Anwar-ul-Bayan - Al-Waaqia : 46
وَ كَانُوْا یُصِرُّوْنَ عَلَى الْحِنْثِ الْعَظِیْمِۚ
وَكَانُوْا : اور تھے وہ يُصِرُّوْنَ : اصرار کرتے عَلَي الْحِنْثِ الْعَظِيْمِ : بڑے گناہ پر
اور بڑے بھاری گناہ پر اصرار کیا کرتے تھے،
﴿ وَ كَانُوْا يُصِرُّوْنَ عَلَى الْحِنْثِ الْعَظِيْمِۚ0046﴾ (اور یہ لوگ بڑے بھاری گناہ پر اصرار کیا کرتے تھے) یعنی شرک اور کفر پر اصرار کرتے تھے اور یوں کہتے تھے کہ ہم ایمان قبول نہیں کریں گے اور ہمیشہ کفر پر جمے رہیں گے۔ ان لوگوں کو توحید قبول کرنے سے بھی سخت انکار تھا اور قیامت قائم ہونے کا بھی سختی سے انکار کرتے تھے اسی لیے اس کے بعد فرمایا ﴿ وَ كَانُوْا يَقُوْلُوْنَ 1ۙ۬ اَىِٕذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ۠ۙ0047﴾ (اور وہ کہتے تھے کہ کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا ہم اٹھائے جائیں گے) یہ بات کہنے سے ان کا مطلب وقوع قیامت کا استبعاد بھی تھا اور انکار بھی۔ وہ یوں بھی کہتے تھے ﴿ اَوَ اٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَ 0048﴾ (کیا ہمارے پرانے باپ دادے بھی اٹھائے جائیں گے) ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا قیامت کی خبر دینے والے اگر یوں کہتے کہ تم مرو گے اور مرتے ہی زندہ کردیئے جاؤ گے تو ایک بات بھی تھی ممکن تھا کہ ہم اسے مان لیتے لیکن یہ تو یوں کہتے ہیں کہ تم اٹھائے جاؤ گے اور تمہارے باپ دادا بھی، یہ تو ہماری سمجھ میں نہیں آیا۔ قال فی الروح والمعنی ایبعث ایضا اٰبائنا علی زیادة الاثبات یعنون انھم اقدم فبعثھم ابعدوابطل۔
Top