سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ

ایک خدشہ کا جواب

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کا تذکرہ ختم کرنے سے پیشتر ایک خدشہ کا جواب دینا ضروری معلوم ہوتا ہے اور وہ یہ کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے تربیت کردہ‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے اہل بیت میں شامل‘ آپ کے ساتھ ہمیشہ رہنے والے اور آپ کے چچازاد بھائی اور داماد تھے۔ سیدنا امیر معاویہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے کاتب وحی‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے دوست‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے سالے یعنی سیدنا ام حبیبہ رضی اللہ عنھا کے بھائی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابی تھے‘ ان دونوں یعنی علی و معاویہ رضی اللہ عنھما میں مخالفت اور لڑائی کیوں ہوئی‘ پھر عمرو بن العاص‘ طلحہ‘ زبیر رضی اللہ عنھم ‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا وغیرہ صحابہ کی ایک معقول تعداد نے ان آپس کی مخالفتوں اور لڑائیوں جھگڑوں میں کیوں حصہ لیا‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے ان مشاجرات اور آج کل کے دنیاداروں کی لڑائیوں میں بظاہر کوئی فرق نظر نہیں آتا‘ پس کیوں نہ تسلیم کیا جائے کہ ان لوگوں پر صحبت نبوی صلی اللہ علیہ و سلم کا وہ اثر نہیں ہوا‘ جو ہونا چاہیئے تھا۔ اس خدشہ کا جواب یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم میں سے ہر ایک صحابی یقینا نجم ہدایت ہے اور اس بزرگ و برتر پاک جماعت پر صحبت نبوی صلی اللہ علیہ و سلم کا بے شبہ و شک و ریب وہی اثر ہوا ہے جو ہونا چاہیئے تھا۔ ہماری کوتاہ فہمی اور تنگ نظری ہے کہ ہمارے قلوب اس قسم کے شکوک و شبہات کامقام و مسکن بن جاتے ہیں‘ سنو اور غور سے سنو‘ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جو شریعت لے کر آئے اس میں نوع انسان کی فلاح کے جمیع اصول اتم و اکمل طور پر موجود ہیں‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کامل و مکمل شریعت کی تعلیم و تبلیغ کا فرض پورے طور پر انجام دیا‘ اس شریعت کے بعد اب قیامت تک کوئی دوسری شریعت نازل ہونے والی نہیں‘ جب کہ اس شریعت کا دامن قیامت کے دامن سے ملا ہوا ہے اور نوع انسان کو اپنی سعادت اور صلاح و فلاح تک پہنچنے کے لیے اسی شریعت کی احتیاج ہے‘ تو اس جیسی عظیم الشان اور کامل شریعت کو دوسری شریعتوں کی مانند بگڑنے اور خراب ہونے سے بچانے کے لیے کوئی ایسا ہی عظیم الشان سامان اور بندوبست بھی ہونا ضروری تھا۔ چنانچہ نوع انسان کی تسکین خاطر اور اطمینان قلب کے لیے خدائے تعالیٰ نے خود ارشاد فرمایا ہے کہ {اِنَّا نَحْنُ نَزَّ لْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہُ لَحَافِظُوْن } پس معلوم ہوا کہ اس شریعت کی حفاظت کے سامان خدائے تعالیٰ خود ہی حسب ضرورت پیدا کرتا رہے گا‘ اور اس ساڑھے تیرہ سو سال کے عرصہ میں ہم نے دیکھ لیا ہے کہ خدائے تعالیٰ نے شریعت حقہ کی حفاظت کے سامان خود ہی پیدا کئے ہیں‘ جس طرح ہم نے رحم مادر میں اپنی حفاظت کے سامان خود تجویز اور فراہم نہیں کئے تھے‘ جس طرح اپنے کھیتوں کو سرسبز رکھنے کے لیے سمندر سے بخارات اٹھانے‘ بادل بنانے‘ ہوائیں چلانے اور بارش برسانے کا مشورہ ہم نے خدائے تعالیٰ کو نہیں دیا تھا‘ اسی طرح ہمارا کیا حق ہے کہ ہم شریعت اسلام کی حفاظت کے سامان اور طریقے خود تجویز کریں‘ اور خدائے تعالیٰ کو مجبور کرنے کی جرأت کریں کہ وہ فلاں طریقہ استعمال کرے اور فلاں سامان کو کام میں نہ لائے۔ ہمارا تو جی چاہتا ہو گا کہ آسمان سے پکی پکائی روٹیاں برس جایا کریں اور سالن کی پکی پکائی دیگچیاں زمین سے خود بخود ابل پڑا کریں۔ لیکن خدائے تعالیٰ ہماری اس خواہش کا پابند و ماتحت نہیں بن سکتا۔ اس نے تمازت آفتاب سے سمندروں کے پانی کو بھاپ بنایا کرہ ہوائی کی بلندیوں نے بادلوں کو اپنے کاندھوں پر اٹھایا‘ ہوائوں نے چل کر ان بادلوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچایا‘ طبقات ہوا کی حرارت و برودت نے تغیرات پیدا کر کے بادلوں کو برسایا‘ کاشت کاروں نے زمین کو اپنے بیلوں اور زرعی آلات کے ذریعہ نرم کیا‘ بیج بکھیرا‘ بادلوں سے بارش ہوئی‘ درخت اگے ان کی حفاظت کی گئی‘ پک جانے کے بعد کھیتی کاٹی گئی‘ غلہ اور بھس الگ کیا گیا‘ غلہ کو چکی میں پیس کر آٹا تیار ہوا‘ پھر اس کو گوندھا گیا‘ پھر خاص صنعت کے ذریعہ روٹی پک کر تیار ہوئی۔ غور کرو اور سوچو کہ خدائے تعالیٰ نے ایک روٹی کے مہیا کرنے میں کاموں کا کس قدر طویل و پیچیدہ سلسلہ پسند فرمایا ہے‘ مگر یہ ہماری حماقت اور کج فہمی ہو گی اگر ہم اللہ تعالیٰ کو ملزم ٹھہرائیں‘ اور اپنے مجوزہ اختصار کو ترجیح دیں۔ اللہ تعالیٰ کے کاموں کو طوالت پسندی سے متہم کرنا حقیقتاً ہماری نابینائی و بے بصیرتی ہے‘ کیوں کہ وہ لا تعداد حکمتیں جو اس سلسلہ کار اور پیچیدہ راہ عمل میں مضمر ہیں ہماری چشم کوتاہ و فہم ناتمام سے اوجھل ہیں۔ اس تمہید کو ذہن میں رکھ کر سوچو گے تو یقینا تسلیم کر لو گے کہ صحابہ کرام کے مشاجرات درحقیت اللہ تعالیٰ تعالیٰ کی طرف سے حفاظت شریعت کا ایک سامان تھا‘ لیکن ہم نالائقوں نے بجائے اس کے کہ بصیرت اندوز و عبرت آموز ہوتے گمراہی اور بے راہ روی میں مبتلا ہو گئے۔ کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور دوسرے صحابہ کرام کے تمام اختلافات ان کے اجتہاد پر مبنی تھے‘ ان میں سے اگر کسی سے غلطی ہوئی تو وہ اجتہادی غلطی تھی‘ نیت اور ارادے پر مبنی نہ تھی۔ ان میں سے کوئی بھی ایسا نہ تھا‘ جو دیدہ و دانستہ شریعت اسلام اور احکام خداوندی و ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ و سلم کی مخالفت پر آمادہ ہو سکتا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جو کچھ کیاحق سمجھ کر کیا۔ اسی طرح سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ جو کچھ کرتے تھے‘ اپنے آپ کو حق و راستی پر سمجھ کر کرتے تھے‘ یہی حالت دوسرے صحابہ کرام کی تھی‘ جس نے جس کو حق پر سمجھا وہ اسی کا طرف داروحامی بن گیا۔ اور یہ سب منشاء الٰہی کے ماتحت ہوا۔ خدائے تعالیٰ نے یہ اندرونی جھگڑے پیدا کر کے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی ایک جماعت کو تو ان کاموں میں مصروف کر دیا‘ اور دوسری جماعت نے ان آپس کے تنازعات سے بد دل ہو کر حکومت و سلطنت کے کاموں سے بالکل لاتعلقی اختیار کر کے تنہائی و گوشہ نشینی اختیار کر لی۔ جب تک یہ اندرونی اختلافات پیدا نہیں ہوئے تھے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی تمام تر کوشش و ہمت کفارکا مقابلہ کرنے اور جنگ و پیکار کے میدانوں میں کامیابی حاصل کرنے میں صرف ہوتی تھی۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافتوں کا تمام زمانہ ایسی معرکہ آرائیوں اور جنگ آزمائیوں سے پر ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور تمام طبقات کی نگاہیں میدان کار زار اور فتوحات ملکی کی طرف لگی رہتی تھیں‘ ان دونوں متبرک خلافتوں کے زمانہ میں بھی اگرچہ جمع قرآن کا کام انجام دیا گیا‘ جو اسی ابتدائی زمانہ میں ہونا چاہیئے تھا‘ لیکن یہ ممکن نہ تھا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی کوئی معقول تعداد اور بزرگ جماعت یکسو ہو کر اور فارغ بیٹھ کر اپنی تمام تر توجہ اور پوری ہمت فقہی ترتیب و تنظیم اور احادیث نبوی کی حفاظت و تبلیغ میں صرف کر سکے۔ مدینہ منورہ ایک ایسا فوجی کیمپ بنا ہوا تھا‘ جس کے شہنشاہ خیمہ نشین کے سامنے گویا میدان جنگ کے نقشے ہر وقت کھلے رہتے تھے اور بڑے بڑے مدبر جنگی پالیسی متعین کرنے اور سرداران لشکر کی نقل و حرکت کے پروگرام تیار کرنے میں مصروف نظر آتے تھے‘ جوں جوں فتوحات کا دائرہ وسیع ہوتا جاتا تھا یہ جنگی مصروفیت بڑھتی جاتی تھی‘ اور وہ لوگ جو ایک استاد کی حیثیت سے درس شریعت دیتے اور نکات حکمت سمجھاتے‘ تلواروں کے گھاٹ اور تیروں کی انی درست کرنے میں مصروف اور نیزوں کی انی کے مقابلے میں اپنے سینوں کو سپر بنانے میں زیادہ مشغول ہوتے جاتے تھے۔ اس جنگی مظاہرہ کی بھی اس زمانہ کی دنیا میں اسلام کو قائم رکھنے اور مسلمانوں کو بے خوف بنانے کے لیے بے حد ضرورت تھی اور خلافت عثمانی تک وہ مطلوبہ حالت پیدا ہو گئی اور اسلام تمام دنیا میں ایک غالب مذہب اور زبردست طاقت تسلیم کر لیا گیا۔ اور اب ضرورت اس امر کی تھی‘ کہ اسلام کا مکمل نظام اور شریعت کے تمام پہلو محفوظ و مامون ہو جائیں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی ایک محترم جماعت کو موقع و فراغت میسر ہو کہ وہ اپنے بعد آنے والی نسلوں کے لیے تابعین کی ایک ایسی جماعت تیار کر سکیں جوان کے بعد اوروں کو تعلیم دے سکے اور یہ سلسلہ آئندہ جاری رہ کر اسلام کی حفاظت کا موجب ہو۔ پس خدائے بزرگ و برتر نے اپنی قدرت کاملہ سے عبداللہ بن سبا اور اس کے اتباع یعنی مسلم نما یہودیوں کی ایک جماعت پیدا کر کے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت‘ جنگ جمل اور جنگ صفین کے سامان یکے بعد دیگرے مہیا کر دیئے‘ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بہت سے صحابہ رضی اللہ عنھم جو میدان جنگ میں رستم و اسفندیار کے کارناموں کو حقیر ثابت کر رہے تھے اپنی اپنی کمانوں اور تلواروں کو توڑ کر گھروں میں آبیٹھے‘ اور سپہ سالاری کے کام سے جدا ہو کر معلمی کے کام میں مصروف ہو گئے۔ گذشتہ اوراق میں آپ پڑھ چکے ہیں‘ سیدنا سعد بن وقاض رضی اللہ عنہ فاتح ایران جن کی سپہ سالاری میں جنگ قادسیہ کا خون ریز میدان مسلمانوں کے ہاتھ رہا تھا‘ ان اندرونی اختلافات کے وقت گوشہ نشینی و گمنامی کی زندگی اپنے لیے پسند کر کے اونٹوں‘ بکریوں کے ریوڑ کی نگہداشت میں مصروف ہو گئے تھے‘ یہی حالت اور بھی بہت سے صحابہ رضی اللہ عنھم کی تھی‘ فتوحات کا سلسلہ رکنے اور اندرونی مخالفتیں برپا ہونے کے بعد بہت سے صحابہ رضی اللہ عنھم شمشیر و تیر کے استعمال کو برا سمجھنے لگے‘ حالاں کہ اور کوئی صورت ایسی ممکن ہی نہ تھی کہ ان کو میدان جنگ کی صف اول سے ہٹا کر پیچھے لایا جا سکے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ وہ شخص تھے‘ جن کو خلیفہ وقت تسلیم کرنے کے لیے تمام عالم اسلام متفق اور ہم آہنگ ہو سکتا تھا‘ لیکن ان اندرونی جھگڑوں نے ان کو بالکل گوشہ گزین و زاویہ نشین بنا دیا تھا۔ اس کتاب میں تم صحابہ میں سے کئی لوگوں کے نام اب تک بار بار پڑھ چکے ہو ان میں زیادہ تر وہی لوگ ہیں جو کسی نہ کسی حیثیت سے اندرونی اختلافات میں شریک تھے‘ لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی ایک بہت بڑی تعداد ایسی بھی تھی جنہوں نے ان جھگڑوں میں کوئی حصہ نہیں لیا اور اسی لیے ان کا نام ان واقعات میں نہیں لیا جا سکا‘ اس عظیم الشان جماعت نے ان اختلافات کے زمانہ میں ان لوگوں کو جو ادب و محبت کے جذبات لے کر ان کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے‘ شریعت اسلام کی حقیقت سمجھائی اور سیرت نبوی صلی اللہ علیہ و سلم سے ان کو آگاہ کیا‘ ان میں سے ہر ایک شخص ایک مدرس اور لوگوں کو حقیقت شرع سمجھانے میں مصروف تھا۔ مدینہ منورہ مہاجرین و انصار رضی اللہ عنھا کا گہوارہ‘ اور اس کے بعد خانہ کعبہ کی وجہ سے مکہ معظمہ دوسرا مرکز اسلام تھا‘ جب تک صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو تعلیم و تدریس کی فرصت میسر نہ تھی مدینہ منورہ دارالخلافہ رہا ‘ لیکن جب خدائے تعالیٰ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے تعلیم اسلام کاکام لینا چاہا تو مدینہ منورہ سے مرکز خلافت ہٹا دیا‘ اور وہ مدینہ منورہ جو کچھ دنوں پہلے جنگی طاقت کا مرکز اور فوجی کیمپ بنا ہوا تھا ایک دارالعلوم کی شکل میں تبدیل ہو گیا‘ حدیث اور فقہ کی کتابوں کو تحقیق و تدقیق کی نگاہ سے دیکھو تو یہ حقیقت منکشف ہو جائے گی‘ کہ حدیث و فقہ و تفسیر کا تمام تر مواد صرف اسی زمانہ کا رہین منت ہے‘ جس زمانہ میں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے درمیان مشاجرات برپا تھے۔ اگر یہ مشاجرات برپا نہ ہوتے اور اگر سیدنا امیر معاویہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنھما کی معرکہ آرائیاں نہ ہوتیں تو ہم آج شریعت اسلام کے بڑے اور ضروری حصے سے محروم و تہی دست ہوتے‘ ۱؎ مگر یہ کیوں ہونے لگا تھا‘ اللہ تعالیٰ خود اس دین کا محافظ و نگہبان ہے‘ وہ خود اس کی حفاظت کے سامان پیدا کرتا ہے‘ چنانچہ اب اس نے وہ سامان سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ میں اختلاف کی صورت میں پیدا کیا۔ اب اسی مذکورہ مدعا کے ایک دوسرے پہلو پر نظر کرو‘ ہر ایک حکومت‘ ہر ایک سلطنت‘ اور ہر ایک نظام تمدن کے لیے جس جس قسم کی رکاوٹیں‘ دقتیں اور پیچیدگیاں پیدا ہونی ممکن ہیں‘ اور آج تک دنیا میں دیکھی گئی ہیں‘ ان سب کے نمونے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے مشاجرات میں موجود ہیں‘ ان مشکلات کے پیدا ہونے پر عام طور پر حکمرانوں‘ حکمران خاندانوں اور بادشاہوں نے آج تک جن اخلاق اور جن کوششوں کااظہار کیا ہے ان سب سے بہتر اور قابل تحسین طرز عمل وہ ہے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے ایسی حالتوں میں ظاہر کیا۔ سلطنتوں کے بننے اور بگڑنے‘ قوموں کے گرنے اور ابھرنے‘ خاندانوں کے ناکام رہنے اور بامراد ہونے کے واقعات سے اس دنیا کی تمام تاریخ لبریز ہے‘ چالاکیوں ریشہ دوانیوں اور فریب کاریوں کے واقعات سے کوئی زمانہ اور کوئی عہد حکومت خالی نظر نہیں آتا‘ ان سب چیزوں کے متعلق ہم جب تلاش کرتے ہیں تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی مخالفتوں کی روئیداد‘ ہمارے سامنے یکجا سب کے نمونے پیش کر دیتی ہے‘ اور ہم اپنے لیے بہترین طرز کار اور اعلیٰ ترین راہ عمل تجویز کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ یہ ہماری نابینائی اور بد نصیبی ہے‘ کہ ہم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی اجتہادی مخالفتوں اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ و سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے مشاجرات کو بجائے اس کے کہ اپنے لیے موجب عبرت و بصیرت اور باعث خیر و نفع بناتے‘ اپنی نا اتفاقی و درندگی اور اپنی ہلاکت و نکبت کا سامان بنا لیا ؎ ہر چہ گیرد علتی علت شود آنچہ گیرد کاملے ملت شود مندرجہ بالا سطور کی نسبت شاید اعتراض کیا جائے کہ تاریخ نویسی کی حدود سے باہر قدم رکھا گیا ہے‘ لیکن میں پہلے ہی اقرار کر چکا ہوں کہ میں لا مذہب مورخ بن کر اس کتاب کو نہیں لکھ رہا ہوں‘ میں مسلمان ہوں اور مسلمانوں ہی کے مطالعہ کی غرض سے میں نے اس کتاب کو لکھنا شروع کیا ہے۔ لہٰذا اس اظہار خیال سے کوئی چیز مجھ کو نہیں روک سکتی تھی۔ ۱؎اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ مشاجرات بہتر تھے اور ان کا ہونا مفید ثابت ہوا۔ قبل ازیں یہ تحریر ہو چکا ہے کہ مشاجرات صحابہ کے ضمن میں منافقین اور سبائی گروہ کی بہت سی سازشیں تھیں‘ انہوں نے فتنوں کو ہوا دی۔ اب سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے حالات ختم کرنے سے پیشتر ان الفاظ کا نقل کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے جو سید امیر علی صاحب سابق جج ہائی کورٹ کلکتہ نے جن کو شیعہ اور معتزلی کہا جاتا ہے‘ اپنی کتاب تاریخ اسلام میں مسعودی کے حوالہ سے درج کئے ہیں‘ وہ فرماتے ہیں کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ روزانہ نماز فجر کے بعد مقامی فوج دار یا کپتان پولیس کی رپورٹ سنتے‘ اس کے بعد وزراء اور مشیران و مصاحبین خاص امور سلطنت اور مہمات ملکی کی سر انجام دہی کے لیے حاضر ہوتے‘ اسی مجلس میں پیش کار دربار اور محکمہ جات کے ناظم صوبہ جات سے آئی ہوئی رپورٹیں اور تحریریں سناتے‘ ظہر کے وقت نماز ظہر کی امامت کے لیے وہ محل سے باہر نکلتے اور نماز پڑھا کر مسجد ہی میں بیٹھ جاتے‘ وہاں لوگوں کی زبانی فریادیں سنتے‘ عرضیاں لیتے‘ اس کے بعد محل میں واپس آ کر رئیسوں کو شرف ملاقات بخشتے‘ پھر دوپہر کا کھانا کھاتے اور تھوڑی دیر قیلولہ کرتے‘ نماز عصر سے فارغ ہو کر وزیروں‘ مصاحبوں اور مشیروں سے ملاقات کرتے‘ شام کے وقت سب کے ساتھ دربار میں کھانا کھاتے‘ اور ایک مرتبہ لوگوں کو ملاقات کا موقع دے کر آج کا کام ختم کر دیتے۔ بہ حیثیت مجموعی سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد میں سلطنت کے اندر اور باہر فتوحات کا سلسلہ قائم رہا۔ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ میں نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر مستقل مزاج و بردبار شخص نہیں دیکھا‘ ایک روز ایسا اتفاق ہوا کہ میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی مجلس میں موجود تھا اور وہ مسند پر تکیہ لگائے بیٹھے تھے‘ ان کے پاس تحریری رپورٹ پہنچی کہ قیصر روم اپنی پوری فوج کے ساتھ حملہ آور ہونا چاہتا ہے‘ امیر معاویہ نے اس کاغذ کو پڑھ کر میری طرف ڈال دیا‘ میں نے پڑھا اور منتظر رہا کہ دیکھوں اب کیا کہتے ہیں‘ مگر وہ اسی طرح بیٹھے رہے اور کچھ نہ کہا۔ تھوڑی دیر میں ایک اور تحریر پہنچی کہ نائل بن قیس نے جو خوارج کا سردار ہے اس نے ایک جمعیت فراہم کر لی ہے اور فلسطین پر حملہ کرنا چاہتا ہے۔ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس تحریر کو بھی پڑھ کر میری طرف پھینک دیا اور کچھ نہ کہا‘ میں اس تحریر کو پڑھ کر اور بھی زیادہ منتظر رہا کہ اب کیا کہتے ہیں‘ مگر وہ اسی طرح بیٹھے رہے اور ان کے چہرے سے کوئی تغیر محسوس نہ ہوا۔ تھوڑی دیر گذری تھی کہ ایک تیسرا خط پہنچا کہ موصل کے جیل خانہ کو توڑ کر خوارج قیدی فرار ہو گئے اور موصل کے قریب ان کا اجتماع ہو رہا ہے‘ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ تحریر پڑھ کر بھی میری طرف پھینک دی اور اسی طرح تکیہ لگائے بیٹھے رہے۔ کچھ عرصہ کے بعد ایک اور خط پہنچا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک بڑی فوج کے ساتھ شام پر حملہ آور ہونے والے ہیں‘ اس خط کو بھی پڑھ کر میری طرف پھینک دیا اور اسی طرح بیٹھے رہے۔ مجھ سے صبر نہ ہو سکا میں نے کہا کہ چاروں طرف سے غم کی خبریں آئی ہیں‘ اب آپ کیا کریں گے‘ انہوں نے کہا کہ قیصر اگرچہ بڑی فوج رکھتا ہے‘ لیکن وہ مجھ سے صلح کر کے واپس چلا جائے گا۔ نائل بن قیس اپنے مذہب اور عقیدے کی وجہ سے جنگ کرتا ہے‘ وہ جس ایک شہر پر قابض ہو گیا ہے چاہتا ہے کہ اس کو اپنے قبضے میں رکھے‘ میں اس کو چھوڑ دوں گا تاکہ وہ اسی میں مشغول رہے۔ وہ خوارج جو جیل خانہ توڑ کر بھاگ گئے ہیں اللہ تعالیٰ کے قید خانہ سے بھاگ کر کہاں جائیں گے۔ لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے معاملہ میں ہم کو سوچنے اور تدبیر کرنے کی ضرورت ہے‘ کہ کس طرح ان سے خون عثمان رضی اللہ عنہ کا بدلہ لیا جائے۔ اس کے بعد وہ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے‘ اسی وقت ہر ایک معاملہ کے متعلق بندوبست کے احکام جاری کر دئیے۔ اور پھر بدستور سابق تکیہ لگا کر بیٹھ گئے۔۱؎ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ملک شام میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی شان و شکوہ دیکھ کر فرمایا تھا کہ جس طرح ایران میں کسریٰ اور روم کے قیصر ہیں اسی طرح عرب میں معاویہ رضی اللہ عنہ ہے۔ اب صحابہ رضی اللہ عنھم کی سب سے آخری حکومت و سلطنت ہو گی جس کا ذکر آئندہ صفحات میں آنے والا ہے۔ یزید بن معاویہ رضی اللہ عنہ ابو خالد یزید بن معاویہ رضی اللہ عنہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ ۶۵ھ یا ۶۶ھ میں جب کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تمام ملک شام کے حاکم تھے پیدا ہوئے‘ اس کی ماں کا نام میسون بنت بحدل تھا جو قبیلہ بنو کلب میں سے تھی‘ نہایت موٹا تازہ آدمی تھا‘ اس کے جسم پر بال بہت زیادہ تھے‘ یزید نے پیدا ہوتے ہی حکومت و امارت کے گھر میں آنکھیں کھولی تھیں۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بہت ذی ہوش و مآل اندیش شخص تھے انہوں نے یزید کی تعلیم و تربیت کی طرف خاص طور پر اپنی توجہ منعطف رکھی تھی ایک یا دو مرتبہ اس کو امیر حج بھی بنا کر بھیجا گیا تھا‘ فوج و لشکر کی سرداری بھی اس کو دی تھی‘ قسطنطنیہ کے حملے اور محاصرے میں بھی وہ ایک حصہ فوج کا سردار تھا‘ اس کو شکار کا بہت شوق تھا‘ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے مرض الموت میں وہ دمشق کے اندر موجود نہ تھا‘ آدمی بھیج کر اس کو بلوایا گیااور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس کو وصیت کی لیکن اس وصیت کے بعد ہی وہ باپ کے مرض کو خطرناک نہ سمجھ کر پھر شکار پر چلا گیا‘ چنانچہ جب سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو وہ دمشق میں موجود نہ تھا‘ کئی دن کے بعد واپس آیا اور ان کی قبر پر نماز جنازہ پڑھی‘ ۱؎اس واقعہ کا نفس مضمون ہی بتا رہا ہے کہ یہ جھوٹا واقعہ ہے‘ یعنی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ قیصر روم اور خوارج کے حملہ آور ہونے کی رپورٹیں سن کر تو آرام سے بیٹھے رہے لیکن علی رضی اللہ عنہ کی خبر سن کر مقابلہ کے لیے تیار ہو گئے۔ شعر و شاعری میں بھی اس کو دست گاہ کامل حاصل تھی‘ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی زندگی میں اس کے لیے بیعت ہو چکی تھی‘ لیکن اکثر لوگ اسی وجہ سے اور بھی زیادہ اس کی طرف سے منقبض اور دل سے ناراض تھے‘ مدینہ منورہ کے بعض اکابر نے تو بیعت سے قطعی انکار کر دیا تھا۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا اپنی زندگی میں یزید کے لیے بیعت لینا ایک سخت غلطی تھی‘ یہ غلطی غالباً محبت پدری کے سبب ان سے سرزد ہوئی‘ لیکن مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی غلطی ان سے بھی بڑی ہے‘ کیوں کہ اس غلطی کا خیال اوراس پر عامل ہونے کی جرأت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ ہی کی تحریک کا نتیجہ تھا‘ اس لیے سیدنا حسن بصری رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ مغیرہ بن شعبہ نے مسلمانوں میں ایک ایسی رسم جاری ہونے کا موقع پیدا کر دیا جس سے مشورہ جاتا رہا‘ اور باپ کے بعد بیٹا بادشاہ ہونے لگا۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد اہل شام نے تو بلا تامل بطیب خاطر یزید کے ہاتھ پر بیعت کر لی‘ دوسرے صوبوں کے لوگوں نے بھی عمال کے ذریعہ بیعت کی اور رعب سلطنت کے مقابلہ میں جرأت انکار نہ کر سکے‘ یزید نے تخت حکومت پر بیٹھتے ہی صوبوں اور ولایتوں کے عاملوں کو لکھا‘ کہ لوگوں سے میرے نام پر بیعت لے لو‘ اس زمانہ میں مدینہ کے والی ولید بن عتبہ بن ابی سفیان اور کوفہ کے والی نعمان بن بشیر تھے‘ یہ دونوں عامل نیک طینیت اور صلح جو انسان تھے‘ ان دونوں کے مزاج میں سختی و درشتی دوسرے عالموں کے مقابلہ میں بالکل نہ تھی۔ جب یزید کا حکم مدینہ میں ولید بن عتبہ کے پاس پہنچا تو ولید نے اکابر مدینہ کو جمع کر کے یزید کا خط سنایا‘ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کا حال سن کر اظہار افسوس کیا‘ ان کے لیے دعا مغفرت کی اور ولید سے کہا کہ ابھی میری بیعت کے لیے جلدی نہ کیجئے‘ میں سوچ کر فیصلہ کروں گا‘ مروان بن حکم جو پہلے مدینہ کا عامل اور اب ولید بن عتبہ کی ماتحتی میں بطور مشیر موجود تھا اس نے ولید کو ترغیب دی کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے اسی وقت بیعت لے لی جائے اور ان کو جانے نہ دیا جائے‘ لیکن ولید نے مروان کے مشورہ کو قبول نہ کیا اور ان کی بیعت کو اگلے دن پرملتوی رکھا۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما ولید کے پاس نہیں آتے تھے‘ ان کو بلوایا گیا‘ انہوں نے آنے سے انکار کر دیا اور ایک شب کی مہلت طلب کی‘ ان کو بھی ولید نے مہلت دے دی‘ رات کو موقع پا کر عبداللہ بن زبیر معہ اہل و عیال مدینہ سے نکل گئے اور مدینہ کے معروف راستہ کو چھوڑ کر کسی غیر معروف راستے سے روانہ ہوئے ‘ اگلے دن ان کی گرفتاری کے لیے مروان اور ولید تیس آدمیوں کا ایک دستہ لے کر نکلے‘ مگر کہیں سراغ نہ ملا‘ شام کو واپس آگئے۔ یہ تمام دن چوں کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے تجسس میں گذرا‘ لہٰذا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی طرف توجہ نہ ہو سکی‘ اس دوسری شب میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ بھی موقع پا کر مدینہ سے مع اہل و عیال روانہ ہو گئے‘ صبح کو ان کی روانگی کا حال معلوم ہوا تو ولید نے کہا کہ میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا تعاقب نہ کروں گا‘ ممکن ہے کہ وہ مقابلہ کریں اور مجھ کو ان کے خون سے ہاتھ رنگنے پڑیں‘ جو مجھ کو کسی طرح گوارا نہیں۔ ولید بن عتبہ نے ان دونوں صاحبوں کی روانگی کے بعد اہل مدینہ سے خلافت یزید کی بیعت لی‘ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کوئی خطرہ ہی نہیں تھا‘ کیوں کہ انہوں نے کبھی خلافت کی خواہش ہی نہیں کی‘ ادھر یزید نے بھی لکھ دیا تھا کہ اگر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیعت نہ کریں تو ان سے کوئی تعرض نہ کیا جائے‘ لہٰذا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے بیعت کے لیے کسی نے کچھ نہ کہا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ چند روز کے بعد مکہ کی طرف چلے گئے تھے۔مکہ میں حارث بن حرکو یزید نے عامل نبا کر بھیج دیا تھا‘ اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور حسین بن علی رضی اللہ عنھما دونوں مکہ میں ساتھ ہی داخل ہوئے‘ ان کو دیکھتے ہی عبداللہ بن صفوان بن امیہ نے جو شرفاء مکہ میں تھے ان کے ہاتھ پر بیعت کی۔ پھر اس کے بعد مکہ کے دو ہزار آدمیوں نے جو شرفاء و عمائدین شمار ہوتے تھے‘ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی‘ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے حارث کو گرفتار کر کے قید کر دیا اور مکہ کی حکومت اپنے ہاتھ میں لے لی‘ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ بھی مکہ میں موجود تھے‘ نہ انہوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی‘ نہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ یا ان کے اہل خاندان سے بیعت لینا چاہی‘ اسی طرح جب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ مکہ میں تشریف لے آئے‘ تو ان سے بھی عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیعت کے لیے کوئی خواہش ظاہر نہیں کی‘ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اپنا زیادہ وقت خانہ کعبہ میں مصروف عبادت رہ کر بسر کرتے تھے‘ ان چند حضرات کے سوا تمام اہل مکہ ان کے ہاتھ پر بیعت ہو گئے تھے۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اکثر ملتے‘ اور مشورہ کرتے رہتے تھے‘ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے خلافت کی بیعت نہیں لی تھی بلکہ اس بیعت کامنشاء صرف یہ تھا کہ یزید کو خلیفہ تسلیم نہ کیا جائے اور جب تک خلیفہ عالم اسلام کے لیے متفقہ طور پر متعین نہ ہو ‘ اس وقت تک امن و امان اورانتظام قائم رکھنے کے لیے عبداللہ بن زبیر مکہ کے حاکم تسلیم کئے جائیں۔ لیکن سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو یہ بات کچھ گراں گذرتی تھی‘ کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو حکومت مکہ کیوں حاصل ہے‘ اس لیے کہ وہ اور ان کے اہل خاندان عبداللہ بن زبیر کے پیچھے نماز نہ پڑھتے اور شریک جماعت نہ ہوتے۔ ادھر عبداللہ بن زبیر اور حسین بن علی رضی اللہ عنھما کے مدینہ سے چل جانے اور اہل مدینہ کے بیعت کر لینے کی کیفیت مروان نے یزید کے پاس لکھ کر بھیجی‘ یزید نے فوراً ولید بن عتبہ کو معزول کر کے ان کی جگہ عمرو بن سعید بن عاص کو مدینہ کا حاکم مقرر کر کے بھیجا‘ عمرو بن سعید نے مدینہ کی حکومت آکر سنبھالی اور ولید بن عتبہ مدینہ سے یزید کے پاس چلے گئے۔ ادھر مکہ پر عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے قابض ہو جانے اور حارث کے قید ہونے کی کیفیت حارث بن خالد نے جو مکہ میں موجود تھے‘ اور اپنے گھر سے باہر نہ نکلتے تھے‘ لکھ کر یزید کے پاس روانہ کی‘ مکہ کی حالت سے واقف ہو کر یزید نے عمرو بن سعید کو لکھا کہ مکہ جا کر عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو گرفتار کرو اور پابہ زنجیر میرے پاس روانہ کر دو‘ عمرو نے ایک زبردست فوج مکہ کی جانب بھیجی‘ وہاں لڑائی ہوئی‘ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو فتح ہوئی‘ اور مدینہ سے آئی ہوئی فوج کا سپہ سالار گرفتار ہو کر قید ہوا۔ کوفہ والے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ہی کے زمانے میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ خط و کتابت رکھتے‘ اور بار بار لکھتے رہتے تھے کہ آپ کوفہ میں چلے آئیں‘ ہم آپ کہ ہاتھ پر بیعت کر لیں گے‘ کوفہ والوں کی ان خفیہ کاروائیوں اور ریشہ دوانیوں سے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بھی واقف تھے‘ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کوفہ والوں کی عادات کا نہایت صحیح اندازہ رکھتے تھے‘ اسی لیے انہوں نے فوت ہوتے وقت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو وصیت کی تھی‘ کہ تم کو کوفہ والوں کے فریب میں نہیں آنا چاہیئے۔ ادھر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ یزید کو بتا گئے تھے کہ کوفہ والے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو ضرور خروج پر آمادہ کریں گے اگر ایسی صورت پیش آئے اور تم سیدنا حسین پر قابو پائو توان کے ساتھ رعایت کا برتائو کرنا‘ چونکہ مکہ کی حکومت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں آگئی تھی‘ لہٰذا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی توجہ اب کوفہ کی طرف زیادہ مبذول رہتی تھی۔ کوفہ میں جب وہاں کے حاکم نعمان بن بشیر کے پاس یزید کا خط پہنچا اور عام طور پر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے انتقال کی خبر مشہور ہوئی تو شیعان بنی امیہ نے فوراً نعمان بن بشیر کے ہاتھ پر خلافت یزید کی بیعت کی‘ لیکن شیعان علی اور شیعان حسین رضی اللہ عنہ نے جو پہلے ہی سے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو کوفہ میں بلانے کی کوشش کر رہے تھے‘ بیعت میں تامل کیا‘ اور سلیمان بن صرد کے مکان میں جمع ہوئے‘ سب نے اس قراردار پر اتفاق کیا کہ یزید کو خلیفہ تسلیم نہ کیا جائے‘ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو کوفہ میں بلایا جائے‘ ابھی یہ خفیہ مشورہ ہو ہی رہے تھے کہ انہوں نے سنا کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ مدینہ سے مکہ چلے گئے ہیں مگر وہاں اہل مکہ نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو نہیں بلکہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو اپنا حاکم بنا لیا ہے‘ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ مکے میں ہی موجود ہیں‘ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن زبیر کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی‘ چنانچہ انہوں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے پاس ایک خط روانہ کیا کہ: ’’ہم آپ کے اور آپ کے والد بزرگوار کے شیدائی اور بنی امیہ کے دشمن ہیں‘ ہم نے آپ کے والد ماجد کی حمایت میں طلحہ رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ سے جنگ کی‘ ہم نے میدان صفین میں ہنگامہ کارزار گرم کیا اور شامیوں کے دانت کھٹے کر دئیے‘ ہم اب آپ کے ساتھ مل کر بھی جنگ کرنے کو تیار ہیں‘ آپ فوراً اس خط کو دیکھتے ہی کوفہ کی طرف روانہ ہو جائیے۔ یہاں آئیے تاکہ ہم نعمان بن بشیر کو قتل کر کے کوفہ آپ کے سپرد کر دیں‘ کوفہ و عراق میں ایک لاکھ سپاہ موجود ہے‘ وہ سب کے سب آپ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے لیے تیار ہیں‘ ہم آپ کو حق دار خلافت یقین کرتے ہیں‘ یزید تو کسی طرح بھی آپ کے مقابلے میں خلافت کااستحقاق نہیں رکھتا‘ یہ موقع ہے‘ دیر مطلق نہ کیجئے‘ ہم یزید کو قتل کر کے آپ کو تمام عالم اسلام کا تنہا خلیفہ بنانا چاہتے ہیں‘ ہمارے سربرآوردہ لوگوں نے یزید کے عامل یعنی نعمان بن بشیر کے پیچھے جمعہ کی نماز پڑھنی بھی ترک کر دی ہے‘ کیوں کہ ہم امامت کا مستحق آپ کے نائبین کو سمجھتے ہیں‘‘۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے پاس مکہ میں اسی مضمون کے خطوط مسلسل پہنچنے شروع ہوئے تو انہوں نے اپنے چچازاد بھائی مسلم بن عقیل کو بلایا (یہ مسلم ان ہی عقیل بن ابی طالب کے بیٹے ہیں جو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے مصاحب خاص اور مشیر بااخلاص تھے) اور فرمایا کہ تم میرے نائب بن کر کوفہ میں جائو ‘ پوشیدہ طور پر جائو‘ پوشیدہ طور پر کوفہ میں رہو اور میرے نام پر لوگوں سے پوشیدہ طور پر بیعت لو‘ جو لوگ تمہارے ہاتھ پر بیعت کریں ان کی تعداد اور خاص خاص کے نام خط میں لکھ کر میرے پاس روانہ کر دو‘ تم اپنے آپ کو پنہاں رکھنے کی بہت کوشش کرو‘ اور ان لوگوں کو جو بیعت میں داخل ہوں سمجھائو‘ کہ جب تک میں وہاں نہ پہنچوں ہر گز لڑائی نہ لڑیں۔ مسلم نہایت احتیاط کے ساتھ کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو اطلاع نہ ہو سکے مکہ سے روانہ ہوئے‘ راستہ میں انہوں نے کچھ سوچا‘ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ مجھ کو اس کا انجام کچھ اچھا معلوم نہیں ہوتا‘ آپ مجھ کو معاف رکھیں اور بجائے میرے کسی دوسرے شخص کو کوفہ کی طرف بھیجیں‘ لیکن سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے ان کو خط لکھا کہ تم بزدلی کا اظہار نہ کرو‘ اور تم ہی کوفہ میں جائو‘ چنانچہ مسلم بن عقیل روانہ ہوئے‘ اور کوفہ میں پہنچ کر مختار بن ابی عبید کے مکان پر اترے‘ اسی وقت یہ خبر شیعان علی رضی اللہ عنہ میں پہنچ گئی‘ لوگ جوق در جوق آ آ کر بیعت ہونا شروع ہوئے‘ پہلے ہی دن ۱۲ ہزار آدمیوں نے بیعت کی۔ مسلم نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے نام اپنے بخیریت پہنچنے اور لوگوں کے بیعت کرنے کا حال لکھا‘ اور ان کو اطلاع دی کہ پہلے ہی دن بارہ ہزار آدمی بیعت میں داخل ہوئے جن میں سلطان بن صرد‘ مسیب بن ناجیہ‘ رقاطہ بن شداد‘ ہانی بن مروہ بھی شامل ہیں‘ آپ جب آئیں گے اور علانیہ بیعت لینا شروع کریں گے‘ تو لاکھوں آدمی بیعت میں داخل ہو جائیں گے‘ یہ خط سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے پاس قیس و عبدالرحمن دو شخص لے کر روانہ ہوئے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اس خط کو پڑھ کر بہت خوش ہوئے‘ اور دونوں نامہ بروں کو فوراً واپس کر دیا‘ اور کہلا بھجوایا کہ میں بہت جلد کوفہ پہنچنا چاہتا ہوں۔ اب سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے یہ خیال کر کے کہ بصرہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے گروہ کی کافی تعداد موجود ہے اپنے ایک معتمد کو احنف بن مالک اور دوسرے شرفاء بصرہ کے نام خطوط دے کر بصرہ کی جانب روانہ کر دیا‘ ان خطوط میں لکھا تھا‘ کہ آپ لوگوں کو میرے ہاتھ پر بیعت کرنی چاہیئے اور فوراً کوفہ پہنچ جانا چاہیئے۔ کوفہ میں مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے پہنچنے اور لوگوں کے بیعت کرنے کا حال جب عام طور پر مشہور ہو گیا تو عبداللہ بن مسلم الحضرمی نعمان بن بشیر کے پاس آیا اور کہا کہ اے امیر‘ خلیفہ وقت کے کام میں ایسی سستی نہیں کرنی چاہیئے‘ آج کئی روز ہوئے مسلم بن عقیل کوفہ میں آکر لوگوں سے حسین بن علی رضی اللہ عنھما کی خلافت کے لیے بیعت لے رہے ہیں‘ آپ کو چاہیئے کہ مسلم کو قتل کر دیں یا گرفتار کر کے یزید کے پاس بھیج دیں اور جن لوگوں نے بیعت کی ہے‘ ان کو بھی قرار واقعی سزا دیں‘ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ لوگ جس کام کو مجھ سے چھپا کر کر رہے ہیں‘ میں اس کو آشکارا کرنامناسب نہیں سمجھتا‘ جب تک یہ لوگ مقابلہ کے لیے نہ نکلیں گے میں ان پر حملہ نہ کروں گا‘ عبداللہ یہ سن کر باہر آیا اور اسی وقت یزید کو ایک خط لکھا: ’’مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کوفہ میں آکر حسین بن علی رضی اللہ عنھما کی خلافت کے لیے بیعت لے رہے ہیں اور لوگ ان کے ہاتھ پر کثرت سے بیعت کر رہے ہیں‘ حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے بھی آنے کی خبر ہے‘ نعمان اس معاملہ میں بڑی کمزوری دکھا رہے ہیں‘ آپ اگر ولایت کوفہ کو اپنے قبضے میں رکھناچاہتے ہیں‘ تو کسی زبردست گورنر کو فوراً کوفہ میں بھیجیں‘ تاکہ وہ آکر مسلم کو گرفتار کرے اور لوگوں سے بیعت فسخ کرائے‘ اور حسین بن علی رضی اللہ عنھما کو کوفہ میں داخل ہونے سے روکے‘ اس کام میں اگر دیر ہوئی تو آپ کوفہ کو اپنے قبضے سے نکلا ہوا سمجھیں‘‘۔ اسی مضمون کے خطوط عمارہ بن عتبہ‘ اور ابن ابی معیط نے بھی یزید کے نام روانہ کئے‘ ان خطوط کو پڑھ کر یزید بہت فکر مند اور پریشان ہوا‘ سرجون نامی سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا ایک آزاد کردہ غلام تھا‘ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بھی بعض پیچیدہ باتوں اور اہم معاملات میںاس سے مشورہ لیا کرتے‘ اور اس کے مشورہ سے فائدہ اٹھایا کرتے تھے‘ یزید نے اس کو بلایا اور عبداللہ بن الحضرمی کا خط دکھا کر مشورہ طلب کیا‘ اس جگہ جملہ معترضہ کے طور پر یہ بات قابل تذکرہ ہے کہ یزید ہمیشہ زیاد بن ابی سفیان سے ناراض رہتا تھا‘ زیاد کے بعد وہ عبیداللہ بن زیاد سے بھی بہت ناخوش و متنفر تھا‘ عبیداللہ بن زیاد کو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے بصرہ کا حاکم مقرر فرمایا تھا‘ یزید یہ ارادہ کر رہا تھا‘ کہ بصرہ کی حکومت سے عبیداللہ بن زیاد کو معزول کر کے کسی دوسرے شخص کو بصرہ کا حاکم بنائے۔ اب کوفہ سے یہ وحشت ناک خبریں آنے پر یزید نے جب امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام سے مشورہ طلب کیا تو اس نے عرض کیا کہ اس وقت عراق آپ کے قبضہ سے نکلنا چاہتا ہے‘ اگر آپ عراق کو بچانا چاہتے ہیں تو عبیداللہ بن زیاد کے سوا کوئی دوسرا شخص آپ کی مدد نہیں کر سکتا۔ میں جانتا ہوں کہ آپ کو یہ میرا مشورہ ناگوار گذرے گا مگر عبیداللہ بن زیاد کے سوا جس شخص کو بھی آپ کوفہ کی حکومت پر بھیجیں گے وہ کوفہ کو بچانے میں کامیاب نہ ہو سکے گا‘ ساتھ ہی میرا مشورہ یہ بھی ہے‘ کہ جس طرح سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے عبیداللہ کے باپ زیاد کو بصرہ و کوفہ دونوں ولایتوں کی حکومت سپرد کر رکھی تھی‘ اسی طرح آپ بھی عبیداللہ کو بصرہ و کوفہ دونوں ولایتیں سپرد کر دیں‘ بصرہ کے لیے کسی دوسرے حاکم کو انتخاب کرنے کی ضرورت نہیں یزید نے یہ مشورہ سن کر تھوڑی دیر تامل کیا‘ پھر فوراً عبیداللہ بن زیاد کے نام حکمنامہ لکھا کہ: ’’ہم نے بصرہ کے ساتھ کوفہ کی ولایت بھی تم کو سپرد کی‘ اب تم کو چاہیئے کہ اس حکم کے پہنچتے ہی بصرہ میں کسی کو اپنا نائب بنا کو چھوڑ دو اور خود بلا توقف کوفہ میں پہنچو‘‘ وہاں مسلم بن عقیل آئے ہوئے ہیں اور امام حسین رضی اللہ عنہ کے لیے بیعت لے رہے ہیں‘ ان کو پکڑ کر قید یا قتل کرو اور جن لوگوں نے ان کو بیعت کی ہے‘ ان کو بھی اگر فسخ بیعت سے انکار کریں تو تلوار کے گھاٹ اتار دو‘ اور اس قسم کے ہر ایک خطرہ کا بندوبست کر دو‘‘۔ عبیداللہ بن زیاد کو یقین تھا‘ کہ یزید مجھ کو بصرہ کی حکومت سے معزول و برطرف کئے بغیر نہ رہے گا‘ اس کو پڑھ کر وہ حیران رہ گیا‘ پھر خوش بھی ہوا اور رنجیدہ بھی‘ کیوں کہ اس حکم کے پڑھنے سے اس کے دل میں یہ خطرہ بھی پیدا ہوا تھا‘ کہ یزید اس بہانہ سے مجھ کو بصرہ سے نکالنا چاہتا ہے تاہم اس نے اس حکم کی تعمیل کو مناسب سمجھا اور اپنے بھائی عثمان بن زیاد کو بصرہ میں اپنا قائم مقام مقرر کر کے خود اگلے دن کوفہ کی طرف روانہ ہونے کا عزم کیا‘ اتنے میں منذر بن الحارث اس کے پاس دوڑتا ہوا آیا اور کہا کہ حسین بن علی رضی اللہ عنھما کا فرستادہ ایک شخص آیا ہے اور آپ سے چھپا کر لوگوں سے امام حسین رضی اللہ عنہ کے لیے بیعت لے رہا ہے‘ عبیداللہ بن زیاد نے یہ سن کر اسی رات میں دھوکے سے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قاصد کو گرفتار کر لیا اور اگلے دن لوگوں کو جمع کر کے ایک تقریر کی اور کہا کہ: ’’حسین بن علی رضی اللہ عنھما کا ایک قاصد بصرہ میں آیا اور بہت سے لوگوں کے نام خطوط لایا ہے‘ میں نے اس قاصد کو گرفتار کر لیا ہے‘ بصرہ میں جن جن لوگوں کے نام وہ خطوط یا پیغام لایا ہے‘ میں نے سب کے نام اس سے دریافت کر لیے ہیں‘ اور جن جن لوگوں نے بیعت اس کے ہاتھ پر کی ہے ان کی فہرست بھی تیار کر لی ہے‘ آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ میں زیاد بن ابی سفیان کا بیٹا ہوں‘ مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کوفہ میں آئے ہوئے ہیں میں اب کوفہ کو جا رہا ہوں‘ وہاں مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ اور جن لوگوں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی ہے‘ سب کو قتل کر ڈالوں گا اور اگر تمام کوفہ بیعت کر چکا ہے‘ تو ایک شخص کو بھی وہاں زندہ نہ چھوڑوں گا‘ تمہارے ساتھ اس وقت یہ رعایت کرتا ہوں‘ کہ بجز حسین بن علی رضی اللہ عنھما کے قاصد کے اور کسی کو کچھ نہیں کہتا‘ لیکن یہاں سے میرے جانے کے بعد اگر کسی نے ذرا بھی کان ہلایا تو پھر اس کی خیر نہ ہو گی‘‘۔ یہ کہہ کر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قاصد کو بلایا اور اس کو تمام مجمع کے روبرو قتل کرا دیا‘ کسی نے اف تک نہ کی اس کارروائی کے بعد مطمئن ہو کر وہ کوفہ کی طرف روانہ ہوا‘ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ مکہ معظمہ میں بیٹھے ہوئے یہ خیال کر رہے تھے کہ بصرہ میں بھی ہمارے نام پر بیعت ہو رہی ہو گی‘ لیکن یہاں ان کافرستادہ قتل کیا جا رہا تھا۔ عبیداللہ بن زیاد نے قادسیہ کے مقام پر پہنچ کر اپنی رکابی فوج کو وہیں چھوڑا‘ اور خود اپنے باپ کے آزاد کردہ غلام کے ساتھ ایک اونٹ پر سوار ہو کر کوفہ کی جانب تیز رفتاری سے روانہ ہو کر مغرب و عشاء کے درمیان کوفہ میں داخل ہوا‘ عبیداللہ بن زیاد نے عمامہ حجازیوں کی وضع کا باندھ رکھا تھا‘ یہاں لوگوں کو سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی آمد کا انتظار تھا‘ شیعان علی رضی اللہ عنہ و حسین رضی اللہ عنہ کا یہاں تک زور ہو گیا تھا‘ کہ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ شام ہی سے اپنے دیوان خانے کا دروازہ بند کر لیتے اور اپنے خاص خاص آدمیوں کے ساتھ مجلس گرم کرتے۔ دروازے پر غلام کو بٹھا دیتے‘‘ کہ ہر آنے والے کا نام و پتہ معلوم کرنے کے بعد اگر وہ اندر آنے کے قابل ہو‘ تو دروازہ کھولے ورنہ انکار کر دے۔ عبیداللہ بن زیاد جب کوفہ میں داخل ہوا تو لوگوں نے یہ سمجھا کہ امام حسین رضی اللہ عنہ جن کا انتظار تھا کوفہ میں آگئے‘ جس طرف عبیداللہ کا اونٹ گذرتا‘ لوگ کہتے السلام علیک یا ابن رسول اللہ‘ عبیداللہ اپنا اونٹ لیے سرکاری دیوان خانے تک پہنچا‘ وہاں دیکھا تودروازہ بند ہے عبیداللہ نے دروازہ کھٹکھٹایا‘ اور زبان سے کچھ نہ کہا‘ نعمان بن بشیر اپنے دوستوں کے ساتھ چھت پر بیٹھے ہوئے تھے‘ وہ اٹھے اور چھت کے کنارے پر آکر دیکھا‘ تو چوں کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کا تمام شہر میں انتظار کیا جا رہا تھا‘ وہ عبیداللہ کو یہی سمجھے کہ امام حسین آگئے ہیں‘ چنانچہ انہوں نے اوپر ہی سے کہا کہ ’’اے ابن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ! آپ واپس چلے جائیے‘ اور فتنہ برپا نہ کیجئے‘ یزید ہر گز کوفہ آپ کو نہ دے گا۔ نعمان کے دوستوں نے جو چھت پر بیٹھے تھے‘ نعمان سے کہا کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ اتنی بے مروتی نہ کیجئے‘ کم از کم دروازہ کھول کر ان کو اندر آنے کی اجازت دیجئے‘ کیوں کہ وہ سفر سے آرہے ہیں اور سیدھے آپ کے مہمان بن کر آئے ہیں‘ نعمان نے کہا کہ میں اس کو پسند نہیں کرتا کہ لوگوں کو یہ کہنے کا موقع ملے کہ نعمان کے عہد حکومت میں کوفہ کے اندر حسین رضی اللہ عنہ قتل کئے گئے‘ عبیداللہ نے اپنا عمامہ اتارا اور کہا کم بخت دروازہ تو کھول‘ عبیداللہ کی آواز سن کر لوگوں نے اس کو پہچانا‘ دروازہ کھولا اور سب ادھر ادھر منتشر ہو گئے‘ عبیداللہ اندر داخل ہوا اور تھوڑی ہی دیر کے بعد عبیداللہ کا لشکر کوفہ میں داخل ہونا شروع ہوا جس کو وہ پیچھے چھوڑ آیا تھا‘ اسی وقت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو خبر پہنچی ‘ کہ ابن زیاد مع لشکر آگیا ہے‘ وہ جس مکان میں مقیم تھے اور لوگوں کو عام طور پر اس کا علم تھا‘ اس کو چھوڑ دیا اور ہانی بن عروہ کے مکان میں جا کر پناہ گزین ہوئے‘ اس وقت تک مسلم کے ہاتھ پر بیعت ہونے والوں کی تعداد کوفہ میں اٹھارہ ہزار تک پہنچ چکی تھی۔ عبیداللہ بن زیاد نے اگلے دن صبح کو مجمع عام کے روبرو تقریر کی اور یزید کا حکم نامہ جو اس کے پاس بصرہ میں پہنچا تھا سنایا‘ عبیداللہ نے کہا کہ: ’’تم لوگ میرے باپ زیاد بن ابی سفیان کو خوب جانتے ہو اور تم کو معلوم ہے کہ وہ کس قسم کی سیاست برتنے کے عادی تھے‘ مجھ میں اپنے باپ کی تمام عادات موجود ہیں‘ تم لوگ مجھ سے بھی خوب واقف ہو اور میں بھی تمہارے ایک ایک شخص کا نام جانتا اور ہر ایک کا گھر اور محل پہچانتا ہوں‘ مجھ سے تم کوئی چیز چھپا نہیں سکتے‘ میں یہ نہیں چاہتا کہ کوفہ میں خون کے دریا بہائوں اور تم کو قتل کروں‘ مجھ کو معلوم ہے کہ تم نے حسین بن علی رضی اللہ عنھما کے لیے مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی ہے‘ میں تم سب کو امان دیتا ہوں اس شرط پر کہ تم اس بیعت سے رجوع کر لو‘ اور جوشخص بغاوت پر آمادہ ہے اس کو کوئی شخص اپنے مکان میں پناہ نہ دے‘ ورنہ ہر ایک پناہ دہندہ کو اسی کے دروازہ پر قتل کیا جائے گا‘‘۔ اس تقریر کے بعد عبیداللہ نے مسلم بن عقیل کا پتہ دریافت کیا کہ وہ کس جگہ ہیں‘ کسی نے پتہ نہ بتایا‘ آخر عبیداللہ کو اپنے جاسوسوں کے ذریعہ معلوم ہوا کہ وہ ہانی بن عروہ کے مکان میں چھپے ہوئے ہیں‘ عبیداللہ نے معقل نامی ایک شخص کو جو تمیم کے آزاد کردہ غلاموں میں سے تھا اور اس کو کوفہ میں کوئی نہیں جانتا تھا‘ بلا کر تنہائی میں تین ہزار درہم کی ایک تھیلی دی اور کہا کہ فلاں محلہ میں ہانی بن عروہ کے مکان پر جائو‘ جب ہانی بن عروہ سے ملاقات ہو جائے‘ تو اس سے کہو کہ مجھ کو آپ سے تنہائی میں کچھ کہنا ہے‘ جب تنہائی میں پہنچو تو ہانی سے کہو کہ مجھ کو بصرہ کے فلاں فلاں شخصوں نے بھیجا ہے‘ اور تین ہزار درہم دیئے ہیں کہ کوفہ میں جا کر مسلم بن عقیل کے پاس پہنچا دو اور ان سے کہو کہ ہمارے پاس مکہ سے حسین رضی اللہ عنہ کا خط آیا ہے‘ انہوں نے ہم کو لکھا ہے کہ تم فلاں تاریخ کو کوفہ پہنچ جائو‘ اسی تاریخ میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ بھی کوفہ پہنچیں گے۔ آپ بالکل مطمئن رہیں‘ ہم سب تاریخ مقررہ کو کوفہ میں امام حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ داخل ہوں گے‘ یہ تین ہزار درہم اپنی ضروریات میں صرف کرو اور ہماری طرف سے بطور ہدیہ قبول کرو‘ لہٰذا آپ مجھ کو مسلم بن عقیل کے پاس پہنچا دیجئے‘ تاکہ میں تمام پیغامات اور یہ روپیہ ان کی خدمت میں پہنچا دوں اور فوراً کوفہ سے چلا جائوں کیوں کہ عبیداللہ بن زیاد آگیا ہے اور وہ مجھ کو پہچانتا ہے‘ ایسا نہ ہو کہ میں گرفتار ہو جائوں۔ معقل تین ہزار درہم کی تھیلی لے کر ہانی کے پاس پہنچا‘ وہ مکان کے دروازے پر بیٹھا تھا‘ معقل کی باتیں سن کر فوراً مسلم بن عقیل کے پاس لے گیا …مسلم بن عقیل نے خوش ہو کر وہ تھیلی لے لی اور پیغامات سن کر معقل کو رخصت کر دیا‘ معقل وہاں سے چل کر سیدھا عبیداللہ کے پاس پہنچا اور کہا کہ میں تھیلی مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو دے آیا ہوں اور خود ان سے باتیں کی ہیں‘ وہ ہانی کے مکان میں موجود ہیں‘ عبیداللہ بن زیاد نے ہانی بن عروہ کو بلا کر پوچھا‘ کہ مسلم کہاں ہیں‘ ہانی نے لا علمی ظاہر کی‘ عبیداللہ نے معقل کو بلوا کر سب کے سامنے اس کا بیان سنوایا‘ ہانی شرمندہ ہو کر کہنے لگا کہ ہاں میرے ہاں مسلم بن عقیل پناہ گزین ہیں‘ لیکن میں اپنی یہ بے عزتی برداشت نہیں کر سکتا‘ کہ اب ان کو آپ کے سپرد کر دوں‘ عبیداللہ نے ہانی کو وہیں گرفتار کر لیا‘ شہر میں یہ خبر مشہور ہوئی کہ ہانی کو عبیداللہ نے قتل کر دیا ہے‘ ہانی بن عروہ کے گھر کی عورتیں یہ سن کر رونے لگیں‘ مسلم بن عقیل نے جب یہ صورت دیکھی تو وہ ضبط نہ کر سکے‘ اور فوراً شمشیر بدست ہانی کے گھر سے نکل کر ان لوگوں کو آواز دی جنہوں نے مسلم رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی‘ اٹھارہ ہزار میں سے صرف چار ہزار آدمی ان کے گرد جمع ہوئے‘ مسلم نے باقیوں کو بھی بلایا‘ لیکن ہر ایک نے یہ جواب دیا کہ ہم سے تو بیعت کے وقت یہ اقرار لیا گیا ہے‘ کہ جب تک سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نہ آجائیں کسی سے جنگ نہ کریں گے‘ ان کے آنے تک آپ کو بھی صبر کرنا چاہیئے۔ مسلم بن عقیل چوں کہ اب باہر آچکے تھے‘ لہٰذا دوبارہ نہیں چھپ سکتے تھے‘ ان ہی چار ہزار آدمیوں کو لے کر مسلم بن عقیل نے عبیداللہ بن زیاد کا محاصرہ کیا‘ عبیداللہ اس وقت دارالامارۃ میں تیس چالیس آدمیوں کے ساتھ تھا‘ چھتوں پر چڑھ کر محاصرین پر تیروں کی بارش شروع کی‘ مسلم کے ہمرائیوں کو ان کے رشتہ داروں اور دوستوں نے آ آکر سمجھانا شروع کیا کہ اپنے آپ کو کیوں ہلاکت میں ڈالتے ہو‘ غرض رفتہ رفتہ سب جدا ہو گئے‘ اور مسلم بن عقیل کے ساتھ صرف تیس چالیس آدمی رہ گئے۔