خلفائے اندلس
حکم کی سیرت و کردار پر تبصرہ
سلطان حکم بہادر‘ فیاض اور عاقبت اندیش شخص تھا مکاروں اور خفیہ سازشیں کرنے والوں کا دشمن اور اپنے دوستوں کے لیے بہت بامروت اور ہمدرد تھا‘ علماء وفضلاء کا قدردان اور شعراء کامربی تھا۔ میدان جنگ میں مستقل مزاج اور جہاں کہیں معاف کرنے سے اصلاح کی توقع ہو فوراً خطا کار کو معاف کر دیتا تھا۔ وہ اندلس کا ایک جلیل القدر اور عظیم الشان بادشاہ تھا۔ سلطان حکم کے دیندار اور با اللہ تعالیٰ ہونے کا اندازہ اس طرح ہو سکتا ہے کہ اس نے ایک روز اپنے کسی خادم پر ناراض ہو کر حکم دیا کہ اس کا ہاتھ کاٹ ڈالا جائے۔ اتفاقاً اس وقت زیاد بن عبدالرحمن جو ایک عالم شخص تھے آ پہنچے اور سلطان حکم کو مخاطب کر کے فرمایا کہ مالک بن انس نے مرفوعاً روایت کی ہے کہ جو شخص اپنے غیظ و غضب کو باوجود قدرت ضبط کرے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے قلب کو امن و اطمینان سے پر کر دے گا۔۱؎اس کلام کے ختم ہوتے ہی سلطان حکم کا غیظ و غضب کافور ہو گیا اور خادم کی خطا معاف کر دی۔
سلطان حکم کا ۲۷ سالہ عہد حکومت ہنگامہ آرائی اور بے اطمینانی کے عالم میں گزرا‘ اس بے اطمینانی اور بدامنی کے اسباب حکم کے پیدا کئے ہوئے نہ تھے بلکہ قدرتی دار ہونے والی افتادیں تھیں۔ اس زمانہ میں اگر حکم سے کسی قدر کم مستقل مزاج شخص تخت اندلس پر ہوتا تو یقیناً بنوامیہ کی حکومت اندلس سے مٹ جاتی اور وہاں کے مسلمانوں کا انجام خطرناک ہوتا۔ سلطان حکم کا نہایت سخت امتحان قدرت نے لیا اور وہ اس امتحان میں بظاہر کامیاب ہوا۔