تفسیر ابنِ کثیر
Tafseer Ibn-e-Kaseer · 4. An-Nisaa · Ayah 62
فَكَیْفَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ ثُمَّ جَآءُوْكَ یَحْلِفُوْنَ١ۖۗ بِاللّٰهِ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّاۤ اِحْسَانًا وَّ تَوْفِیْقًا﴿62﴾
- فَكَيْفَپھر کیسی
- اِذَآجب
- اَصَابَتْھُمْانہیں پہنچے
- مُّصِيْبَةٌکوئی مصیبت
- بِمَااس کے سبب جو
- قَدَّمَتْآگے بھیجا
- اَيْدِيْهِمْان کے ہاتھ
- ثُمَّپھر
- جَآءُوْكَوہ آئیں آپ کے پاس
- يَحْلِفُوْنَقسم کھاتے ہوئے
- بِاللّٰهِاللہ کی
- اِنْکہ
- اَرَدْنَآہم نے چاہا
- اِلَّآسوائے (صرف)
- اِحْسَانًابھلائی
- وَّتَوْفِيْقًااور موافقت
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
تو کیسی (ندامت کی) بات ہے کہ جب ان کے اعمال (کی شامت سے) ان پر کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو تمہارے پاس بھاگے آتے ہیں اور قسمیں کھاتے ہیں کہ والله ہمارا مقصود تو بھلائی اور موافقت تھا