تفسیر ابنِ کثیر
Tafseer Ibn-e-Kaseer · 16. An-Nahl · Ayah 63
تَاللّٰهِ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَزَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِیُّهُمُ الْیَوْمَ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴿63﴾
- تَاللّٰهِاللہ کی قسم
- لَقَدْ اَرْسَلْنَآتحقیق ہم نے بھیجے
- اِلٰٓىطرف
- اُمَمٍامتیں
- مِّنْ قَبْلِكَتم سے پہلے
- فَزَيَّنَپھر اچھا کردکھایا
- لَهُمُان کے لیے
- الشَّيْطٰنُشیطان
- اَعْمَالَهُمْان کے اعمال
- فَهُوَپس وہ
- وَلِيُّهُمُان کا رفیق
- الْيَوْمَآج
- وَلَهُمْاور ان کے لیے
- عَذَابٌ اَلِيْمٌعذاب دردناک
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
خدا کی قسم ہم نے تم سے پہلی امتوں کی طرف بھی پیغمبر بھیجے تو شیطان نے ان کے کردار (ناشائستہ) ان کو آراستہ کر دکھائے تو آج بھی وہی ان کا دوست ہے اور ان کے لیے عذاب الیم ہے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
شیطان کے دوست
اے نبی ﷺ آپ تسلی رکھیں۔ آپ کو آپ کی قوم کا جھٹلانا کوئی انوکھی بات نہیں کون سا نبی آیا جو جھٹلایا نہ گیا ؟ باقی رہے جھٹلانے والے وہ شیطان کے مرید ہیں۔ برائیاں انہیں شیطانی وسو اس سے بھلائیاں دکھائی دیتی ہیں۔ ان کا ولی شیطان ہے وہ انہیں کوئی نفع پہنچانے والا نہیں۔ ہمیشہ کے لئے مصیبت افزا عذابوں میں چھوڑ کر ان سے الگ ہوجائے گا۔ قرآن حق و باطل میں سچ جھوٹ میں تمیز کرانے والی کتاب ہے، ہر جھگڑا اور ہر اختلاف کا فیصلہ اس میں موجود ہے۔ یہ دلوں کے لئے ہدایت ہے اور ایماندار جو اس پر عامل ہیں، ان کے لئے رحمت ہے۔ اس قرآن سے کس طرح مردہ دل جی اٹھتے ہیں، اس کی مثال مردہ زمین اور بارش کی ہے جو لوگ بات کو سنیں، سمجھیں وہ تو اس سے بہت کچھ عبرت حاصل کرسکتے ہیں۔