Mazhar-ul-Quran - Al-Baqara : 74
وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ اَنْفُسَكُمْ بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ فَتُوْبُوْۤا اِلٰى بَارِئِكُمْ فَاقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ عِنْدَ بَارِئِكُمْ١ؕ فَتَابَ عَلَیْكُمْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ
وَاِذْقَالَ : اور جب کہا مُوْسَىٰ : موسیٰ لِقَوْمِهِ : اپنی قوم سے يَا قَوْمِ : اے قوم اِنَّكُمْ : بیشک تم ظَلَمْتُمْ : تم نے ظلم کیا اَنْفُسَكُمْ : اپنے اوپر بِاتِّخَاذِكُمُ : تم نے بنالیا الْعِجْلَ : بچھڑا فَتُوْبُوْا : سو تم رجوع کرو اِلَىٰ : طرف بَارِئِكُمْ : تمہاراپیدا کرنے والا فَاقْتُلُوْا : سو تم ہلاک کرو اَنْفُسَكُمْ : اپنی جانیں ذَٰلِكُمْ : یہ خَيْرٌ : بہتر ہے لَكُمْ : تمہارے لئے عِنْدَ : نزدیک بَارِئِكُمْ : تمہارا پیدا کرنے والا فَتَابَ : اس نے توبہ قبول کرلی عَلَيْكُمْ : تمہاری اِنَّهُ هُوَ : بیشک وہ التَّوَّابُ : توبہ قبول کرنے والا الرَّحِیْمُ : رحم کرنے والا
پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے ، پس وہ پتھر کی مانند ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ سختی میں اور بیشک پتھروں میں بعض پتھر تو ایسے بھی ہیں جن میں سے پانی کی ندیاں بہہ نکلتی ہیں اور البتہ انہیں پتھروں میں سے وہ پتھر ہیں کہ پھٹ جاتے ہیں پس ان سے پانی نکلتا ہے ، اور البتہ پھتروں میں سے کچھ وہ پتھر (بھی) ہیں جو خدا کے خوف سے (لرز کر) گر پڑتے ہیں اور اللہ تمہارے کاموں سے بیخبر نہیں ہے
تفسیر ابن جریر میں حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب اس شخص نے تھوڑی دیر کے لئے زندہ ہو کر اپنے قاتل کا نام بتلا دیا اور پھر وہ مر گیا تو اس کے قاتل اور اس کے ساتھیوں نے اس پر بھی اس کے قول کو جھٹلادیا اور اس کے قتل سے صاف انکار کردیا ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ ان یہود لوگوں کے دل بالکل پتھر یا پتھر سے بھی زیادہ سخت ہوگئے ہیں ۔ پھتر میں جو نرمی کی باتیں کچھ پائی جاتی ہیں اس قدر بھی ان کے دلوں میں باقی نہیں رہی ۔ آخری آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہود کو یہ تنبیہ کی ہے کہ اپنی سخت دلی کے سبب سے جو کچھ یہ کر رہے ہیں اس سے اللہ غافل نہیں ہے ۔ اس کو سب کی خبر ہے وہ وقت آنے والا ہے کہ ایک دن ان کی پوری خبر لی جاوے گی ۔
Top