سیدنا حسن رضی اللہ عنہ
زہر کا افسانہ
۵۰ ھ یا ۵۱ ھ میں آپ نے وفات پائی‘ عام طور پر یہ بیان کیا جاتا ہے کہ آپ کو آپ کی بیوی جعدہ بنت الاشعث نے زہر دیا تھا‘ مگر جب کہ خود سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو بھی تحقیق نہ ہو سکا کہ زہر کس نے دیا اور کیوں دیا تو دوسروں کا حق نہیں ہے کہ وہ سیکڑوں ہزاروں برسوں کے بعد یقینی طور پر اسے مجرم قرار دیں۔
وفات کے وقت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ تک خلافت پہنچی اور تلواریں میانوں سے نکل آئیں اور یہ معاملہ طے نہ ہوا‘ اب میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ نبوت اور خلافت ہمارے خاندان میں نہیں رہ سکتیں‘ یہ بھی ایک اندیشہ ہے کہ سفہائے کوفہ تم کو یہاں سے نکالنے کی کوشش کریں گے تم ان کے فریب میں نہ آنا‘ میں نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے کہا تھا کہ مجھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس دفن ہونے کی اجازت دے دیں‘ اس وقت تو انہوں نے مان لیا تھا اب لوگوں کا خیال ہے کہ تم پوچھو گے تو نہ مانیں گی‘ مگر میرے بعد تم ان سے پھر دریافت کرنا‘ اگر وہ اجازت نہ دیں تو اصرار نہ کرنا‘‘۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ مجھے بسرو چشم منظور ہے‘ لیکن جب مروان نے یہ خبر سنی کہی سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نے اجازت دے دی ہے‘ تو وہ مانع ہوا‘ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی مسلح ہو کر چلے‘ مگر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے آ کر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو سمجھایا اور کشت و خون کے ارادے سے باز رکھا‘ چنانچہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو ان کی والدہ ماجدہ سیدنا فاطمہ رضی اللہ عنھا کے پاس دفن کر دیا گیا‘ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے نو بیٹے اور چھ بیٹیاں کل پندرہ اولاد تھیں۔