خلفائے اندلس
قحط و خشک سالی کی مصیبت اور اس کا انسداد
۲۰۳ھ کے بعد اندلس میں حکم کے لیے امن و امان اور اطمینان کا زمانہ شروع ہوا تھا کیونکہ اب ملک میں نہ کوئی بغاوت تھی نہ کسی حملہ آور عیسائی کو روکنا تھا۔ نہ اور کسی حملہ کا اندیشہ تھا۔ لیکن قضاد و قدر نے یہ تجویز کر دیا تھا کہ حکم کا تمام عہد حکومت مصروفیت اور ہنگامہ آرائی میں بسر ہو چنانچہ اب جب کہ ہر قسم کے حملے ختم ہو چکے تو اندلس پر قحط و خشک سالی کا حملہ ہوا۔ یہ قحط نہایت عظیم الشان تھا اور قحط کی وجہ سے ملک میں چوری و ڈاکہ زنی کی وارداتیں بھی بڑی کثرت سے ہونے لگیں حکم نے جس طرح اب تک اپنے آپ کو ہر ایک موقعہ پر مستقل مزاج اور باحوصلہ ظاہر کیا تھا اسی طرح اس نے اس مصیبت میں بھی اپنی شاہانہ ہمت کا اظہار کیا۔ قحط زدہ لوگوں کی پرورش کے لیے اس نے ہر شہر و قصبے میں محتاج خانے کھلوا دیئے۔ غلہ کے باہر سے منگوانے کا اہتمام کیا جابجا راستوں اور آبادی کی حفاظت کے لیے زائد پولس اور فوجی دستے مقرر کیے۔ اس حالت میں جہاں کہیں کسی اہم بدامنی کی خبر پہنچی خود مع فوج اس طرف پہنچا اور امن و امان قائم کیا غرض اس نے اپنی رعایا کی اس قحط کے زمانہ میں ایسی دستگیری اور مدد کی کہ رعیت کا ہر ایک طبقہ اس سے محبت کرنے لگا اور وہ نفرت بھی جو مولویوں اور مولوی مزاج لوگوں نے اس کے متعلق پھیلا دی تھی دور ہو گئی۔ جو لوگ اس پر اس کی آزاد مزاجی کی وجہ سے زبان طعن دراز کرتے تھے اس کے مداح نظر آنے لگے۔