خلفائے اندلس
عبدالرحمن کی زندگی پر تبصرہ
عبدالرحمن بن امیہ کی زندگی کے حالات نہایت مختصر اور مجمل طور پر بیان ہو چکے ہیں‘ لیکن اس عجیب و غریب اور دنیا کی عظیم الشان شخص کی زندگی کا صحیح تصور کرنے کے لیے یہ حالات کافی نہیں ہیں۔ بیس سال کی عمر تک اس کا غالب شغل کتب بینی اور علمی مجالس کی شرکت تھی۔ فنون سپہ گری سے واقف ہونا ضروری و لازمی سمجھا جاتا تھا‘ بیس سال کی پر راحت زندگی کے بعد اس پر زندگی کا ایک ایسا دور آیا کہ وہ چوروں اور ڈاکوئوں کی طرح اپنے آپ کو چھپاتا پھرتا تھا اور روئے زمین کا ہر ایک انسان جو اس کو نظر آتا تھا‘ اپنا قاتل اور خون کا پیاسا جلاد ہی معلوم ہوتا تھا اس کے پاس کھانے کو روٹی اور پہننے کو کپڑا تک نہ تھا‘ چند سال اس حالت میں گذارنے اور جنگلی صحرائوں اور ملکوں میں آوارہ رہنے کے بعد وہ ایک ملک کا مالک اور بادشاہ بن جاتا ہے‘ لیکن یہ بادشاہت کوئی ترلقمہ یا شربت کا گھونٹ نہ تھا‘ بلکہ مصیبتوں محنتوں کی ایک پوٹ تھی جو اس کے سر پر رکھ دی گئی تھی‘ اگر عبدالرحمن کی جگہ کوئی دوسرا شخص ہوتا تو شروع ہی میں ناکام ہو کر برباد ہو جاتا‘ مگر عبدالرحمن نے عجیب طاقتور دل اور عجیب پست نہ ہونے والی ہمت پائی تھی وہ اندلس میں ایک تنہا اجنبی شخص تھا اس کے ساتھ کسی قوم کو کوئی خصوصی محبت نہ ہو سکتی تھی‘ لیکن اس نے جس دانائی‘ مآل اندیشی‘ دور بینی اور ہوشیاری سے کام لیا ہے‘ یہ اسی کا حصہ تھا۔
ساتھ ہی وہ اعلیٰ درجہ کا سپہ سالار اور شمشیرزن سپاہی ثابت ہوا‘ حالاں کہ اندلس میں داخل ہونے سے پہلے اس کو سپہ سالاری اور تیغ زنی کا کوئی تجربہ نہ تھا اس نے کسی میدان اور کسی لڑائی میں کوئی بھی ایسی غلطی نہیں کی جس پر کوئی تجربہ کار سپہ سالار اعتراض یا نکتہ چینی کر سکے‘ جن لڑائیوں یا مہموں میں اس کے بڑے بڑے تجربہ کار سپہ سالار ناکام رہ جاتے تھے‘ ان مہموں کو عبدالرحمن جا کر فوراً سر کر لیتا تھا‘ کسی موقعہ پر اس کے ہاتھ پائوں نہیں پھولے اور وہ حواس باختہ نہیں ہوا‘ حالاں کہ بارہا اس پر ایسی مصیبتیں نازل ہوئیں اور اس کے خلاف ایسی بغاوتیں مسلسل ہوئیں کہ دوسرا شخص اس کی جگہ ہوتا‘ تو عقل و مذہب کی پابندی میں نہ رہ سکتا‘ یا تو احمقوں کی طرح اپنے آپ کو ہلاک کر دیتا‘ یا بزدلوں کی طرح ذلیل ہو کر بھاگ جاتا‘ مگر حقیقت یہ ہے کہ عبدالرحمن نے اس بات کا موقعہ ہی نہیں دیا کہ اس کی ہمت کی انتہا اور اس کے استقلال کی آخری سرحد کا کسی کو اندازہ ہو سکے اس نے بڑی سے بڑی ہمت دکھائی‘ لیکن اس کے معتدل انداز اور متانت آمیز طرز عمل سے ہمیشہ یہی ظاہر ہوا کہ وہ اس سے بھی بہت بڑھ کر ہمت دکھا سکتا ہے۔
اس نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جس سے اس کی بیوقوفی ثابت ہو سکے بلکہ اس کے ہر کام میں اس قدر دانائی اور دور اندیشی پائی گئی کہ اس سے بڑھ کر دانائی و دور اندیشی کی کسی سے توقع ہی نہیں کی جا سکتی تھی۔
اس کی تمام زندگی یعنی مدت حکمرانی ہم کو جنگ و پیکار کے ہنگاموں سے پر نظر آتی ہے اور کسی کا خیال بھی اس طرف نہیں جا سکتا کہ امیر عبدالرحمن نے اندلس میں کوئی ایسا کام بھی کیا ہو گا جس کی ایک پر امن و امان سلطنت کے سلطان سے توقع ہو سکتی ہے۔ مگر جب یہ معلوم ہوتا ہے کہ امیر عبدالرحمن نے اندلس میں علوم و فنون کے رواج دینے کی کوشش میں کامیابی حاصل کی اور اس ملک کے اندر اپنے خاندان کی حکومت کو مستقل بنانے کے لیے علم کے رواج دینے اور تمام ملک میں مدارس قائم کرنے کو سب سے زیادہ ضروری چیز سمجھا تو انسان حیران رہ جاتا ہے اور اس مدبر و مآل اندیش شخص کی فہم و فراست پر عش عش کرنے لگتا ہے۔
امیر عبدالرحمن نے شہر قرطبہ اور اکثر شہروں کی شہر پناہیں تعمیر کرائیں‘ اندلس کے بہت سے شہروں اور قصبوں میں جہاں ضرورتیں تھیں مسجدیں بنوائیں اور شہر قرطبہ میں ایک ایسی مسجد بنوائی‘ جس کا جواب روئے زمین پر نہیں ہو سکتا تھا اس مسجد کی تعمیر اگرچہ امیر عبدالرحمن اپنی زندگی میں پوری نہیں کر سکا اور ناتمام ہی چھوڑ کر فوت ہوا‘ مگر اس کی بنیاد جس وسیع پیمانے اور خوب صورت طریقے پر اس نے رکھوائی تھی‘ ختم ہونے کے بعد اس کے بانی ہی کی علوہمتی اور بلند نظری پر دلیل ہوئی‘ مسجد قرطبہ کی خوبصورتی اور حسن تدبیر نے بہت سے ضعیف الاعتقاد مسلمانوں کی نگاہ میں اس مسجد کو خانہ کعبہ کی طرح باعظمت و مقدس بنا دیا تھا‘ حالاں کہ تمام مسجدیں ایک ہی مرتبہ رکھتی ہیں۔۱؎
شوق عمارات میں امیر عبدالرحمن کا مرتبہ ہندوستان کے شاہ جہاں سے بڑھ کر ہے تو رائے تدبیر میں وہ ارسطو کا ہمسر نظر آتا ہے‘ ملک اندلس میں اپنی سلطنت کا قائم کر لینا تیمور و نپولین کی فتوحات سے بہت بڑھ چڑھ کر مرتبہ رکھتا ہے‘ علوم و فنون کی سر پرستی میں وہ ہارون الرشید و مامون
۱؎ویسے تو تمام مساجد اللہ کا گھر ہیں اور اس اعتبار سے ان کی حیثیت اور مقام یکساں ہے‘ لیکن فضیلت کے اعتبار سے تین مساجد خصوصی مقام رکھتی ہیں‘ یعنی مکہ مکرمہ کی مسجد الحرام (بیت اللہ شریف)‘ مدینہ طیبہ کی مسجد نبویe اور بیت المقدس (فلسطین)۔ نبی کریمe نے ان تین مساجد کے علاوہ دیگر مساجد کے لیے سفر کرنا منع فرمایا ہے۔ (صحیح بخاری‘ کتاب التہجد‘ حدیث ۱۱۸۹) مسجد حرام میں ایک نماز پڑھنا دوسری مساجد کی نسبت ایک لاکھ نماز سے افضل ہے۔ (صحیح الجامع الصغیر ۲:۷۱۴) مسجد نبویe میں ایک نماز کی ادائیگی سوائے مسجد حرام کے‘ باقی تمام مساجد میں نماز سے ایک ہزار درجہ زیادہ افضل ہے (صحیح بخاری‘ کتاب التہجد‘ حدیث ۱۱۹۰)
الرشید سے کم نہ تھا بلکہ ہارون و مامون کے بعد خاندان عباسیہ میں علوم و فنون کے ایسے قدر دان پیدا نہ ہو سکے‘ لیکن عبدالرحمن کی اولاد میں ایسے لوگ بھی پیدا ہوئے‘ جو ہارون و مامون سے بہت بڑھ کر علوم و فنون کے خادم ہوئے اور اسی لیے قرطبہ نے بغداد سے زیادہ شہرت حاصل کی۔
ابن حیان لکھتا ہے کہ عبدالرحمن بڑا رحم دل اور شائستہ مزاج شخص تھا اس کی تقریر نہایت فصیح و بلیغ‘ اس کی قوت مدر کہ نہایت تیز اور نکتہ رس تھی‘ معاملات میں اپنی رائے جلدی قائم نہ کرتا تھا مگر قائم کر لینے کے بعد پورے استقلال اور مضبوطی کے ساتھ اس کی تکمیل و تعمیل کی طرف متوجہ ہو جاتا تھا‘ وہ عموماً چست و چالاک اور زندہ دل نظر آتا تھا‘ عیش و عشرت سے اس کو سخت نفرت تھی‘ امور مملکت کو دوسروں پر منحصر رکھنے کی بجائے خود سر انجام دیتا تھا‘ مگر اہم معاملات درپیش ہونے پر سلطنت کے تجربہ کار اہل کاروں اور مشیروں سے مشورہ کرتا تھا‘ عبدالرحمن جاں باز‘ دلاور اور صف شکن بہادر تھا‘ میدان جنگ میں سب سے پہلے خود حملہ آور ہوتا تھا‘اس کا چہرہ دوست اور دشمن دونوں کے لیے یکساں ہیبت و جلال ظاہر کرتا تھا‘ جمعہ کے دن جامع مسجد میں خطبہ پڑہتا‘ بیماروں کی عیادت کو جاتا‘ اور عام خوشی کے جلسوں اور شادیوں میں شوق سے شریک ہوتا تھا۔ (تم کلامہ)
امیر عبدالرحمن کے عہد حکومت میں حسب ذیل اشخاص یکے بعد دیگرے حاجب مقرر ہوئے تھے‘ تمام بن علقمہ‘ یوسف بن بخت‘ عبدالکریم بن مہران‘ عبدالرحمن بن مغیث منصور خواجہ سرا‘ امیر عبدالرحمن نے اگرچہ بعض اشخاص کو وزارت پر نامزد کیا مگر اس کا کوئی ایک وزیر ایسا کبھی نہیں ہوا کہ اس نے اسی کے مشوروں پر عمل کیا ہو‘ اس نے ایک مجلس امراء مقرر کر رکھی تھی جس سے انتظام ملکی میں مشورے لیتا تھا اس مجلس مشورت کے ارکان یہ تھے ابوعثمان‘ عبداللہ بن خالد‘ ابوعبیدہ‘ شہید بن عیسیٰ‘ ثعلبہ بن عبید آثم بن مسلم۔