سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ

ایک شبہے کا ازالہ

اس جگہ جملہ معترضہ کے طور پر اس طرف توجہ دلانی ضروری ہے کہ جب مدینہ منورہ میں مروان بن حکم نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے منشاء کا اعلان کیا ہے‘ تو سیدنا حسن کے انتقال کو چند ہی مہینے گذرے تھے‘ لوگوں کو عام طور پر اس بات کا بھی علم تھا کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے مصالحت کرتے وقت عبداللہ بن عامر کی کوشش کے موافق امیر معاویہ رضی اللہ عنہ معاہدہ صلح میں اس اقرار کو اپنی طرف سے درج کرانے پر آمادہ تھے‘ کہ ان کے بعد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے جائیں‘ لیکن سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے یہ بات صلح نامہ میں درج نہیں کرائی‘ لوگوں کا خیال تھا کہ اگرچہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی آئندہ خلافت کا کوئی تذکرہ عہدنامہ میں درج نہیں ہوا‘ مگر عالم اسلام سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی خلافت پر متفق ہو جائے گا۔ مروان بن حکم نے مدینہ میں جب پہلی مرتبہ امیر معاویہ کے خط کا مضمون سنایا‘ تو اکثر کا خیال اسی طرف گیا کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی وفات کے سبب سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ وہ کسی کو خلیفہ نامزد کریں‘ کیوں کہ جب تک سیدنا حسن رضی اللہ عنہ زندہ تھے‘ اس وقت تک وہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ ہی کو نامزد شدہ آئندہ خلیفہ سمجھتے تھے‘ اس تصور میں ایک طرف سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی پاک نیتی و انصاف پسندی مضمر تھی‘ تو دوسری طرف ان لوگوں کے دلوں میں جو اپنے آپ کو تخت خلافت کا مستحق سمجھتے تھے امید کی جھلک پیدا ہو گئی تھی۔ مروان نے جب دوسری مرتبہ یزید کی نسبت اعلان کیا‘ تو وہ دونوں باتیں جو پہلے اعلان سے پیدا ہوئی تھیں یک لخت منہدم ہو گئیں‘ اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد اس کارروائی کے متعلق قسم قسم کے شبہات پیدا ہونے لگے‘ بعض لوگوں نے تو یہاں تک مضمون آفرینی کی‘ کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ہی نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو زہر دلوایا تھا‘ جبکہ یزید کی ولیعہدی کے ابتدائی اعلان سے پیشتر کسی قسم کا وہم و گمان بھی اس طرف منتقل نہیں ہوا تھا کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی وفات اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی کوشش و خواہش میں کوئی تعلق ہے یا نہیں۔ اس جگہ قارئین کرام کو اس طرف توجہ دلانی مناسب ہے‘ کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا دامن زہر خورائی امام حسن رضی اللہ عنہ سے قطعاً پاک ہے‘ اور مغیرہ بن شعبہ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو زید کی ولیعہدی کے لیے توجہ دلائی تھی اور خود ان کو پہلے سے اس کا کوئی خیال ہی نہ تھا۔ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ جس طرح یزید کی ولیعہدی میں محرک تھے‘ اسی طرح وہ اس کام کے سر انجام دلانے کے مہتمم اور سب سے زیادہ کوشش کرنے والے بھی تھے‘ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اہل مدینہ اور اہل حجاز کی مخالفت کا حال مروان بن حکم کے خط سے معلوم کرنے کے بعد کچھ خاموش تھے‘ اور سوچ رہے تھے کہ اہل مدینہ کو کس طرح رضامند کیا جائے‘ کہ اتنے میں خبر پہنچی کہ کوفہ میں مغیرہ بن شعبہ نے وفات پائی‘ یہ ۵۱ ہجری کا واقعہ ہے۔