یزید بن معاویہ

عبیداللہ بن زیاد کی مایوسی

عبیداللہ بن زیاد کو توقع تھی کہ قتل حسین رضی اللہ عنہ کے بعد میری خوب قدر دانی ہو گی۔ لیکن یزید نے واقعہ کربلا کے بعد سلم بن زیاد کو خراسان کا حاکم مقرر کر کے ایران کے بعض وہ صوبے بھی جو بصرہ سے تعلق رکھتے تھے مسلم کے ماتحت کر کے اس کو کوفہ کی جانب روانہ کیا‘ اور ایک خط عبیداللہ بن زیاد کے نام لکھ کر دیا کہ تمہارے پاس عراق کی جس قدر فوج ہے اس میں سے چھ ہزار آدمی جس کو سلم پسند کرے اس کے ساتھ کر دو‘ عبیداللہ کو یہ بات ناگوار گذری اور امام حسین رضی اللہ عنہ کے قتل پر افسوس کرنے لگا کہ اگر وہ زندہ ہوتے تو یزید کو میری احتیاج رہتی اور وہ میری عزت و مرتبہ بڑھانے میں کمی نہ کرتا‘ لیکن اب وہ بے فکر ہو گیا ہے‘ اسی لیے اس نے ملک اور فوج دونوں میرے تصرف سے نکالنی شروع کر دیں۔ سلم نے جب لشکر کوفہ کی موجودات لے کر سرداران لشکر سے کہا کہ تم میں سے کون کون میرے ہمراہ خراسان کی طرف چلنا چاہتا ہے‘ تو ہر ایک شخص نے جانے کی خواہش ظاہر کی‘ عبیداللہ بن زیاد نے ۱؎یہ واقعہ حقیقت کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے کہ حسین رضی اللہ عنہ اور خلیفہ یزید کے درمیان غلط فہمیاں سبائی اور منافقین سازشیوں نے پیدا کیں اور یہ کہ خلیفہ یزید کا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا حال سن کر افسوس کرنا اور متعلقہ عمال پر اظہار ناراضگی کرنا بھی حقیقت کشائی کرتا ہے۔ رات کے وقت سرداران لشکر کے پاس آدمی بھیجا اور کہا کہ تعجب ہے کہ تم سلم کو میرے اوپر ترجیح دیتے ہو‘ سرداران لشکر نے جواباً کہلا بھیجوایا کہ آپ کے پاس رہ کر تو اہل بیت نبوی کے خون سے اپنے ہاتھ رنگنے پڑتے ہیں لیکن سلم کے ساتھ جا کر ہم کو ترکوں اور مغلوں کے ساتھ جہاد کرنے کا موقع ملے گا۔ اگلے دن سلم ۶ ہزار چیدہ آدمی لشکر کوفہ سے لے کر خراسان کی طرف روانہ ہوا اور عبیداللہ بن زیاد کو واقعہ کربلا کے بعد ندامت و افسوس کے سوا کچھ اور حاصل نہ ہوا۔