تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 12. Yusuf · Ayah 93

  1. اِذْهَبُوْا بِقَمِیْصِیْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰى وَجْهِ اَبِیْ یَاْتِ بَصِیْرًا١ۚ وَ اْتُوْنِیْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ع﴿93﴾

    1. اِذْهَبُوْاتم جاؤ
    2. بِقَمِيْصِيْمیری قمیص لے کر
    3. هٰذَایہ
    4. فَاَلْقُوْهُپس اس کو ڈالو
    5. عَلٰيپر
    6. وَجْهِچہرہ
    7. اَبِيْمیرے باپ
    8. يَاْتِآئے گا
    9. بَصِيْرًابینا ہوکر
    10. وَاْتُوْنِيْاور میرے پاس آؤ (لے آؤ)
    11. بِاَهْلِكُمْاپنے گھروالوں کو
    12. اَجْمَعِيْنَتمام (سارے)
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
یہ میرا کرتہ لے جاؤ اور اسے والد صاحب کے منہ پر ڈال دو۔ وہ بینا ہو جائیں گے۔ اور اپنے تمام اہل وعیال کو میرے پاس لے آؤ
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
چونکہ اللہ کے رسول حضرت یعقوب ؑ اپنے رنج وغم میں روتے روتے نابینا ہوگئے تھے، اس لئے حضرت یوسف ؑ اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں کہ میرا یہ کرتہ لے کر تم ابا کے پاس جاؤ، اسے ان کے منہ پر ڈالتے ہی انشاء اللہ ان کی نگاہ روشن ہوجائے گی۔ پھر انہیں اور اپنے گھرانے کے تمام اور لوگوں کو یہیں میرے پاس لے آؤ۔ ادھر یہ قافلہ مصر سے نکلا، ادھر اللہ تعالیٰ نے حضرت یعقوب ؑ کو حضرت یوسف کی خوشبو بہنچا دی تو آپ نے اپنے ان بچوں سے جو آپ کے پاس تھے فرمایا کہ مجھے تو میرے پیارے فرزند یوسف کی خوشبو آرہی ہے لیکن تم تو مجھے سترا بہترا کم عقل بڈھا کہہ کر میری اس بات کو باور نہیں کرنے کے۔ ابھی قافلہ کنعان سے آٹھ دن کے فاصلے پر تھا جو بحکم الہی ہوا نے حضرت یعقوب کو حضرت یوسف کے پیراہن کی خوشبو پہنچا دی۔ اس وقت حضرت یوسف ؑ کی گمشدگی کی مدت اسی سال کی گزر چکی تھی اور قافلہ اسی فرسخ آپ سے دور تھا۔ لیکن بھائیوں نے کہا آپ تو یوسف کی محبت میں غلطی میں پڑے ہوئے ہیں نہ غم آپ کے دل سے دور ہو نہ آپ کو تسلی ہو۔ ان کا یہ کلمہ بڑا سخت تھا کسی لائق اولاد کو لائق نہیں کہ اپنے باپ سے یہ کہے نہ کسی امتی کو لائق ہے کہ اپنی نبی سے یہ کہے .