امیران اندلس

عبدالملک بن قطن کا قتل

ادھر اندلس میں جب یہ خبر پہنچی کہ افریقہ میں بربریوں کو خوب قتل کیا گیا ہے تو اندلس کے بربریوں نے متفق و متحد ہو کر عبدالملک بن قطن پر حملہ کیا‘ بربری لوگ صوبہ جلیقیہ اور اراگون میں بہ کثرت آباد تھے‘ صوبہ جلیقیہ شمال و مغرب میں تھا‘ اور اراگون یا ارغون شمال و مشرق میں‘ دونوں طرف سے بربریوں نے قرطبہ پر حملہ کیا اور عبدالملک بن قطن کو کئی شکستیں دیں۔ بربریوں کے اس فتنہ کا فرو کرنا جب امیر عبدالملک بن قطن نے اپنی طاقت سے باہر دیکھا تو مجبوراً بلج بن بشر بن عیاض قشیری سے‘ جو کلثوم بن عیاض کا بھتیجا اور کلثوم کے بعد مذکورہ دس ہزار شامی فوج کا افسر تھا‘ امداد طلب کی اور لکھا کہ اندلس آ کر ان بربریوں کے فتنے کو فرو کرانے میں ہماری امداد کرو‘ تو ہم اس کا کافی صلہ تم کو دیں گے‘ بلج بن بشر نے افریقہ کے جدید گورنر حنظلہ کے پاس رہنے کی نسبت اندلس میں جانا مناسب سمجھا‘ وہاں پہنچ کر بربری لشکروں کو شکستیں دے کر چند روز میں اس فتنے کو فرو کر دیا۔ اب اس شامی لشکر نے جب اندلس کے عربوں سے قلعہ سبطہ میں اپنی فاقہ کشی اور عبدالملک بن قطن کی سنگ دلی کا حال سنایا تو عام طور پر لوگ عبدالملک کے خلاف ہو گئے‘ بلج بن بشر نے اہل اندلس کو اپنے موافق دیکھ کر عبدالملک بن قطن کو گرفتار کر لیا‘ بلج عبدالملک کو قید رکھنا چاہتا تھا‘ مگر اس کے ہمراہیوں اور عبدالملک کے دشمنوں نے بلج کو دھمکیاں دے کر مجبور کر دیا اور یہ سو برس کا بوڑھا شخص قتل کیا گیا‘ یہ واقعہ ۱۲۳ھ کے آخر ایّام کا ہے۔