سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت پر ایک نظر!
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی سلطنت کو جس کا زمانہ بیس سال ہے ضرور کامیاب سلطنت کہا جا سکتا ہے‘ کیوں کہ ان کے زمانہ سلطنت میں کوئی مدعی سلطنت اور ان کارقیب ان پر خروج نہیں کر سکا۔ ان کے زمانہ میں مشرق‘ مغرب‘ شمال‘ جنوب ہر طرف اسلامی حکومت کے رقبہ نے وسعت پائی‘ کوئی ملک اور کوئی علاقہ سلطنت اسلامیہ سے خارج نہیں ہوا اور کوئی ایسی بغاوت اس عرصہ میں نہیں پھوٹی جو قابل تذکرہ ہو۔ ملک میں ڈاکہ زنی اور شورش جیسی کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں عراق و ایران کے اندر پائی جاتی تھی باقی نہیں رہی۔
مسلمانوں نے بحری لڑائیاں شروع کیں اور مسلمانوں کی بحری طاقت کا لوہا بھی رومیوں اور عیسائیوں نے مانا۔ ان کے زمانہ میں زیاد بن ابی سفیان اور بعض دوسرے عاملوں نے عراقیوں اور ایرانیوں پر کسی قدر سختی اور تشدد کو روا رکھا لیکن ان عراقیوں اور ایرانیوں پر اگر سختی اور تشدد نہ ہوتا تو ظلم تھا اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت کا ایک نقص سمجھا جاتا۔
مسلمانوں پر سب سے پہلے امیر معاویہ نے برید مقرر کیے اور ان کے لیے ایک نظام اور آئین مقرر فرمایا جس کو محکمہ ڈاک کہا جاتا ہے۔ سب سے پہلے احکام پر مہر لانے اور ہر حکم کی نقل دفتر میں محفوظ رکھنے کا طریقہ انہوں نے ایجاد کیا اور امیر معاویہ کی مہر پر ’’لکل عمل ثواب‘‘ (یعنی ہر عمل کا ثواب ہے) کندہ تھا۔
خانہ کعبہ پر اب تک غلاف پہلے غلافوں کے اوپر ہی چڑھائے جاتے تھے‘ انہوں نے تمام غلافوں کو اتروایا‘ اور حکم دیا کہ جب نیا غلاف چڑھایا جائے تو پرانا غلاف اتار لیا جائے۔ اسلام میں سب سے پہلے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ہی نے پہرہ دار دربان مقرر کئے‘ انہوں ہی نے سب سے پہلے محکمہ رجسٹری قائم کیا‘ سب سے پہلے انہوں نے ہی نے بحری جہاز بنائے‘ اور بحری فوج تیار کی۔
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اپنی حکومت قائم کرنے اور اپنی قوم اور خاندان کے اقتدار کو بنو ہاشم پر فائق کرنے کے ضرور خواہش مند تھے لیکن ساتھ ہی وہ اپنی اس خواہش کو پورا کرنے میں کسی ایسے شخص کو چیرہ دستی کا موقع نہیں دینا چاہتے تھے جو بنوامیہ اور بنو ہاشم یامعاویہ اور علی دونوں کا یکساں دشمن ہو‘ یا سلطنت اسلامیہ کونقصان پہنچانا چاہتا ہو۔
چنانچہ ایک مرتبہ جب کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان مخالفت کی آگ مشتعل تھی عیسائیوں کی ایک زبردست فوج نے ایران کے شمالی صوبوں پر جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی حکومت میں شامل تھے حملہ کرنا اور مسلمانوں کی نااتفاقی سے خود فائدہ اٹھانا چاہا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس علاقے کو جس پر عیسائیوں کا حملہ ہونے والا تھا بچانے کی کوشش نہیں کر سکتے تھے۔ اگر عیسائیوں کا یہ حملہ ہوتا تو سلطنت اسلامیہ کا ایک وسیع ٹکڑا کٹ کر عیسائی حکومت میں شامل ہو جاتا۔
عیسائی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی مشکلات سے واقف اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے مطمئن تھے۔ کیوں کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی مخالفت اور ایک دوسرے کے خلاف زور آزمائی بھی وہ دیکھ رہے تھے۔ ان کو توقع تھی کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ہماری حملہ آوری سے خوش ہوں گے‘ جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف کی جائے گی۔
لیکن سیدنا معاویہ نے اس خبر کے سنتے ہی عیسائی قیصر کی توقع کے خلاف ایک خط قیصر کے نام بھیجا جس میں لکھا تھا کہ ہماری آپس کی لڑائی تم کو دھوکے میں نہ ڈالے‘ اگر تم نے علی رضی اللہ عنہ کی طرف رخ کیا تو علی رضی اللہ عنہ کے جھنڈے کے نیچے سب سے پہلا سردار جو تمہاری گوشمالی کے لیے آگے بڑھے گا وہ معاویہ رضی اللہ عنہ ہو گا‘ اس خط کا اثر اس سے بھی زیادہ ہوا‘ جو ایک زبردست فوج کے بھیجنے سے ہوتا اورعیسائیوں نے اپنا ارادہ فسخ کر دیا۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی مخالفتوں کی وہ حیثیت اور حقیقت ہر گز نہ تھی‘ جو آج کل جہالت کی وجہ سے مسلمانوں میں مشہور ہے‘ اس کا صحیح اندازہ کرنے کے لیے ہم کو یہ بات فراموش نہیں کر دینی چاہیئے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بھائی عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے مصاحب تھے۔ اور سیدنا علی کو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بھائی زیاد بن ابی سفیان پر پورا اعتماد تھا۔ اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سردربار برا بھلا کہہ سکتے تھے اور ہمیشہ امیر معاویہ کی طرف سے مورد الطاف رہتے تھے۔
۱؎یہ بھی جھوٹا واقعہ ہے‘ صحیح سند سے ثابت نہیں۔