تفسیر ابنِ کثیر
Tafseer Ibn-e-Kaseer · 16. An-Nahl · Ayah 33
هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ یَاْتِیَ اَمْرُ رَبِّكَ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ﴿33﴾
- هَلْکیا
- يَنْظُرُوْنَوہ انتظار کرتے ہیں
- اِلَّآمگر (صرف)
- اَنْیہ کہ
- تَاْتِيَهُمُان کے پاس آئیں
- الْمَلٰٓئِكَةُفرشتے
- اَوْ يَاْتِيَیا آئے
- اَمْرُحکم
- رَبِّكَتیرا رب
- كَذٰلِكَایسا ہی
- فَعَلَکیا
- الَّذِيْنَوہ لوگ جو
- مِنْ قَبْلِهِمْان سے پہلے
- وَاور
- مَا ظَلَمَهُمُنہیں ظلم کیا ان پر
- اللّٰهُاللہ
- وَلٰكِنْاور بلکہ
- كَانُوْٓاوہ تھے
- اَنْفُسَهُمْاپنی جانیں
- يَظْلِمُوْنَظلم کرتے
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
کیا یہ (کافر) اس بات کے منتظر ہیں کہ فرشتے ان کے پاس (جان نکالنے) آئیں یا تمہارے پروردگار کا حکم (عذاب) آپہنچے۔ اسی طرح اُن لوگوں نے کیا تھا جو اُن سے پہلے تھے اور خدا نے اُن پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
فرشتوں کا انتظار
اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکوں کو ڈانٹتے ہوئے فرماتا ہے کہ انہیں تو ان فرشتوں کا انتظار ہے جو ان کی روح قبض کرنے کے لئے آئیں گے تاقیامت کا انتظار ہے اور اس کے افعال و احوال کا۔ ان جیسے ان سے پہلے کے مشرکین کا بھی یہی وطیرہ رہا یہاں تک کہ ان پر عذاب الہٰی آپڑے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی حجت پوری کر کے، ان کے عذر ختم کر کے، کتابیں اتار کر، و بال میں گھر گئے۔ اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ خود انہوں نے اپنا بگاڑ لیا۔ اسی لئے ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ آگ جسے تم جھٹلاتے رہے۔