تفسیر ابنِ کثیر
Tafseer Ibn-e-Kaseer · 11. Hud · Ayah 91
قَالُوْا یٰشُعَیْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ وَ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْنَا ضَعِیْفًا١ۚ وَ لَوْ لَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنٰكَ١٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْنَا بِعَزِیْزٍ﴿91﴾
- قَالُوْاانہوں نے کہا
- يٰشُعَيْبُاے شعیب
- مَا نَفْقَهُہم نہیں سمجھتے
- كَثِيْرًابہت
- مِّمَّا تَقُوْلُان سے جو تو کہتا ہے
- وَاِنَّااور بیشک ہم
- لَنَرٰىكَتجھے دیکھتے ہیں
- فِيْنَااپنے درمیان
- ضَعِيْفًاضعیف (کمزور)
- وَلَوْاور اگر
- لَا رَهْطُكَتیرا کنبہ نہ ہوتا
- لَرَجَمْنٰكَتجھ پر پتھراؤ کرتے
- وَمَآاور نہیں
- اَنْتَتو
- عَلَيْنَاہم پر
- بِعَزِيْزٍغالب
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اُنہوں نے کہا کہ شعیب تمہاری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ تم ہم میں کمزور بھی ہو اور اگر تمہارے بھائی نہ ہوتے تو ہم تم کو سنگسار کر دیتے اور تم ہم پر (کسی طرح بھی) غالب نہیں ہو
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
قوم مدین کا جواب اور اللہ کا عتاب
قوم مدین کے کہا کہ اے شعیب آپ کی اکثر باتیں ہماری سمجھ میں تو آتی نہیں۔ اور خود آپ بھی ہم میں بےانتہا کمزور ہیں۔ سعید وغیرہ کا قول ہے کہ آپ کی نگاہ کم تھی۔ مگر آپ بہت ہی صاف گو تھے، یہاں تک کہ آپ کو خطیب الانبیاء کا لقب حاصل تھا۔ سدی کہتے ہیں اس وجہ سے کمزور کہا گیا ہے کہ آپ اکیلے تھے۔ مراد اس سے آپ کی حقارت تھی۔ اس لیے کہ آپ کے کنبے والے بھی آپ کے دین پر نہ تھے۔ کہتے ہیں کہ اگر تیری برادری کا لحاظ نہ ہوتا تو ہم تو پتھر مار مار کر تیرا قصہ ہی ختم کردیتے۔ یا یہ کہ تجھے دل کھول کر برا کہتے۔ ہم میں تیری کوئی قدر و منزلت، رفعت وعزت نہیں۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا بھائیو تم مجھے میری قرابت داری کی وجہ سے چھوڑ تے ہو۔ اللہ کی وجہ سے نہیں چھوڑتے تو کیا تمہارے نزدیک قبیلے والے اللہ سے بھی بڑھ کر ہیں اللہ کے نبی کو برائی پہنچاتے ہوئے اللہ کا خوف نہیں کرتے افسوس تم نے کتاب اللہ کو پیٹھ پیچھے ڈال دیا۔ اس کی کوئی عظمت و اطاعت تم میں نہ رہی۔ خیر اللہ تعالیٰ تمہارے تمام حال احوال جانتا ہے وہ تمہیں پورا بدلہ دے گا۔