خلفائے اندلس
حلیہ اور اولاد
عبدالرحمن نہایت خوب صورت کشیدہ قامت اور چھریرے بدن کا آدمی تھا‘ رنگ بہت صاف اور بال بھورے رنگ کے تھے‘ بعض مؤرخوں نے لکھا ہے کہ اس کی قوت شامہ کمزور تھی‘ مرتے وقت اس نے نو بیٹیاں اور گیارہ بیٹے چھوڑے‘ جن میں سلیمان سب سے بڑا تھا مگر اس نے ولی عہد اپنے دوسرے بیٹے ہشام کو بنایا تھا‘ سلیمان وہی بیٹھا تھا‘ جس کو فرات کے کنارے سے بغل میں لے کر بھاگا تھا مگر بعض مورخین نے لکھا ہے کہ وہ اندلس میں آنے سے پہلے ہی فوت ہو چکا تھا۔
بہر حال مرتے وقت جو بیٹے موجود تھے ان میں سلیمان سب سے بڑا تھا‘ ہشام اپنے بھائی سلیمان سے زیادہ لائق اور تاج و تخت سلطنت کے سنبھالنے کی زیادہ قابلیت رکھتا تھا‘ اسی لیے عبدالرحمن نے اس کو اپنا ولی عہد بنایا تھا۔