سیدنا حسن رضی اللہ عنہ
رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ و سلم ) کی پیشگوئی
اس کے بعد صلح کے تمام مدارج طے ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی وہ پیشگوئی بھی جو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی نسبت آپ نے ارشاد فرمائی تھی پوری ہو گئی کہ ’’میرا یہ بیٹا سردار ہے اور خدائے تعالیٰ اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح کرا دے گا‘‘ ۱؎سیدنا حسن رضی اللہ عنہ منبر سے اترے تو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے بیساختہ ان سے مخاطب ہو کر کہا۔ کہ
ابو محمد! آپ نے آج اس قسم کی جواں مردی اور بہادری دکھائی ہے‘ کہ ایسی جواں مردی اور بہادری آج تک کوئی بھی نہ دکھا سکا۔
یہ صلح ۴۱ ھ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت سے چھ ماہ بعد وقوع پذیر ہوئی‘ اس لیے ۴۱ ھ کو عام الجماعت کے نام سے موسوم کیا گیا۔
بعد تکمیل صلح سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کوفہ سے دمشق کی جانب روانہ ہوئے‘ اور جب تک سیدنا حسن رضی اللہ عنہ زندہ رہے‘ ان کے ساتھ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے بڑی تکریم و تعظیم کا برتائو کیا اور برابر ان کی خدمت میں حسب قرار داد صلح نامہ روپیہ بھیجتے‘ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے کوفہ سے واپس چلے جانے کے بعد اہل کوفہ نے آپس میں یہ چرچا کرنا شروع کیا کہ یہ صوبہ اہواز کا خراج تو ہمارا مال غنیمت ہے‘ ہم سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو ہرگز نہ لینے دیں گے‘ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے سن کر اہل کوفہ کو جمع کیا اور ان کے سامنے تقریر کی کہ
اے اہل عراق میں تم سے بار بار درگذر کر چکا ہوں‘ تم نے میرے باپ کو شہید کیا‘ میرا گھر بار لوٹا‘ مجھے نیزہ مار کر زخمی کیا‘ تم دو قسم کے مقتولین کو یاد رکھتے ہو ایک وہ لوگ جو صفین میں مقتول ہوئے‘ دوسرے وہ جو نہروان کے مقتولین کا معاوضہ طلب کر رہے ہیں‘ معاویہ نے جو معاملہ تم سے کیا ہے اس میں تمہاری کوئی عزت بھی نہیں‘ اور انصاف بھی یہی ہے‘ پس اگر تم موت پر راضی ہو‘ تو میں اس صلح کو فسخ کر دوں اور تیغ تیز کے ذریعہ فیصلہ طلب کروں‘ اور اگر تم زندگی کو عزیز رکھتے ہو‘ تو پھر میں اس صلح پر قائم رہوں۔
یہ سنتے ہی ہر طرف سے آوازیں آنے لگیں‘ کہ صلح قائم رکھئے‘ صلح قائم رکھئے‘ بات یہ تھی‘ کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اہل کوفہ کی کم ہمتی اور بیوقوفی سے خوب واقف تھے‘ انہوں نے صرف دھمکی سے ان کو سیدھا کرنا مناسب سمجھا۔
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اب بلا اختلاف عام عالم اسلام کے خلیفہ ہو گئے‘ سیدنا سعد بن ابی وقاص جو معاملات ملکی سے قطع تعلق کر کے اونٹوں اور بکریوں کے چرانے اور گوشہ نشینی کے عالم میں مصروف عبادت رہتے تھے انہوں نے بھی سیدنا امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی تھی‘ غرض کوئی ایسا قابل تذکرہ شخص باقی نہ رہا جس نے جلد یا کچھ تامل کے بعد سیدنا امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کو خلیفہ وقت تسلیم کر کے بیعت نہ کی ہو۔
بعد انعقاد صلح سیدنا حسن رضی اللہ عنہ چند روز کوفہ میں رہے‘ پھر کوفہ کی سکونت ترک کر کے معہ جملہ متعلقین مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے‘ اہل کوفہ تھوڑی دور تک بطریق مشایعت ہمراہ آئے‘ مدینہ آ کر پھر آپ نے کبھی کسی دوسری جگہ کی سکونت کا قصد نہیں فرمایا۔