یزید بن معاویہ

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے تنہا رہ جانے کے بعد جس بہادری و جواں مردی کے ساتھ دشمنوں پر حملے کئے ہیں ان حملوں کی شان دیکھنے والا ان کے ہمرائیوں میں کوئی نہ تھا‘ مگر عمرو بن سعد اور شمر ذی الجوشن آپس میں ایک دوسرے سے کہہ رہے تھے کہ ہم نے آج تک ایسا بہادر و جری انسان نہیں دیکھا‘ اس غم کی داستان اورروح کو مضمحل کر دینے والی کہانی کا خلاصہ یہ ہے کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے جسم پر پینتالیس زخم تیر کے تھے‘ مگر آپ برابر دشمنوں کا مقابلہ کئے جا رہے تھے‘ ایک دوسری روایت کے موافق ۳۳ زخم نیزے کے اور ۴۳ زخم تلوار کے تھے اور تیروں کے زخم اس کے علاوہ تھے۔ شروع میں آپ گھوڑے پر سوار ہوکر حملہ آور ہوتے رہے تھے‘ لیکن جب گھوڑا مارا گیا‘ تو پھر پیدل لڑنے لگے‘ دشمنوں میں کوئی شخص یہ نہیں چاہتا تھا‘ کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ میرے ہاتھ سے شہید ہوں‘ بلکہ ہر شخص آپ کے مقابلہ سے بچتا اور طرح دیتا تھا‘ آخر شمر ذی الجوشن نے چھ شخصوں کو ہمراہ لے کر آپ پر حملہ کیا‘ ان میں سے ایک نے شمشیر کا ایسا وار کیا کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا بایاں ہاتھ کٹ کر الگ گر پڑا‘ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے اس پر جوابی وار کرنا چاہا لیکن آپ کا داہنا ہاتھ بھی اس قدر قبیح و مجروح ہو چکا تھا کہ تلوار نہ اٹھا سکے‘ پیچھے سے سنان بن انس نخعی نے آپ کے نیزہ مارا جو شکم پار ہو گیا‘ آپ نیزہ کا یہ زخم کھا کر گئے‘ اس نے نیزہ کھینچا اور اس کے ساتھ ہی آپ کی روح بھی کھینچ گئی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون اس کے بعد شمر نے یا شمر کے حکم سے دوسرے شخص نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا سر جسم سے جدا کیا اورعبیداللہ بن زیاد کے حکم کی تعمیل کے لیے بارہ سوار متعین کئے گئے‘ ان سے گھوڑے کی ٹاپوں سے آپ کے جسد مبارک کو خوب کچلوایا‘ پھر خیمہ کو لوٹا‘ آپ کے اہل بیت کو گرفتار کیا‘ زین العابدین جو لڑکے تھے‘ شمر ذی الجوشن کی نظر پڑی تو ان کو اس نے قتل کرنا چاہا‘ مگر عمرو بن سعد نے اس کو اس حرکت سے باز رکھا۔ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کا سر مبارک اور آپ کے اہل بیت کوفہ میں ابن زیاد کے پاس بھیجے گئے‘ کوفہ میں ان کو تشہیر کیا گیا‘ ابن زیاد نے دربار کیا اور ایک طشت میں رکھ کر امام حسین رضی اللہ عنہ کا سر اس کے سامنے پیش ہوا‘ اس نے اس سر کو دیکھ کر گستاخانہ کلمات کہے۔ پھر تیسرے روز شمر ذی الجوشن کو ایک دستہ فوج دے کر اس کی نگرانی میں یہ قیدی اور سر مبارک یزید کے پاس دمشق کی جانب روانہ کیا۔ علی بن حسین یعنی سیدنا زین العابدین اور تمام عورتیں جب یزید کے پاس پہنچے اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا سر مبارک اس نے دیکھا تو وہ سر دربار رو پڑا اور عبیداللہ بن زیاد کو گالیاں دے کر کہنے لگا کہ اس پسر سمیہ کو میں نے یہ حکم کب دیا تھا کہ حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو قتل کر دینا‘ پھر شمر ذی الجوشن اور عراقیوں کی طرف مخاطب ہو کر کہنے لگا کہ میں تمہاری اطاعت و فرماں برداری سے ویسے ہی خوش تھا‘ تم نے حسین بن علی رضی اللہ عنھما کو کیوں قتل کیا‘ شمر ذی الجوشن اور اس کے ہمراہی اس توقع میں تھے کہ یزید ہم کو انعام دے گا اور ہماری عزت بڑھائے گا مگر یزید نے کسی کو کوئی انعام و صلہ نہیں دیا اور اپنی ناخوشی و ناراضی کا اظہار کر کے سب کو واپس لوٹا دیا۔ پھر درباریوں سے مخاطب ہو کر کہنے لگا کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی ماں میری ماں سے اچھی تھیں ان کے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تمام رسولوں سے بہتر اور اولاد آدم کے سردار ہیں‘ لیکن ان کے باپ علی رضی اللہ عنہ اورمیرے باپ معاویہ رضی اللہ عنہ میں جھگڑا ہوا‘ اسی طرح میرے اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے درمیان نزاع ہوا‘ علی رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ دونوں کہتے تھے کہ جس کے باپ دادا اچھے ہوں وہ خلیفہ ہو‘ اور قرآن شریف کی اس آیت پر انہوں نے غور نہیں فرمایا کہ { قل اللھم ملک الملک توتی الملک من تشاء وتنزع الملک ممن تشآء} آخر سب کو معلوم ہو گیا کہ خدائے تعالیٰ نے ہمارے حق میں فیصلہ کیا‘ یا ان کے حق میں۔ اس کے بعد ان قیدیوں کو آزادی دے کر بطور معزز مہمان اپنے محل میں رکھا‘ عورتیں اندر عورتوں میں گئیں‘ تو انہوں نے دیکھا کہ یزید کے محل سرا میں بھی اسی طرح ماتم برپا ہے اور سب عورتیں رو رہی ہیں‘ جس طرح سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی بہن اپنے بھائی اور عزیزوں کے لیے رو رہی تھیں‘۱؎ چند روز شاہی مہمان رہ کر یہ برباد شدہ قافلہ مدینہ کی طرف روانہ ہوا۔ یزید نے ان کو ہر قسم کی مالی امداد دی‘ اور علی بن حسین رضی اللہ عنہ سے ہر قسم کی امداد کا وعدہ کیا‘ کہ جب تم لکھو گے تمہاری فرمائش کی ضرور تعمیل کی جائے گی۔