تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 12. Yusuf · Ayah 78

  1. قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَیْخًا كَبِیْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ﴿78﴾

    1. قَالُوْاکہنے لگے
    2. يٰٓاَيُّهَااے
    3. الْعَزِيْزُعزیز
    4. اِنَّبیشک
    5. لَهٗٓاس کا
    6. اَبًاباپ
    7. شَيْخًابوڑھا
    8. كَبِيْرًابڑی عمر کا
    9. فَخُذْپس لے (رکھ لے)
    10. اَحَدَنَاہم میں سے ایک
    11. مَكَانَهٗاس کی جگہ
    12. اِنَّا نَرٰىكَہم دیکھتے ہیں بیشک تجھے
    13. مِنَسے
    14. الْمُحْسِنِيْنَاحسان کرنے والے
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
وہ کہنے لگے کہ اے عزیز اس کے والد بہت بوڑھے ہیں (اور اس سے بہت محبت رکھتے ہیں) تو (اس کو چھوڑ دیجیےاور) اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجیئے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آپ احسان کرنے والے ہیں
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
جب بنیامین کے پاس سے شاہی مال برآمد ہوا اور ان کے اپنے اقرار کے مطابق وہ شاہی قیدی ٹھر چکے تو اب انہیں رنج ہونے لگا۔ عزیز مصر کو پرچانے لگے اور اسے رحم دلانے کے لئے کہا کہ ان کے والد ان کے بڑے ہی دلدادہ ہیں۔ ضعیف اور بوڑھے شخض ہیں۔ ان کا ایک سگا بھائی پہلے ہی گم ہوچکا ہے۔ جس کے صدمے سے وہ پہلے ہی سے چور ہیں اب جو یہ سنیں گے تو ڈر ہے کہ زندہ نہ بچ سکیں۔ آپ ہم میں سے کسی کو ان کے قائم مقام اپنے پاس رکھ لیں اور اسے چھوڑ دیں آپ بڑے محسن ہیں، اتنی عرض ہماری قبول فرما لیں۔ حضرت یوسف ؑ نے جواب دیا کہ بھلا یہ سنگدلی اور ظلم کیسے ہوسکتا ہے کہ کرے کوئی بھرے کوئی۔ چور کو روکا جائے گا نہ کہ شاہ کو ناکردہ گناہ کو سزا دینا اور گنہگار کو چھور دینا یہ تو صریح ناانصافی اور بدسلوکی ہے۔