سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ
ابن عمر کا جواب
اس کے بعد مکہ کی طرف روانہ ہوئے وہاں مذکورہ بالا چاروں حضرات کو اپنے پاس بلایا اور یزید کی بیعت کے معاملہ میں گفتگو کی‘ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں صرف اس قدر اقرار کر سکتا ہوں کہ تمہارے بعد جس شخص کی خلافت پر لوگ متفق ہو جائیں گے میں اس کو خلیفہ تسلیم کر لوں گا‘ اگر ایک حبشی غلام کو بھی لوگ خلیفہ بنا لیں گے تو میں اس کی اطاعت کروں گا اور جماعت کا ساتھ نہ چھوڑوں گا۔۱؎