تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 12. Yusuf · Ayah 77

  1. قَالُوْۤا اِنْ یَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَاَسَرَّهَا یُوْسُفُ فِیْ نَفْسِهٖ وَ لَمْ یُبْدِهَا لَهُمْ١ۚ قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا١ۚ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ﴿77﴾

    1. قَالُوْٓابولے
    2. اِنْاگر
    3. يَّسْرِقْاس نے چرایا
    4. فَقَدْ سَرَقَتو چوری کی تھی
    5. اَخٌ لَّهٗاس کا بھائی
    6. مِنْ قَبْلُاس سے قبل
    7. فَاَسَرَّهَاپس اسے چھپایا
    8. يُوْسُفُیوسف
    9. فِيْ نَفْسِهٖاپنے دل میں
    10. وَلَمْ يُبْدِهَااور وہ ظاہر نہ کیا
    11. لَهُمْان پر
    12. قَالَکہا
    13. اَنْتُمْتم
    14. شَرٌّبدتر
    15. مَّكَانًادرجہ میں
    16. وَاللّٰهُاور اللہ
    17. اَعْلَمُخوب جانتا ہے
    18. بِمَا تَصِفُوْنَجو تم بیان کرتے ہو
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
(برادران یوسف نے) کہا کہ اگر اس نے چوری کی ہو تو (کچھ عجب نہیں کہ) اس کے ایک بھائی نے بھی پہلے چوری کی تھی یوسف نے اس بات کو اپنے دل میں مخفی رکھا اور ان پر ظاہر نہ ہونے دیا (اور) کہا کہ تم بڑے بدقماش ہو۔ اور جو تم بیان کرتے ہو خدا اسے خوب جانتا ہے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
بھائی کے شلیتے میں سے جام کا نکلنا دیکھ کر بات بنادی کہ دیکھو اس نے چوری کی تھی اور یہی کیا اس کے بھائی یوسف نے بہی ایک مرتبہ اس سے پہلے چوری کرلی تھی۔ وہ واقعہ یہ تھا کہ اپنے نانا کا بت چپکے سے اٹھا لائے تھے اور اسے توڑ دیا تھا۔ یہ بھی مروی ہے کہ حضرت یعقوب ؑ کی ایک بڑی بہن تھیں، جن کے پاس اپنے والد اسحاق ؑ کا ایک کمر پٹہ تھا جو خاندان کے بڑے آدمی کے پاس رہا کرتا تھا۔ حضرت یوسف ؑ پیدا ہوتے ہی اپنی ان پھوپھی صاحبہ کی پرورش میں تھے۔ انہیں حضرت یوسف ؑ سے کمال درجے کی محبت تھی۔ جب آپ کچھ بڑے ہوگئے تو حضرت یعقوب ؑ نے آپ کو لے جانا چاہا۔ بہن صاحبہ سے درخواست کی۔ لیکن بہن نے جدائی و ناقابل برداشت بیان کر کے انکار کردیا۔ ادھر آپ کے والد صاحب حضرت یعقوب ؑ کے شوق کی بھی انتہا نہ تھی، سر ہوگئے۔ آخر بہن صاحبہ نے فرمایا اچھا کچھ دنوں رہنے دو پھر لے جانا۔ اسی اثنا میں ایک دن انہوں نے وہی کمر پٹہ حضرت یوسف ؑ کے کپڑوں کے نیچے چھپا دیا، پھر تلاش شروع کی۔ گھر بھر چھان مارا، نہ ملا، شور مچا، آخر یہ ٹھری کہ گھر میں جو ہیں، ان کی تلاشیاں لی جائیں۔ تلاشیاں لی گئیں۔ کسی کے پاس ہو تو نکلے آخر حضرت یوسف ؑ کی تلاشی لی گئی، ان کے پاس سے برآمد ہوا۔ حضرت یعقوب ؑ کو خبر دی گئی۔ اور ملت ابراہیمی کے قانون کے مطابق آپ اپنی پھوپھی کی تحویل میں کر دئے گئے۔ اور پھوپھی نے اس طرح اپنے شوق کو پورا کیا۔ انتقال کے وقت تک حضرت یوسف ؑ کو نہ چھوڑا۔ اسی بات کا طعنہ آج بھائی دے رہے ہیں۔ جس کے جواب میں حضرت یوسف ؑ نے چپکے سے اپنے دل میں کہا کہ تم بڑے خانہ خراب لوگ ہو اس کے بھائی کی چوری کا حال اللہ خوب جانتا ہے۔