سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ
احنف بن قیس کا پرحکمت جواب
مصر سے احنف بن قیس گئے تھے‘ جب سب کی تقریریں ہو چکیں‘ تو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے احنف بن قیس کی طرف مخاطب ہو کر پوچھا کہ آپ کیوں خاموش ہیں‘ انہوں نے کہا کہ اگر جھوٹ بولوں تو اللہ تعالیٰ سے ڈر لگتا ہے‘ اور سچ بولوں تو آپ کا خوف ہے‘ آپ ہم سے اس معاملہ میں مشورہ کیوں لیتے ہیں‘ آپ ہم سے زیادہ یزید کی حالت سے واقف ہیں‘ آپ کی ذمہ داری پر ہم بیعت کرنے کو تیار ہیں‘ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے احنف بن قیس کے ان الفاظ کو بھی بہت غنیمت سمجھا اور بعد میں ان کو بھاری انعام دے کر خوش کیا‘ اسی طرح باہر سے آئے وفود کو خوب انعام و اکرام سے مالا مال و خوش حال کر کے واپس بھیجا۔۱؎
امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو سب سے زیادہ حجاز یعنی مکہ و مدینہ کے لوگوں کا خیال تھا‘ اور وہیں ایسے لوگ موجود تھے جو جرأت کے ساتھ اظہار مخالفت کر سکتے تھے‘ انہوں نے ۵۱ ہجری کے آخر ایام میں حج بیت اللہ کا ارادہ کیا‘ مصلحت اس میں یہ بھی تھی کہ وہ اہل حجاز کو اپنا ہم خیال بنانے میں کامیاب ہوں‘ چنانچہ اول مدینہ منورہ پہنچے‘ ان کی آمد کی خبر سن کر عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ‘عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ‘ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ مدینہ سے مکہ کو چلے گئے‘ انہوں نے مدینہ پہنچ کر لوگوں کو خوب انعام و اکرام دیئے‘ اور ان کے دلوں پر قبضہ پا کر اپنا ہم خیال بنایا اور مروان بن حکم کو سمجھایا کہ مدینہ والوں کے روزینے بڑھا دو‘ ان کو قرض کی ضرورت ہو تو بلا دریغ بیت المال سے قرض دو اور قرض کی وصولی کا تقاضا نہ کرو‘ جس سے مخالفت کا زیادہ اندیشہ ہو اس کو زیادہ عطا کرو اس طرح ان کو زیر بارا احسان بنائو۔
۱؎معاویہ رضی اللہ عنہ اس طرح خلافت کی بقا و استحکام چاہتے تھے نہ کہ اپنی بادشاہت و اقربا نوازی۔ ان پر بادشاہت یا اقربا نوازی کا الزام ہرگز نہیں لگایا جا سکتا۔ ایسے کسی الزام میں کوئی حقیقت نہیں ہو سکتی۔ ہمیں تو احادیث میں صحابہ رضی اللہ عنھم پر لعن طعن کرنے سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔ قرائن سے پتہ چلتا ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ خلافت کو فتنوں وغیرہ سے بچانا چاہتے تھے کیونکہ وہ قبل ازیں خوارج وغیرہ کے فتنے دیکھ چکے تھے‘ واللہ اعلم سبحانہ‘ و تعالیٰ!