دوسری فصل
حکومت زیادیہ یمن
۲۰۳ھ میں محمد بن زیاد جو زیاد بن ابی سفیان کی اولاد سے تھا‘ یمن کا حاکم مقرر ہوا‘ اس کے خاندان میں ۴۰۲ھ تک یمن کی حکومت رہی‘ محمد بن زیاد نے زبید نامی شہر آباد کر کے اس کو اپنا دارالحکومت بنایا‘ یمن کے متصلہ صوبہ تہامہ کو بھی اس نے بزور شمشیر فتح کیا‘ حضر موت تک کا علاقہ بھی فتح کر لیا تھا‘ اس خاندان میں بعض بہت با اقبال‘ اور صاحب جبروت بادشاہ ہوئے۔
۲۸۸ھ میں ان کی سلطنت کا ایک ٹکڑا کاٹ کر علویوں نے زید یہ حکومت قائم کی‘ اس کے بعد بتدریج اس سلطنت کے حدود مختصر ہوتے گئے‘ زیادیہ سلطنت اگرچہ خود مختار تھی‘ مگر خلفاء عباسیہ کے نام کا خطبہ اس میں پڑھا جاتا تھا‘ زیادیہ کے علاوہ جب یمن کے ایک حصہ میں زیدیہ حکومت قائم ہوئی تو اس نے اپنی حدود حکومت میں اس خطبہ کو بھی اڑا دیا‘ سلطنت زیادیہ جب کمزور ہو گئی تو اس کے غلاموں اور غلاموں کے غلاموں نے حکمرانی شروع کر دی‘ اس کے بعد یمن میں یکے بعد دیگرے بہت سے خاندانوں نے حکومت کی‘ خاندان زیادیہ کی تاریخ دلچسپی سے خالی نہیں ہے۔
زیادیہ کے بعد یمن میں یعفوریہ‘ نجاحیہ‘ صیلحیہ‘ ہمدانیہ‘ مہدیہ‘ زوریہ‘ ایوبیہ‘ رسولیہ‘ طاہریہ وغیرہ خاندان یکے بعد دیگرے ۱۰۰۰ھ تک خود مختارانہ حکمراں رہے‘ ان میں بعض خاندان شیعہ اور بعض سنی تھے‘ ان کی تاریخیں اپنے اندر کوئی نمایاں دلچسپی نہیں رکھتیں۔