خلفائے اندلس

عبدالرحمن کی وفات

شارلیمین سے صلح ہو جانے کے بعد امیر عبدالرحمن کے لیے اب کوئی کام باقی نہ رہا تھا‘ کیونکہ بظاہر ملک میں اس کا رعب و اقتدار بخوبی قائم ہو چکا تھا اور سرکشوں کو اچھی طرح مسل دیا گیا تھا‘ لیکن پھر بھی امیر عبدالرحمن کو چین سے بیٹھنا نصیب نہ ہوا۔ ۱۷۱ھ میں اس کے خادم بدر اور اس کے بعض رشتہ داروں اور ہم قوموں نے اس کے خلاف ایک سازش کی اور تخت اندلس پر خود قبضہ کرنے کی تدبیریں سوچنے لگے۔ ممکن ہے کہ خلافت عباسیہ کی کسی خفیہ تحریک کا یہ اثر ہو یا اندلس کی روایات قدیمہ نے ان مخلصین کو غداری پر آمادہ کیا ہو‘ بہر حال امیر عبدالرحمن نے ان لوگوں کو یہی سزاد دینی مناسب سمجھی کہ ان کو اندلس سے خارج کر کے افریقہ کی طرف بھیج دیا۔ اس کے بعد عبدالرحمن تمام ان کاموں سے جو اس کے ہاتھ سے ہونے والے تھے فارغ ہو چکا تھا‘ ربیع الثانی ۱۷۲ھ میں تنیتیس (۳۳) سال چار مہینے حکومت کرنے کے بعد ۵۸ یا ۵۹ سال کی عمر میں فوت ہوا اور اس کی وصیت کے موافق اس کا بیٹا ہشام تخت نشین ہوا۔