Ruh-ul-Quran - Al-Baqara : 60
وَ لَمَّا جَآءَهُمْ كِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ١ۙ وَ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۖۚ فَلَمَّا جَآءَهُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِهٖ١٘ فَلَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ
وَلَمَّا : اور جب جَآءَهُمْ : ان کے پاس آئی كِتَابٌ : کتاب مِنْ : سے عِنْدِ اللہِ : اللہ کے پاس مُصَدِّقٌ : تصدیق کرنے والی لِمَا : اس کی جو مَعَهُمْ : ان کے پاس وَکَانُوْا : اور وہ تھے مِنْ قَبْلُ : اس سے پہلے يَسْتَفْتِحُوْنَ : فتح مانگتے عَلَى الَّذِیْنَ : ان پر جنہوں نے کَفَرُوْا : کفر کیا فَلَمَّا : سو جب جَآءَهُمْ : آیا انکے پاس مَا عَرَفُوْا : جو وہ پہچانتے تھے کَفَرُوْا : منکر ہوگئے بِهٖ : اس کے فَلَعْنَةُ اللہِ : سولعنت اللہ کی عَلَى الْکَافِرِیْنَ : کافروں پر
اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب (حضرت) موسیٰ نے پانی کی دعا مانگی اپنی قوم کے واسطے اس پر ہم نے ( موسیٰ (علیہ السلام) کو) حکم دیا کے اپنے اس عصا کو فلاں پتھر پر مارو پس فورا اس سے پھوٹ نکلے بارہ چشمے ( اور بارہ ہی خاندان تھے نبی اسرائیل کے چنانچہ) معلوم کرلیا ہر ہر شخص نے اپنے پانی پینے کا موقع کھاؤ اور (پینے کو) پیو اللہ تعالیٰ کے رزق سے اور حد (اعتدال) سے مت نکلو فساد (وفتنہ) کرتے ہوئے سرزمین میں۔ (ف 1) (60)
1۔ یہ قصہ وادی تیہ میں ہوا وہاں پیاس لگی تو پانی مانگا موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی تو ایک خاص پتھر سے صرف عصا مارنے سے اس میں بارہ چشمے بقدرت خداوندی نکل پڑے۔ اور کھانے وے مراد من وسلوی کا کھانا ہے اور پینے سے یہی پانی پینا ہے اور فساد وفتنہ فرمایا نافرمانی اور ترک احکام۔
Top