقہ نہ آیا کہ بہترین قیمتی چیز یعنی ایمان دے کر ردی اور تکلیف دہ چیز یعنی کفر خرید لیا،
Top