Tafseer-e-Madani - Al-Baqara : 89
وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖۤ اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تَذْبَحُوْا بَقَرَةً١ؕ قَالُوْۤا اَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا١ؕ قَالَ اَعُوْذُ بِاللّٰهِ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ
وَ : اور اِذْ : جب قَالَ : کہا مُوْسٰى : موسیٰ نے لِقَوْمِهٖٓ : اپنی قوم سے اِنَّ : بیشک اللّٰهَ : اللہ تعالیٰ يَاْمُرُكُمْ : حکم دیتا ہے تم کو اَنْ : یہ کہ تَذْبَحُوْا : تم ذبح کرو بَقَرَةً : ایک گائے قَالُوْٓا : انہوں نے کہا اَتَتَّخِذُنَا : کیا تم کرتے ہو ہم سے ھُزُوًا : مذاق قَالَ : اس نے کہا ( موسیٰ ) اَعُوْذُ : میں پناہ مانگتا ہوں بِاللّٰهِ : اللہ کی (اس بات سے اَنْ : کہ اَكُوْنَ : میں ہوجاؤں مِنَ : سے الْجٰهِلِيْنَ : جاہلوں میں سے
اور بلاشبہ ہم ہی نے موسیٰ کو بھی کتاب (ہدایت) عطا کی، اور ہم ہی نے ان کے بعد پے درپے (مختلف) رسول بھیجے، اور ہم ہی نے عیسیٰ بیٹے مریم کو بھی (حق و صداقت کے) کھلے دلائل دئیے، اور ان کو قوت بخشی روح القدس کے ذریعے، تو پھر (تمہاری یہ کیا روش رہی کہ) جب بھی تمہارے پاس کوئی پیغمبر وہ کچھ لے کر آیا، جو تمہارے نفسوں کو نہیں بھایا تو تم لوگ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا ہوگئے، (اور تم نے سرکشی کی) جس کی بناء پر تم نے (حضرات انبیاء کرام کے) ایک گروہ کو جھٹلایا، اور ایک کے تم نے قتل کا ارتکاب کیا،
Top