دوسری فصل

حکومت اغلبیہ (افریقیہ)

۱۷۴ھ سے صوبہ افریقہ (ٹیونس) بھی خلافت عباسیہ سے آزاد ہو گیا اور ابراہیم بن اغلب کی اولاد نے سو سال سے زیادہ عرصہ تک بڑی شان و شوکت کے ساتھ حکومت کی‘ ۲۱۹ھ میں سلطنت اغلبیہ نے جزیرہ صقلیہ کو عیسائیوں سے فتح کر کے اپنی حکومت میں شامل کر لیا اور آخر تک اس پر قابض و متصرف رہی‘ اس خاندان میں بعض بڑے ذی حوصلہ اور لائق فرماں روا گذرے ہیں‘ جب اس ملک میں عبیدیوں نے خروج کیا تو حکومت اغلبیہ ہی کی بنیادوں پر اپنی سلطنت قائم کی اور سلطنت ادریسیہ کی خود مختاری کو سلب کر کے حکومت اغلبیہ کے دارالسلطنت قیروان کو اپنا دارالسلطنت بنایا‘ یہاں تک کہ وہ مصر پر بھی قابض ہوئے‘ اور پھر مصر میں اپنا دارالحکومت تبدیل کر لیا‘ سلطنت اغلبیہ کی تاریخ‘ داراسلطنت ادریسیہ سے زیادہ دلچسپ ہے‘ ۲۹۲ھ میں اس سلطنت کا خاتمہ ہو گیا۔ اس خاندان نے نہ صرف جزیرہ صقلیہ (سسلی) ہی کو فتح کیا‘ بلکہ مالٹا اور سار ڈینیہ کو بھی فتح کر لیا تھا‘ ان کی بحری طاقت بہت زبردست تھی اور تمام بحر روم پر سلاطین اغلبیہ کا قبضہ تھا‘ بعض اوقات ان کے جہاز یونان و اٹلی و فرانس کے ساحلوں پر بھی تاخت و تاراج کر آتے تھے۔