تفسیر ابنِ کثیر
Tafseer Ibn-e-Kaseer · 20. Taa-Haa · Ayah 102
یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ وَ نَحْشُرُ الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ زُرْقًاۚۖ﴿102﴾
- يَّوْمَجس دن
- يُنْفَخُپھونک ماری جائیگی
- فِي الصُّوْرِصور میں
- وَنَحْشُرُاور ہم اکٹھا کرینگے
- الْمُجْرِمِيْنَمجرموں کو
- يَوْمَئِذٍاس دن
- زُرْقًانیلی آنکھیں
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
جس روز صور پھونکا جائے گا اور ہم گنہگاروں کو اکھٹا کریں گے اور ان کی آنکھیں نیلی نیلی ہوں گی
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
صور کیا ہے ؟
رسول اللہ ﷺ سے سوال ہوتا ہے کہ صور کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ ایک قرن ہے جو پھونکا جائے گا۔ اور حدیث میں ہے کہ اس کا دائرہ بقدر آسمانوں اور زمینوں کے ہے حضرت اسرافیل ؑ اسے پھونکیں گے۔ اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا میں کیسے آرام حاصل کروں حالانکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور کا لقمہ بنالیا ہے پیشانی جھکا دی ہے اور انتظار میں ہے کہ کب حکم دیا جائے۔ لوگوں نے کہا پھر حضور ﷺ ہم کیا پڑھیں ؟ فرمایا کہو (وَّقَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ01703) 3۔ آل عمران :173)۔ اس وقت تمام لوگوں کا حشر ہوگا کہ مارے ڈر اور گھبراہٹ کے گنہگاروں کی آنکھیں ٹیڑھی ہو رہی ہوں گی۔ ایک دوسرے سے پوشیدہ پوشیدہ کہہ رہے ہوں گے کہ دنیا میں تو ہم بہت ہی کم رہے زیادہ سے زیادہ شاید دس دن وہاں گزرے ہونگے۔ ہم ان کی اس رازداری کی گفتگو کو بھی بخوبی جانتے ہیں جب کہ ان میں سے بڑا عاقل اور کامل انسان کہے گا کہ میاں دن بھی کہاں کے ؟ ہم تو صرف ایک دن ہی دنیا میں رہے۔ غرض کفار کو دنیا کی زندگی ایک سپنے کی طرح معلوم ہوگی۔ اس وقت وہ قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ صرف ایک ساعت ہی دنیا میں ہم تو ٹھہرے ہوں گے۔ چناچہ اور آیت میں ہے (اَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا يَتَذَكَّرُ فِيْهِ 37) 35۔ فاطر :37) ہم نے تمہیں عبرت حاصل کرنے کے قابل عمر بھی دی تھی پھر ہوشیار کرنے والے بھی تمہارے پاس آچکے تھے۔ اور آیتوں میں ہے کہ اس سوال پر کہ تم کتنا عرصہ زمین پر گزار آئے ؟ ان کا جواب ہے ایک دن بلکہ اس سے بھی کم۔ فی الواقع دنیا ہے بھی آخرت کے مقابلے میں ایسی ہی۔ لیکن اگر اس بات کو پہلے سے باور کرلیتے تو اس فانی کو اس باقی پر اس تھوڑی کو اس بہت پر پسند نہ کرتے بلکہ آخرت کا سامان اس دنیا میں کرتے۔