خلفائے اندلس
سلطان حکم کی وفات اور اولاد
سلطان حکم کی نسبت خونخواری اور قتل کے عیب و الزام کو خاص طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ مگر اگر نظر غور سے دیکھا جائے تو اس میں شک نہیں کہ حکم نے بہت سے لوگوں کو قتل کرایا۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ جن لوگوں کو قتل کرایا گیا وہ مستحق قتل تھے یا نہیں اور سلطان حکم نے مجبوراً ان کو قتل کرایا یا صرف تفریح طبع کے لیے۔ سلطان حکم نے ۲۵ ذیقعدہ ۲۰۶ھ بروز پنجشنبہ بہ عمر ۵۲ سال چند ماہ وفات پائی اور بیس ۲۰ لڑکے بیس لڑکیاں چھوڑیں۔ سلطان حکم کے بعد اس کا بیٹا عبدالرحمن ثانی یا عبدالرحمن اوسط تخت نشین ہوا۔