تفسیر ابنِ کثیر
Tafseer Ibn-e-Kaseer · 40. Al-Ghaafir · Ayah 79
اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَنْعَامَ لِتَرْكَبُوْا مِنْهَا وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ٘﴿79﴾
- اَللّٰهُاللہ
- الَّذِيْ جَعَلَوہ جس نے بنائے
- لَكُمُتمہارے لئے
- الْاَنْعَامَچوپائے
- لِتَرْكَبُوْاتاکہ تم سوار ہو
- مِنْهَاان سے
- وَمِنْهَااور ان سے
- تَاْكُلُوْنَتم کھاتے ہو
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
خدا ہی تو ہے جس نے تمہارے لئے چارپائے بنائے تاکہ ان میں سے بعض پر سوار ہو اور بعض کو تم کھاتے ہو
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
ہر مخلوق خالق کائنات پر دلیل ہے۔
انعام یعنی اونٹ گائے بکری اللہ تعالیٰ نے انسان کے طرح طرح کے نفع کیلئے پیدا کئے ہیں سواریوں کے کام آتے ہیں کھائے جاتے ہیں۔ اونٹ سواری کا کام بھی دے کھایا بھی جائے، دودھ بھی دے، بوجھ بھی ڈھوئے اور دور دراز کے سفر بہ آسانی سے کرا دیئے۔ گائے کا گوشت کھانے کے کام بھی آئے دودھ بھی دے۔ ہل بھی جتے، بکری کا گوشت بھی کھایا جائے اور دودھ بھی پیا جائے۔ پھر ان کے سب کے بال بیسیوں کاموں میں آئیں۔ جیسے کہ سورة انعام سورة نحل وغیرہ میں بیان ہوچکا ہے۔ یہاں بھی یہ منافع بطور انعام گنوائے جا رہے ہیں، دنیا جہاں میں اور اس کے گوشے گوشے میں اور کائنات کے ذرے ذرے میں اور خود تمہاری جانوں میں اس اللہ کی نشانیاں موجود ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اس کی ان گنت نشانیوں میں سے ایک کا بھی کوئی شخص صحیح معنی میں انکاری نہیں ہوسکتا یہ اور بات ہے کہ ضد اور اکڑ سے کام لے اور آنکھوں پر ٹھیکری رکھ لے۔