سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ

والیٔ بصرہ کا اندیشہ

زیاد بن ابی سفیان والی بصرہ کے پاس خط پہنچا‘ تو انہوں نے بصرہ کے ایک رئیس عبید بن کعب نمیری کو بلا کر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا خط دکھایا اور کہا کہ میرے نزدیک امیر المومنین نے اس معاملہ میں عجلت سے کام لیا ہے‘ اور اچھی طرح غور نہیں فرمایا‘ کیونکہ یزید ایک لہو و لعب میں مصروف رہنے والا نوجوان ہے‘ لوگوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ سیر و شکار میں بہت مشغول رہتا ہے‘ وہ ضرور اس کی بیعت میں پس و پیش کریں گے۔ عبید بن کعب نے کہا کہ آپ کو امیر المومنین کی رائے کے خلاف اظہار رائے کی ضرورت نہیں‘ آپ مجھ کو دمشق بھیج دیجیے‘ میں یزید سے جا کر ملوں گا اور اس کو سمجھائوں گا کہ تم اپنی حالت میں اصلاح پیدا کرو تاکہ تمہاری بیعت میں کوئی دقت اور رکاوٹ پیدا نہ ہو‘ یقین ہے کہ یزید ضرور اس نصیحت کو مان لے گا‘ جب اس کی حالت میں خوش گوار تبدیلی پیدا ہو گی‘ تو پھر لوگوں کو بھی بیعت میں کوئی تامل نہ ہو گا اور امیر المومنین کا مقصد پورا ہو جائے گا۔ زیاد نے اس رائے کو پسند کر کے فوراً عبید کو دمشق کی جانب روانہ کر دیا‘ عبید نے یزید کو تمام نشیب و فراز سمجھائے‘ اور یزید نے اپنی حالت میں نمایاں تبدیلی کر کے لوگوں کی زبانوں کو بند کر دیا۔