یزید بن معاویہ

حسین رضی اللہ عنہ پر پانی کی بندش

رات کے وقت عبیداللہ بن زیاد کا حکم پہنچا کہ ’’اگر ابھی لڑائی شروع نہیں ہوئی ہے‘ تو اسی وقت جب کہ یہ حکم پہنچے پانی پر قبضہ کر لو اور حسین بن علی رضی اللہ عنھما اور ان کے ساتھیوں کے لیے پانی بند کر دو‘ اور اگر سپاہ شمر کے زیر کمان آگئی ہے تو شمر کو اس حکم کی تعمیل کرنی چاہیئے۔ عمرو بن سعد نے اس حکم کے پہنچتے ہی عمرو بن الحجاج کو پانچ سو سوار دے کر ساحل فرات پر متعین کر دیا‘ اتفاقاً دن میں امام حسین رضی اللہ عنہ کے ہمرائیوں نے پانی اپنے لیے نہیں بھرا تھا‘ ان کے تمام برتن خالی ہو گئے تھے‘ رات کو جب پانی بھرنا چاہا تو معلوم ہوا‘ کہ دشمنوں نے پانی پر قبضہ کر لیا ہے‘ امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی عباس بن علی رضی اللہ عنھما کو پچاس آدمیوں کے ہمراہ پانی لینے کو بھیجا کہ زبردستی پانی لائیں‘ مگر ان ظالموں نے پانی نہ لینے دیا‘ اب دم بدم پیاس کی شدت نے تکلیف پہنچانی شروع کی‘ یہ ایسی اذیت تھی جو تیر و شمشیر کی اذیت سے زیادہ سوہان روح تھی۔ امام حسین رضی اللہ عنہ کے چھوٹے بیٹے علی بن حسین رضی اللہ عنھما بیمار تھے اور خیمے میں پڑے رہتے تھے وہ اور ان کی بہن ام کلثوم رضی اللہ عنھا یہ دیکھ کر کہ صبح کو دشمنوں کا حملہ ہو گا اور تمام عزیز و اقارب جو اس وقت موجود ہیں قتل و شہید ہوں گے‘ رونے لگے‘ ان دونوں کے رونے کی آواز سن کر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ خیمہ کے اندر آئے اور کہا کہ دشمن ہمارے قریب ہی خیمہ زن ہے‘ تمہارے رونے کی آواز سن کر وہ خوش ہوں گے اور ہمراہیوں کے دل تھوڑے ہوں گے‘ تم کو ہر گز ہائے وائے کچھ نہیں کرنی چاہیئے‘ ان کو بہ مشکل خاموش کیا اور باہر آکر فرمایا کہ واقعی بچوں اور عورتوں کو ہمراہ لانے میں ہم سے بڑی غلطی ہوئی ہے‘ ان کو ہر گز ہمراہ نہ لانا چاہیئے تھا۔ اس کے بعد سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے تمام ہمراہیوں کو اپنے سامنے بلا کر کہا کہ تم لوگ یہاں سے جس طرف مناسب سمجھو چلے جائو‘ تم کو کوئی کچھ بھی نہیں کہے گا‘ کیوں کہ دشمن کو صرف میری ذات سے بحث ہے‘ تمہارے چلے جانے کو تو وہ غنیمت سمجھیں گے۔ میں تم سب کو اجازت دیتا ہوں کہ اپنی اپنی جان بچا لو‘ ہمرائیوں نے یہ سن کر کہا کہ ہم ہر گز ہر گز آپ کا ساتھ نہیں چھوڑ سکتے‘ ہم سب آپ کے اوپر قربان ہو جائیں گے‘ اور جب تک ہمارے دم میں دم ہے آپ کو آزار نہ پہنچنے دیں گے۔ اسی شب تھوڑی دیر کے بعد ایک شخص طراح بن عدی جو اس نواح میں آیا ہوا تھا‘ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور ابن سعد کے لشکروں کا حال سن کر امام حسین رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا کہ آپ تنہا میرے ساتھ چلیں‘ میں آپ کو ایک ایسے راستے سے لے چلوں گا کہ کسی کو مطلق اطلاع نہ ہو سکے گی اور آپ کو قبیلہ بنی طے میں لے جا کر پانچ ہزار آدمی اپنے قبیلے کے آپ کی خدمت میں پیش کروں گا‘ آپ ان پانچ ہزار سے جو چاہیں کام لیں‘ امام حسین رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے ابھی ان سب سے کہا تھا کہ مجھ کو تنہا چھوڑ کر تم سب چلے جائو‘ انہوں نے اس بات کو گوارا نہیں کیا‘ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ میں ان سب کو چھوڑ کر تنہا اپنی جان بچا کر نکل جائوں‘ ان کے ہمرائیوں نے کہا کہ ہم لوگوں کو تو وہ کچھ کہیں گے نہیں‘ جیسا کہ آپ ابھی فرما چکے ہیں‘ وہ تو تنہا آپ کے دشمن ہیں‘ لہٰذا آپ اپنی جان بچانے کے لیے نکل جائیں‘ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے کہا کہ عزیزوں اور قریبی رشتہ داروں کے بغیر کوئی چیز بھی گوارا نہیں ہوسکتی‘ میں آپ لوگوں کی معیت کے اپنی جان بچانے کے لیے ہر گز نہ جائوں گا‘ چنانچہ اس شخص کو شکریہ کے ساتھ واپس کر دیا۔ جب صبح ہوئی تو شمر ذی الجوشن اور عمرو بن سعد صفوف لشکر کو آراستہ کر کے میدان میں آئے‘ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے ہمرائیوں کو مناسب ہدایات دے کر متعین کیا‘ شمر ذی الجوشن نے عبیداللہ‘ جعفر‘ عثمان‘ عباس کو میدان میں بلوا کر کہا کہ تم کو امیر زیاد نے امان دے دی ہے‘ انہوں نے کہا کہ ابن زیاد کی امان سے اللہ کی امان بہتر ہے‘ شمر اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔ بعض روایات کے موافق آپ کے ہمراہ اس وقت جب کہ لڑائی ۱۰ محرم ۶۱ھ کی صبح کو شروع ہوئی ہے‘ بہتر آدمی موجود تھے‘ بعض روایات کے موافق ایک سو چالیس اور بعض کے موافق دوسو چالیس تھے‘ بہرحال اگر بڑی سے بڑی تعداد یعنی دو سو چالیس بھی تسلیم کر لیں تو دشمنوں کی ہزارہا جرار فوج کے مقابلے میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھی کوئی حقیقت نہ رکھتے تھے۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اپنے ہمرائیوں کومناسب مقامات پر کھڑا کر کے اور ضروری وصیتیں فرما کر اونٹ پر سوارہوئے‘ اور کوفی لشکر کی صفوف کے سامنے تنہا گئے‘ ان لوگوں کو بلند آواز سے مخاطب ہو کر کے ایک تقریر شروع کی اور فرمایا کہ۔ اے کوفیو! میں خوب جانتا ہوں کہ یہ تقریر کوئی نتیجہ میرے لیے اس وقت پیدا نہ کرے گی اور تم کو جو کچھ کرنا ہے تم اس سے باز نہ آئو گے‘ لیکن میں مناسب سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی حجت تم پر پوری ہو جائے‘ اور میرا عذر بھی تم پر ظاہر ہو جائے۔ ابھی اسی قدر الفاظ کہنے پائے تھے‘ کہ آپ کے خیموں سے عورتوں اور بچوں کے رونے کی آوازیں بلند ہوئیں‘ ان آوازوں کے سننے پر آپ کو سخت ملال ہوا اور سلسلہ کلام کو روک کر اور لاحول پڑھ کر آپ نے کہا۔ کہ عبداللہ بن عباس مجھ سے سچ کہتے تھے کہ عورتوں اور بچوں کو ہمراہ نہ لے جائو‘ مجھ سے غلطی ہوئی کہ میں نے ان کے مشورے پر عمل نہ کیا‘ پھر لوٹ کر اپنے بھائی اور بیٹوں کو پکار کر کہا کہ ان عورتوں کو رونے سے منع کرو‘ اور کہو کہ اس وقت خاموش رہو‘ کل خوب دل بھر کر رو لینا‘ انہوں نے عورتوں کو سمجھایا اور وہ آوازیں بند ہوئیں‘ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے پھر کوفیوں کی طرف متوجہ ہو کر اپنی تقریر اس طرح شروع کی: ’’لوگو! تم میں سے ہر ایک شخص جو مجھ سے واقف ہے اور ہر ایک وہ شخص بھی جو مجھ کو نہیں جانتا‘ اچھی طرح آگاہ ہو جائے‘ کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا نواسا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا بیٹا ہوں‘ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا میری ماں اور جعفر طیار رضی اللہ عنہ میرے چچا تھے‘ اس فخر نسبی کے علاوہ مجھ کو یہ فخر بھی حاصل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھ اور میرے بھائی حسن رضی اللہ عنہ کو جوانان اہل جنت کا سردار بتایا ہے‘ اگر تم کو میری بات کا یقین نہ ہو تو ابھی تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے بہت سے صحابیؓ زندہ ہیں تم ان سے میری اس بات کی تصدیق کر سکتے ہو‘ میں نے کبھی وعدہ خلافی نہیں کی‘ میں نے کبھی نماز قضا نہیں کی‘ اور میں نے کسی مومن کو قتل نہیں کیا اور نہ آزار پہنچایا‘ اگر عیسیٰu کا گدھا بھی باقی ہوتا تو تمام عیسائی قیامت تک اس گدھے کی پرورش اور نگہداشت میں مصروف رہتے‘ تم کیسے مسلمان اورکیسے امتی ہو کہ اپنے رسول کے نواسے کو قتل کرنا چاہتے ہو‘ نہ تم کو اللہ تعالیٰ کا خوف ہے‘ نہ رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی شرم ہے‘ میں نے جب کہ ساری عمر کسی شخص کو بھی قتل نہیں کیا تو ظاہر ہے کہ مجھ پر کسی کا قصاص بھی نہیں‘ پھر تم بتائو کہ تم نے میرے خون کو کس طرح حلال سمجھ لیا ہے‘ میں دنیا کے جھگڑوں سے آزاد ہو کر مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے قدموں میں پڑا تھا‘ تم نے وہاں بھی مجھ کو نہ رہنے دیا‘ پھر مکہ معظمہ کے اندر بیت اللہ میں مصروف عبادت تھا‘ تم کوفیوں نے مجھ کو وہاں بھی چین نہ لینے دیا‘ اورمیرے پاس مسلسل خطوط بھیجے‘ کہ ہم تم کو امارت کاحق دار سمجھتے‘ اور تمہارے ہاتھ پر بیعت خلافت کرنا چاہتے ہیں‘ جب تمہارے بلانے کے موافق میں یہاں آیا تو اب تم مجھ سے برگشتہ ہو گئے‘ اب بھی اگر تم میری مدد کرو‘ تو میںصرف یہ چاہتا ہوں کہ مجھ کو قتل نہ کرو اور آزاد چھوڑ دو تاکہ میں مکہ یا مدینہ میں جا کر مصروف عبادت ہو جائوں اور اللہ تعالیٰ خود اس جہان میں فیصلہ کر دے گا کہ کون حق پر تھا اور کون ظالم تھا‘‘۔ اس تقریر کو سن کر سب خاموش رہے اور کسی نے کوئی جواب نہ دیا‘ تھوڑی دیر انتظار کرنے کے بعد سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ میں نے تم پر حجت پوری کر دی‘ اور تم کوئی عذر پیش نہیں کر سکتے۔ پھر آپ نے ایک ایک کا نام لے کر آواز دی کہ ’’اے شبت بن ربیعی‘ اے حجاج بن الحسن‘ اے قیس بن الاشعت‘ اے حر بن یزید تمیمی‘ اے فلاں و فلاں کیا تم نے مجھ کو خطوط نہیں لکھے تھے‘ اور مجھ کو باصرار یہاں نہیں بلوایا تھا‘ اب جب کہ میں یہاں آیا ہوں‘ تو تم مجھ کو قتل کرنے پر آمادہ ہو۔ یہ سن کر ان سب لوگوں نے کہا کہ ہم نے آپ کو کوئی خط نہیں لکھا اور نہ آپ کو بلایا‘ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے وہ خطوط نکالے اور الگ الگ پڑھ کر سنائے کہ یہ تمہارے خطوط ہیں انہوں نے کہا کہ خواہ ہم نے یہ خطوط بھیجے ہیں یا نہیں بھیجے‘ مگر اب ہم علی الاعلان آپ سے اپنی بیزاری کا اظہار کرتے ہیں‘ یہ سن کر حسین رضی اللہ عنہ اونٹ سے اترے اور گھوڑے پر سوار ہو کر لڑائی کے لیے مستعد ہو گئے۔ کوفی لشکر سے اول ایک شخص میدان میں مقابلہ کی غرض سے نکلا‘ مگر اس کا گھوڑا ایسا بدکا کہ وہ گھوڑے سے گرا اور مر گیا‘ اس کیفیت کو دیکھ کر حربن یزید تمیمی اس انداز سے جیسے کوئی حملہ آور ہوتا ہے اپنی ڈھال سامنے کر کے اور گھوڑا دوڑا کر حسین رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ڈھال پھینک دی‘ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ تو کس لیے آیا ہے‘ اس نے کہا کہ میں وہ شخص ہوں‘ جس نے آپ کو ہر طرف سے گھیر کر اور روک کر واپس نہ جانے دیا اور اس میدان میں قیام کرنے پر مجبور کیا میں اپنی اس خطا کی تلافی میں اب آپ کی طرف سے کوفیوں کا مقابلہ کروں گا‘ آپ میرے لیے مغفرت کی دعا کریں‘ حسین رضی اللہ عنہ نے اس کو دعا دی اور بہت خوش ہوئے۔ شمر ذی الجوشن نے عمرو بن سعد سے کہا کہ اب دیر کیوں کر رہے ہو‘ عمرو بن سعد نے فوراً ایک تیر کمان جوڑ کر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے لشکر کی طرف پھینکا‘ اور کہا کہ تم گواہ رہنا کہ سب سے پہلا تیر میں نے چلایا ہے‘ اس کے بعد کوفیوں کے لشکر سے دو آدمی نکلے‘ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی طرف سے ایک بہادر نے مقابلہ پر جا کر دونوں کو قتل کر دیا‘ پھر اسی طرح لڑائی کا سلسلہ جاری ہوا‘ دیر تک مبارزت کی لڑائی۱؎ ۱؎جنگ مبارزت وہ لڑائی ہوتی تھی‘ جس میں دونوں طرف کے لشکروں میں سے ایک ایک بہادر آدمی باہر نکلتا تھا اور ان دونوں کا مقابلہ ہوتا تھا۔ ان میں سے اگر ایک قتل ہو جاتا تو قتل کرنے والا آدمی اپنے مخالف لشکر کو پھر دعوت دیتا کہ تم میں سے اگر کوئی میرا مقابلہ کرنا چاہتا ہے تو وہ باہر نکلے اور میرا مقابلہ کرے۔ اس طرح دو تین بار مقابلہ  ہوتی رہی اور اس میں کوفیوں کے زیادہ آدمی مارے گئے‘ پھر اس کے بعد سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی طرف سے ایک ایک آدمیوں نے کوفیوں کی صفوں پر حملہ کرنا شروع کیا‘ اس طرح بہت سے آدمیوں کا نقصان ہوا۔ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے ہمرائیوں نے آل ابی طالب کو اس وقت تک میدان میں نہ نکلنے دیا‘ جب تک کہ وہ ایک ایک کر کے سب کے سب نہ مارے گئے‘ آخر میں مسلم بن عقیل کے بیٹوں نے آل ابی طالب پر سبقت کی‘ ان کے بعد سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے بیٹے علی اکبر رضی اللہ عنہ نے دشمنوں پر رستمانہ حملے کئے‘ اور بہت سے دشمنوں کو ہلاک کرنے کے بعد خودبھی شہید ہو گئے‘ ان کے قتل ہونے کے بعد سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے ضبط نہ ہو سکا‘ اور آپ رونے لگے‘ پھر آپ کے بھائی عبداللہ و محمد و جعفر و عثمان نے دشمنوں پر حملہ کیا اور بہت سے دشمنوں کو مار کر خود بھی ایک ہی جگہ ڈھیر ہو گئے‘ آخر میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ایک نو عمر بیٹے محمد قاسم نے حملہ کیا اور وہ بھی مارے گئے۔ غرض کہ حسین رضی اللہ عنہ کے لیے کربلا میں اپنی شہادت اور دوسری تمام مصیبتوں سے بڑھ کر مصیبت یہ تھی کہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے اپنے بھائیوں اور بیٹوں کو شہید ہوتے ہوئے‘ اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو ان روح فرسانظاروں کاتماشا دیکھتے ہوئے دیکھا‘ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے ہمرائیوں اور خاندان والوں نے ایک طرف اپنی بہادری کے نمونے دکھائے‘ تو دوسری طرف وفاداری و جاں نثاری کی بھی انتہائی مثالیں پیش کر دیں‘ نہ کسی شخص نے کمزوری و بزدلی کا اظہار کیا‘ نہ بیوفائی و تن آسانی کا الزام اپنے اوپر لیا‘ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سب سے آخر تنہا رہ گئے تھے‘ خیمہ میں عورتوں کے سوا صرف علی بوسط معروف بہ زین العابدین جو بیمار اور چھوٹے بچے تھے باقی رہ گئے‘ عبیداللہ بن زیاد ظالم نے یہ بھی حکم بھیج دیا تھا کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا سر مبارک کاٹ کر ان کی لاش گھوڑوں سے یہاں تک پامال کرائی جائے کہ ہر ایک عضو ٹوٹ جائے۔