یزید بن معاویہ

حادثہ کربلا

عبیداللہ بن زیاد نے عمرو بن سعد بن ابی وقاص کورے کی حکومت پر نامزد کیا‘ اور فی الحال چار ہزار فوج دے کر مامور کیا کہ صحرا میں نکل کر تمام راستوں اور سڑکوں کی نگرانی کروائو‘ حسین بن علی رضی اللہ عنھما کا کھوج لگائو‘ کہ وہ کس طرف سے آرہے ہیں اور کہاں ہیں اور ایک ہزار آدمی حر بن یزید تمیمی کے سپرد کر کے اس کو بھی گشت و گرد اوری پر مامور کیا‘ عمرو بن سعد مقام قادسیہ میں ہو کر ہر سمت کی خبریں منگوانے کا انتظام کرنے لگا۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ ایک عجیب شش و پنج کے عالم میں مقام سراف تک پہنچے‘ اس سے آگے بڑھے تو حربن یزید تمیمی معہ اپنی ایک ہزار فوج کے سامنے آیا۔ امام حسین رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر حر سے کہا کہ میں تم ہی لوگوں کے بلانے سے یہاں آیا ہوں اگر تم لوگ اپنے عہد و اقرار پر قائم ہو تو میں تمہارے شہر میں داخل ہوں‘ نہیں تو جس طرف سے آیا ہوں اسی طرف واپس چلا جائوں گا‘ حر نے کہا ہم کو عبیداللہ بن زیاد کا حکم ہے کہ آپ کے ساتھ ساتھ رہیں اور آپ کو اس کے سامنے زیر حراست لے چلیں‘ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ ذلت تو ہرگز گوارا نہیں ہو سکتی‘ کہ ابن زیاد کے سامنے گرفتار ہو کر جائیں۔ اس کے بعد انہوں نے واپس ہونے کا ارادہ کیا تو حر نے ابن زیاد کے خوف سے ان کو واپس ہونے سے روکا‘ اور واپسی کے راستے میں اپنی فوج لے کر کھڑا ہو گیا‘ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے وہاں سے شمال کی جانب کوچ کیا اور قادسیہ کے قریب پہنچ گئے‘ وہاں معلوم ہوا کہ عمرو بن سعد ایک بڑی فوج کے ساتھ مقیم ہے حر آپ کے پیچھے پیچھے تھا‘ قادسیہ کے قریب پہنچ کر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ وہاں سے لوٹے اور دس میل چل کر مقام کربلا میں آکر مقیم ہوئے۔ عمرو بن سعد آپ کی خبر سن کر معہ فوج روانہ ہوا اور سراغ لیتا ہوا اگلے روز کربلا پہنچ گیا‘ قریب پہنچ کر عمرو بن سعد اپنی فوج سے جدا ہو کر آگے آیا‘ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو آواز دے کر اپنے قریب بلایا‘ سلام علیک کے بعد ابن سعد نے کہا: ’’بے شک آپ یزید کے مقابلہ میں زیادہ مستحق خلافت ہیں‘ لیکن خدائے تعالیٰ کو یہ منظور نہیں کہ آپ کے خاندان میں حکومت و خلافت آئے‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے حالات آپ کے سامنے گذر چکے ہیں‘ اگر آپ اس سلطنت و حکومت کے خیال کو چھوڑ دیں‘ تو بڑی آسانی سے آزاد ہو سکتے ہیں‘ نہیں تو پھر آپ کی جان کا خطرہ ہے اور ہم لوگ آپ کی گرفتاری پر مامور ہیں‘‘۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’میں اس وقت تین باتیں پیش کرتا ہوں‘ تم ان تین میں سے جس کو چاہو میرے لیے منظور کر لو۔ اول تو یہ کہ جس طرف سے میں آیا ہوں اسی طرف مجھ کو واپس جانے دو‘ تاکہ میں مکہ معظمہ میں پہنچ کر عبادت الٰہی میں مصروف رہوں۔ دوم یہ کہ مجھ کو کسی سرحد کی طرف نکل جانے دو‘ کہ وہاں کفار کے ساتھ لڑتا ہوا شہید ہو جائوں۔ سوم یہ کہ تم میرے راستے سے ہٹ جائو‘ اور مجھ کو سیدھا یزید کے پاس دمشق کی جانب جانے دو‘ میرے پیچھے پیچھے اپنے اطمینان کی غرض سے تم بھی چل سکتے ہو‘ میں یزید کے پاس جا کر براہ راست اس سے اپنا معاملہ اسی طرح طے کر لوں گا‘ جیسا کہ میرے بڑے بھائی سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے طے کیا تھا‘‘۔ عمرو بن سعد یہ سن کر بہت خوش ہوا‘ اور کہا کہ میں بطور خود کوئی پختہ جو اب آپ کو اس وقت ان باتوں کے متعلق نہیں دے سکتا‘ ابھی عبیداللہ بن زیاد کو اطلاع دیتا ہوں‘ یقین ہے کہ وہ ضرور ان میں سے کسی ایک بات کو منظور کر لے گا‘ عمرو بن سعد بھی اسی میدان میں خیمہ زن ہو گیا‘ اور ابن زیاد کو یہ تمام کیفیت لکھ کر بھیجی۔ ۲ محرم ۶۱ھ کو کربلا میں عمرو بن سعد امام حسین رضی اللہ عنہ کے پہنچنے سے اگلے دن جا کر مقیم ہوا تھا‘ اور اسی روز یہ گفتگو ہوئی تھی‘ عبیداللہ بن زیاد عمرو بن سعد کا خط پڑھ کر بہت خوش ہوا اور اس نے کہا کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے وہ بات کی ہے‘ جس سے فتنہ کا دروازہ بالکل بند ہو جائے گا اور وہ یزید کے پاس جا کر بیعت کر لیں گے تو پھر کوئی خطرہ باقی ہی نہ رہے گا۔ لیکن شمرذی الجوشن اس وقت اس کے پاس موجود تھا اس نے کہا اے امیر اس وقت تجھ کو موقع حاصل ہے کہ تو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو بلا تکلف قتل کر دے‘ تجھ پر کوئی الزام عائد نہ ہو گا۔ لیکن اگر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ یزید کے پاس چلے گئے‘ تو پھر ان کے مقابلہ میں تیری کوئی عزت و قدر باقی نہ رہے گی اور وہ تجھ سے زیادہ مرتبہ حاصل کر لیں گے‘ یہ سن کر ابن زیاد نے عمرو بن سعد کو جواب میں لکھا کہ: ’’یہ تینوں باتیں کسی طرح منظور نہیں ہو سکتیں‘ ہاں صرف ایک صورت قابل پذیرائی ہے‘ وہ یہ کہ امام حسین رضی اللہ عنہ اپنے آپ کو ہمارے سپرد کر دیں اور یزید کی بیعت اول نیابتاً میرے ہاتھ پرکریں‘ پھر میں ان کو یزید کے پاس اپنے اہتمام سے روانہ کروں گا‘‘۔ اس جواب کے آنے پر عمرو بن سعد نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو اطلاع دی اور کہا کہ میں مجبور ہوں‘ ابن زیاد خلافت یزید کی بیعت اول اپنے ہاتھ میں چاہتا ہے اورکسی دوسری بات کو منظور نہیں کرتا‘ امام حسین رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس سے تو مر جانا بہتر ہے کہ میں ابن زیاد کے ہاتھ پر بیعت کروں۔ ابن سعد اس کوشش میں مصروف تھا کہ کسی طرح کشت و خون نہ ہو‘ یا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ ہی ابن زیاد کی شرط مان لیں‘ یا ابن زیاد سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی منشاء کے موافق ان کو جانے کی اجازت دے دے۔ اس خط و کتابت اور انکار واصرار میں ایک ہفتہ تک سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور ابن سعد دونوں اپنے اپنے ہمرائیوں کے ساتھ کربلا کے میدان میں خیمہ زن رہے‘ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھی ابن سعد کے لشکریوں کے ساتھ مل کر نمازیں پڑھتے‘ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ صفوں کو درست کرتے‘ ابن زیاد کے پاس جب یہ خبر پہنچی تو اس کو فکر پیدا ہوئی‘ کہ کہیں ابن سعد امام حسین رضی اللہ عنہ سے سازش نہ کرے‘ اس نے فوراً ایک چوب دار جویرہ بن تمیمی کو بلایااور ابن سعد کے نام ایک خط لکھ کر دیا کہ: ’’میں نے تم کو حسین بن علی رضی اللہ عنھما کی گرفتاری پر مامور کیا تھا‘ تمہارا فرض تھا کہ ان کو گرفتار کر کے میرے پاس لاتے یا گرفتار نہ کر سکتے تو ان کا سر کاٹ کر لاتے‘ میں نے تم کو یہ حکم نہیں دیا تھا کہ تم ان کی مصاحبت اختیار کر کے دوستانہ تعلقات بڑھائو‘ اب تمہارے لیے بہتر یہی ہے کہ فوراً بلاتامل خط پڑھتے ہی یا تو حسین بن علی رضی اللہ عنھما کو میرے پاس لائو‘ ورنہ جنگ کر کے ان کا سر کاٹ کر بھیجو‘ اگر ذرا بھی تامل تم سے سرزد ہوا تو میں نے اپنے سر ہنگ کو جو یہ خط لیکر آرہا ہے‘ حکم دیا ہے کہ وہ تم کو گرفتار کر کے میرے پاس پہنچائے اور لشکر وہیں مقیم رہ کر دوسرے سردار کا منتظر رہے‘ جس کو میں تمہاری جگہ مامور کر کے بھیجوں گا‘‘۔ جویرہ یہ خط لے کر جمعرات کے دن ۹ محرم ۶۱ھ کو ابن سعد کے پاس پہنچا‘ ابن سعد اس وقت اپنے خیمہ میں بیٹھا تھا‘ خط پڑھتے ہی کھڑا ہو گیا‘ اور گھوڑے پر سوار ہو کر لشکر کو تیاری کا حکم دیا‘ اور جویرہ بن بدر سے کہا کہ تم گواہ رہنا‘ کہ میں نے امیر کا حکم پڑھتے ہی اس کی تعمیل کی ہے‘ پھر صفوف جنگ آراستہ کر کے جویرہ کو ہمراہ لے کر آگے بڑھا اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو سامنے بلوا کر کہا کہ امیر ابن زیاد کا حکم آیا ہے اگر میں اس کی تعمیل میں ذرا بھی دیر کروں تو یہ قاصد موجود ہے‘ جس کو حکم دیا گیا ہے کہ فوراً مجھ کو قید کر لے۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھ کو کل تک کے لیے اور سوچنے کی مہلت دو‘ ابن سعد نے جویرہ کی طرف دیکھا‘ اس نے کہا کہ کل کچھ دور نہیں ہے‘ اتنی مہلت دے دینی چاہیئے‘ ابن سعد میدان سے واپس آیا اور فوج کو حکم دیا‘ کہ کمر کھول دو‘ آج کوئی لڑائی نہ ہو گی۔ عبیداللہ بن زیاد نے جویرہ بن بدر کے ہاتھ یہ حکم روانہ کرنے کے بعد سوچا‘ اگر ابن سعد نے سستی کی اور جویرہ نے اس کو قید کر لیا تو فوج بغیر افسر منتشر ہو جائے گی اور ممکن ہے کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ ہی سے جا ملے‘ اس صورت میں ضرور وقت و پریشانی کا سامنا ہو گا اور امام حسین رضی اللہ عنہ کو موقع مل جائے گا کہ وہ مکہ کی طرف فرار ہو جائیں اور قابو میں آئے ہوئے نکل جائیں‘ چنانچہ اس نے فوراً شمر ذی الجوشن کو بلوایا اور کہا کہ میں جویرہ کو بھیج چکا ہوں اور اس کو حکم دے دیا ہے کہ اگر ابن سعد لڑائی میں تامل کرے تو اس کو گرفتار کر کے لے آئے‘ ابن سعد کی طرف سے مجھ کو منافقت کا شبہ ہے‘ اگر ابن سعد کو جویرہ نے گرفتار کر لیا تو فوج جو میدان میں پڑی ہوئی ہے‘ سب آوارہ اور ضائع ہو جائے گی‘ میں تجھ سے بہتر اس کام کے لیے دوسرا شخص نہیں پاتا‘ تو میدان کربلا کی طرف جا اور ابن سعد گرفتار ہو چکا ہو تو فوج کی کمان اپنے ہاتھ میں لے‘ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے لڑ کر ان کا سر کاٹ لا‘ اگر ابن سعد گرفتار نہ ہوا ہو اور لڑائی میں تامل کر رہا ہو تو فوراً جاتے ہی لڑائی چھیڑ دے‘ اور کام کو جلدی ختم کر دے‘ شمرذی الجوشن نے کہا کہ میری ایک شرط ہے‘ وہ یہ کہ آپ کو معلوم ہے کہ میری بہن ام نسبین بنت حرام سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیوی تھی‘ جس کے بطن سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے چار بیٹے عبیداللہ‘ جعفر‘ عثمان‘ عباس پیدا ہوئے‘ میرے یہ بھانجے بھی اپنے بھائی حسین رضی اللہ عنہ کے ہمراہ میدان کربلا میں موجود ہیں‘ آپ ان چاروں کو جان کی امان دے دیں‘ عبیداللہ بن زیاد نے اسی وقت کاغذ منگوا کر چاروں کے لیے امان لکھ کر اور مہر لگا کر شمر ذی الجوشن کے سپرد کیا اور اسی وقت اس کو رخصت کر دیا۔ جویرہ رات کے وقت روانہ ہوا تھا اور جمعرات کے دن علی الصبح لشکر گاہ کربلا میں پہنچ گیا تھا‘ شمر صبح کے وقت روانہ ہوا ‘ اور عصر کے وقت پہنچا‘ شمرکے آنے پر تمام کیفیت جو پیش آئی تھی سنا دی‘ شمر نے کہا کہ میں تو ایک لمحہ کی بھی مہلت نہ دوں گا‘ یا تو اسی وقت لڑائی کے لیے تیار ہو جائو ‘ ورنہ لشکر میرے سپرد کر دو‘ ابن سعد اسی وقت سوار ہوا اور شمر کو ہمراہ لے کر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا کہ عبیداللہ بن زیاد نے یہ دوسرا قاصد بھیجا ہے اور مہلت آپ کو بالکل دینا نہیں چاہتا‘ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے کہا کہ سبحان اللہ اب مہلت کے دینے یا نہ دینے کی کیا ضرورت ہے‘ آفتاب تو غروب ہو رہا ہے‘ کیا رات کے وقت بھی تم لوگ جنگ کو کل کے لیے ملتوی نہ رکھو گے‘ یہ سن کر شمر ذی الجوشن نے بھی کل صبح تک کا انتظار مناسب سمجھا‘ اور دونوں اپنے لشکر گاہ کو واپس چلے آئے۔