امیران اندلس
آپس کی پھوٹ
بلج بن بشتری یا بلج بن بشر کے اندلس پر قابض ہونے کے بعد عبدالملک بن قطن فہری کے دو بیٹوں‘ امیہ بن عبدالملک اور قطن بن عبدالملک نے خفیہ طور پر اپنی قوم کے لوگوں کو بلج بن بشر کے خلاف مجتمع کرنا شروع کیا‘ یوسف بن عبدالرحمن عامل ناربون بھی جس کا ذکر اوپر آ چکا ہے‘ عبدالملک کے بیٹوں کا شریک ہو گیا‘ یوسف بن عبدالرحمن کی شرکت اور شامیوں کی حکومت کے آئندہ خطرناک تصور کا یہ اثر ہوا کہ بہت سے بربری لوگ بھی چند روز پہلے عبدالملک کی مخالفت پر آمادہ ہوئے تھے‘ عبدالملک کے بیٹوں اور فہریوں کے ساتھ آ کر شامل ہو گئے اور قرطبہ کی طرف بڑھے‘ ادھر بلج بن بشر بھی اپنی فوج کو فراہم کر کے مقابلہ پر مستعد ہوا۔
بلج کی فوج میں بارہ ہزار شامی اور ملک اندلس کے اکثر عرب شامل تھے‘ دونوں فوجوں کا سخت مقابلہ ہوا‘ یہاں مسلمانوں کی دو زبردست فوجیں وسط اندلس میں ایک دوسرے سے لڑ رہی تھیں‘ وہاں عیسائی لوگ ملک فرانس میں یہ تدبیریں سوچ رہے تھے کہ مسلمانوں سے اپنے ملک کو آزاد کرایا جائے‘ غرض لڑائی میں امیر بلج خطرناک طور پر زخمی ہوا‘ اور گھوڑے سے گر کر بے ہوش ہو گیا‘ مگر شامیوں کی اس بے سردار فوج نے آخر دشمنوں کو شکست دے کر بھگا دیا‘ اگلے روز امیر بلج نے زخموں کی اذیت سے وفات پائی‘ یہ واقعہ ۱۲۴ھ کا ہے‘ امیر بلج نے اندلس میں گیارہ مہینے حکومت کی‘ امیر بلج کے بعد شامیوں اور عربوں نے مل کر ثعلبہ بن سلامہ کو امارت اندلس کے لیے منتخب کیا۔