سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ

اہل مدینہ کا رد عمل

مدینہ منورہ میں جب مروان کے پاس خط پہنچا‘ تو اس نے شرفائے مدینہ کو جمع کر کے اول صرف اس قدر سنایا کہ امیر المومنین کا ارادہ ہے کہ وہ اپنی زندگی میں مسلمانوں کو فتنہ و فساد سے محفوظ رکھنے کے لیے کسی شخص کو اپنے بعد خلافت کے لیے نامزد فرما دیں‘ یہ سن کر سب نے کہا کہ یہ رائے بہت پسندیدہ ہے‘ ہم سب اس کے موید ہیں‘ چند روز کے بعد مروان بن حکم نے پھر لوگوں کو جمع کیا اور سنایا‘ کہ دمشق سے امیر المومنین کا دوسرا خط آیا ہے‘ انہوں نے لکھا ہے کہ ہم نے مسلمانوں کی بہتری کو مد نظر رکھتے ہوئے یزید کو ولیعہدی کے لیے منتخب کیا ہے‘ یہ سن کر عبدالرحمان بن ابی بکر رضی اللہ عنہ ‘ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ‘ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ‘ اور حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے سخت مخالفت کا اظہار کیا‘ اور کہا کہ یہ انتخاب مسلمانوں کی بہتری کے لیے نہیں بلکہ بربادی کے لیے کیا گیا ہے‘ کیوں کہ اس طرح تو خلافت اسلامیہ قیصر و کسری کی سلطنت سے مشابہ ہو جائے گی‘ کہ باپ کے بعد بیٹا تخت نشین ہوا کرے‘ یہ انتخاب منشائے اسلام کے خلاف ہے۔