سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ

وفات امیر معاویہ رضی اللہ عنہ

شروع ماہ رجب ۶۰ھ میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے‘ اس بیماری میں جب ان کو یقین ہونے لگا کہ اب آخری وقت قریب آگیا ہے تو انہوں نے یزید کو بلوایا۔ یزید اس وقت دمشق سے باہر شکار میں یا کسی مہم پر گیا ہوا تھا‘ فوراً قاصد روانہ ہوا اور یزید کو بلا لایا۔ یزید حاضر ہوا تو انہوں نے اس کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا کہ: ’’اے بیٹے! میری وصیت کو توجہ سے سن اور میرے سوالوں کا جواب دے۔ اب اللہ تعالیٰ کا فرمان یعنی میری موت کا وقت قریب آ چکا ہے‘ تو بتا کہ میرے بعد مسلمانوں کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہتا ہے؟‘‘ یزید نے جواب دیا کہ : ’’میں کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی پیروی کروں گا۔‘‘ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا : ’’سنت صدیقی پر بھی عامل ہونا چاہیے کہ انہوں نے مرتدین سے جنگ کی اور اس حالت میں فوت ہوئے کہ امت ان سے خوش تھی۔‘‘ یزید نے کہا : ’’نہیں صرف کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی پیروی کافی ہے۔‘‘ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے پھر کہا : ’’اے بیٹے! سیرت عمر کی بھی پیروی کر کہ انہوں نے شہروں کو آباد کیا اور فوج کو قوی کیا اور مال غنیمت فوج پر تقسیم کیا۔‘‘ یزید نے جواب دیا کہ : ’’نہیں صرف کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی پیروی کافی ہے۔‘‘ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ : ’’اے بیٹے! سیرت عثمان پر بھی عامل ہونا کہ انہوں نے لوگوں کو زندگی میں فائدہ پہنچایا اور سخاوت کی۔‘‘ یزید نے کہا کہ : ’’نہیں صرف کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہی میرے لیے کافی ہے۔‘‘ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر فرمایا کہ : ’’اے بیٹے! تیری ان باتوں سے مجھ کو یقین ہو گیا ہے کہ تو میری باتوں پر عمل درآمد نہ کرے گا۔ میری وصیت اور نصیحت کے خلاف ہی کرے گا۔‘‘۱؎ اے یزید تو اس بات پر مغرور نہ ہونا کہ میں نے تجھ کو اپنا ولی عہد بنا دیا ہے اور تمام مخلوق نے تیری فرماں برداری کا اقرار کر لیا ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے تو زیادہ اندیشہ نہیں ہے‘ کیونکہ وہ دنیا سے بیزار ہیں۔ حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو اہل عراق ضرور تیرے مقابلہ کے لیے میدان میں نکالیں گے۔ تو اگر ان پر فتح پائے تو ان کو قتل ہر گز نہ کرنا۔ اور قرابت و رشتہ داری کا پاس و لحاظ رکھنا۔ عبداللہ بن زبیر بھی روباہ باز (چالباز) شخص ہیں ان پر اگر تو قابو پائے تو ان کو قتل کر دینا۔ مکہ اور مدینہ کے رہنے والوں پر ہمیشہ احسان کرنا اور اہل عراق اگر ہر روز عامل کے تبدیل کرنے کی فرمائش کریں‘ تو ہر روز عامل کو ان کی خوشی کے لیے تبدیل کرتے رہنا۔ اہل شام کو ہمیشہ اپنا مددگار سمجھنا اور ان کی دوستی پر بھروسہ کرنا‘‘۔ اس کے بعد یزید پھر شکار میں چلا گیا۔ امیر معاویہ کی حالت دم بدم نازک ہوتی چلی گئی آخر بروز جمعرات بتاریخ ۲۲ رجب ۶۰ھ کو اس جہان فانی سے عالم جاودانی کی طرف رخصت ہوئے۔ ستر سال کی عمر پائی۔ ان کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے بال و ناخن تھے‘ مرتے وقت انہوں نے وصیت کی کہ یہ بال اور ناخن میرے منہ اور آنکھوں میں رکھ دینا۔ ضحاک بن قیس نے جنازہ کی نماز پڑھائی‘ دمشق میں باب جابیہ اور باب صغیر کے درمیان مدفون ہوئے۔