سیدنا حسن رضی اللہ عنہ

خلافت حسنی پر ایک نظر

بعض مؤرخین نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی شش ماہ خلافت کو خلافت راشدہ میں شامل نہیں سمجھا‘ کیونکہ وہ قلیل مدت کے لیے تھی‘ اور نامکمل تھی‘ نا مکمل کہنا اس لیے نا درست ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کو بھی پھر تو نا مکمل کہہ کر خلافت راشدہ سے خارج کرنا پڑے گا‘ حالانکہ یہ جائز نہیں‘ مدت خلافت کا کم ہونا بھی کوئی معقول وجہ نہیں ہے۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی خلافت پر اگر صبرو سکون کے ساتھ نظر ڈالی جائے‘ تو وہ خلافت راشدہ کا نہایت ہی اہم حصہ ہے اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی خلافت اگرچہ ملکی فتوحات اور جنگ و پیکار کے ہنگاموں سے خالی ہے‘ لیکن سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے جنگ کے میدان گرم کئے اور خون کے دریا بہائے بغیر اسلام اور عالم اسلام کو اس قدر فائدہ پہنچا دیا‘ جو شاید بیسیوں برس کی خلافت اور سینکڑوں لڑائیاں لڑنے کے بعد بھی نہیں پہنچایا جا سکتا تھا۔ خدمت اسلام کے اعتبار سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ یقینا خلفاء راشدین کے پہلو بہ پہلو جگہ پانے کا حق رکھتے تھے‘ انہوں نے دس سال کی خانہ جنگی کو جس کے دور ہونے کی توقع نہ تھی یک لخت دور کر دیا‘ انہوں نے منافقوں اور مسلم نما یہودیوں کی شرارتوں اور ریشہ دوانیوں کو جو دس سال سے نشونما پا کر اب بہت طاقتور اور عظیم الشان ہو چکی تھیں‘ یکایک درہم برہم کر دیا اور شرارت پیشہ لوگ حیران و مبہوت ہو کر ان کا منہ تکنے لگے۔ انہوں نے دس سال سے رکی ہوئی فتوحات اسلامی کو پھر جاری ہونے کا موقع دیا‘ انہوں نے مشرکین کے اطمینان کو جو دس سال سے مسلمانوں کی خانہ جنگی کا تماشا مزے لے کر دیکھ رہے تھے برباد کر دیا۔ انہوں نے ان خارا شگاف تلواروں اور آہن گداز نیزوں کا رخ دشمنان اسلام کی طرف پھیر دیا‘ جو اس سے پہلے مسلمانوں کی گردنیں اڑانے اور سینے زخمی کرنے میں مصروف تھے‘ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے بعد خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے بھی بڑھ کر بہادری کا نمونہ دکھایا‘ جب کہ کوفہ میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی‘ ان کے اپنے ان مختصر الفاظ سے کہ۔ اگر امارت و خلافت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا حق تھا تو ان کو پہنچ گیا اور اگر یہ میرا حق تھا‘ تو میں نے ان کو بخش دیا۔ نہ صرف اسی زمانے کے مسلمانوں کو عظیم الشان درس معرفت حاصل ہوا بلکہ قیامت تک کے لیے مسلمانوں کی رہبری کا عظیم الشان کام انجام دینے کی غرض سے خونخوار و بے پناہ سمندروں کی تاریکیوں میں ایک لائٹ ہائوس قائم ہو گیا۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے پاس چالیس ہزار جنگجو فوج موجود تھی‘ یہ فوج خواہ کیسے ہی بے وقوف اور متلون مزاج لوگوں پر مشتمل ہو‘ اور ان سے کیسی ہی گستاخیاں بھی سرزد ہوئی ہوں‘ لیکن اہل شام اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے لڑنے اور مارنے مرنے کا حلف سب اٹھائے ہوئے تھے‘ ایسی حالت میں ایک ۳۷ سال جوان العمر جنگ آزمودہ اور بہادر باپ کا بیٹا اپنے باپ کے رقیب اور مدمقابل سے دو دو ہاتھ کئے بغیر ہرگز نہیں رہ سکتا تھا‘ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ یہ بھی جانتے تھے کہ تمام عالم اسلام اس بات سے واقف ہے کہ ہمارے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو کس قدر محبت تھی‘ اور ان کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی زیادہ اس بات کا موقع حاصل تھا کہ وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور عالم اسلام کے تمام مسلمانوں کی حمایت و ہمدردی کو تھوڑی سی مدت اور بڑی آسانی سے اپنی طرف جذب کر سکیں‘ ہم چشموں بھائیوں ‘ ماتحتوں‘ جنگی افسروں کی ترغیب اور صلح کی حالت میں طعن و تشنیع بھی ان کے لیے دامن گیر تھے‘ وہ خود سپہ سالاری کی قابلیت اور شہنشاہی کی اہلیت بخوبی رکھتے‘ اولو العزمی اور بلند ہمتی اس عمر کا خاصہ ہے‘ لیکن خدائے تعالیٰ کی ہزاروں ہزار رحمتیں‘ بے شمار رحمتیں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی روح پر نازل ہوں‘ کہ انہوں نے اخلاص‘ ایثار اور خدمت اسلام کا وہ بہترین نمونہ امت محمدیہ رضی اللہ عنہ کے لیے چھوڑا‘ جس کی توقع خیرالبشر اور جامع جمیع کمالات انسانیہ کے نواسے سے ہو سکتی تھی۔ اے حسن رضی اللہ عنہ تو نے مسلمانوں کے دو ٹکڑوں کو آپس میں ملا کر ایک کر دینے کا وہ عظیم الشان کام کیا ہے‘ جو دو لخت شدہ کرئہ زمین کے جوڑنے‘ شق شدہ آسمان کا باہم جوڑ ملانے سے بھی زیادہ مشکل کام تھا‘ اے حسن رضی اللہ عنہ ! تو نے اپنی مدت خلافت میں کوئی میدان کار زار گرم نہیں کیا‘ لیکن تو نے دنیا کے تمام بہادروں‘ تمام شمشیر زنوں‘ تمام سپہ سالاروں ‘ تمام ملک گیروں‘ تمام شیر افگنوں کی سرداری حاصل کر لی‘ اے حسن رضی اللہ عنہ ! تیرے ہی فعل حسن کا نتیجہ ہے‘ کہ مسلمانوں نے بحر روم اور بحر روم کے جزیروں پر قبضہ کیا‘ قسطنطنیہ کی فصیل تک پہنچ کر عیسائی شہنشاہی کو ذلیل و فضیحت کیا‘ طرابلس الغرب‘ مراکو‘ اسپین‘ سندھ‘ افغانستان اور ترکستان وغیرہ ممالک اسلامی حکومت میں شامل ہو گئے۔ اے حسن رضی اللہ عنہ !تو نے عالم اسلام میں زندگی کی روح پھونک دی۔ اے حسن رضی اللہ عنہ ! تو نے اپنی شرافت کا نمونہ دکھا کر کشت اسلام کو ازسر نو سر سبز کیا۔ اے حسن رضی اللہ عنہ ! مسلمانوں کی ہر ایک کامیابی‘ مسلمانوں کی ہر ایک فتح مندی‘ مسلمانوں کی ہر ایک سر بلندی تیری روح پر رحمت الہی کی ایک بارش بن جاتی ہو گی۔ اے فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہ کے لاڈلے‘ اے خاندان ابی طالب کے ماہتاب‘ اور اے امت مسلمہ کے چشم و چراغ میری روح تیری محبت میں گداز ہے‘ میرا دل تیری عزت و عظمت سے لبریز ہے‘ میرے جسم کے ہر رونگٹے‘ اور میرے بدن کے ہر ذرے سے تیری مدح و ثنا کا ایک شور برپا ہے‘ تیری بہادی کوہ ہمالیہ سے زیادہ عظیم الشان ہے‘ تیری مردانگی بحرالکاہل سے زیادہ شوکت و جبروت رکھتی ہے۔ او اشجع الناس‘ اور او اہل جنت کے سردار! میری طرف سے لا تعداد سلام و صلوۃ و برکات قبول فرما‘ اور قیامت کے دن او بہادر مجھ کو بھول نہ جا‘والسلام خلافت راشدہ کے متعلق چند جملے! خلافت راشدہ کی تاریخ ختم ہو چکی ہے‘ خلافت راشدہ کے بعد خلافت بنو امیہ کا بیان شروع ہو گا‘ خلافت بنو امیہ اور اس کے بعد قائم ہونے والی دوسری خلافتوں کے مقابلہ میں خلافت راشدہ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ خلفاء راشدین میں سے ہر ایک خلیفہ مسلمانوں کی صاحب الرائے جماعت کے انتخاب سے مقرر ہوتا تھا‘ اگر کسی خلیفہ کو اس کے پیشتر خلیفہ نے پہلے ہی سے نامزد اور تجویز کیا تو یہ نامزدگی اور تعین بھی صاحب الرائے حضرات سے مشورہ لینے کے بعد عمل میں آتا تھا‘ جس میں وراثت اور خاندانی حقوق کو مطلق دخل انداز نہیں ہونے دیا جاتا تھا‘ دوسری خلافتوں میں طرز پسندیدہ نہیں پائی گئی‘ بلکہ وراثت و ولیعہدی کی نا معقول رسم جاری ہو گئی۔ خلافت راشدہ میں مسلمانوں کو معاملات حکومت اور انتظام سلطنت میں دخل دینے‘ اعتراض کرنے‘ جواب طلب کرنے‘ مشورہ دینے کا پورا پورا حق حاصل تھا‘ لیکن بعد کی خلافتوں میں یہ حق مسلمانوں کو نہیں مل سکا۔ خلافت راشدہ میں خلفاء راشدین کی حیثیت ظاہری‘ ان کا لباس‘ ان کا مکان‘ ان کی سواری‘ ان کی خوراک‘ ان کی نشست و برخاست سب عام لوگوں کی مانند ہوتی تھی‘ خلیفہ کو دوسرے لوگوں پر کوئی فوقیت حاصل نہ تھی‘ لیکن بعد کی خلافتوں میں خلیفہ کی شان شاہانہ اور دوسروں سے بہت برتر و اعلیٰ ہوتی تھی۔ خلافت راشدہ میں خلفاء اپنے اختیار سے ایک پائی بھی اپنی ذات کے لیے یا بلا استحقاق کسی اپنے عزیز و رشتہ دار کے لیے خرچ نہیں کر سکتے تھے‘ لیکن بعد کی خلافتوں میں عام طور پر خلیفہ بیت المال کا مالک سمجھا جانے لگا اور اپنے اختیار سے لوگوں کو بلا استحقاق بھی انعام و اکرام دیتا‘ اور کوئی اعتراض کی جرات نہ کر سکتا تھا۔ خلفاء راشدین سب کے سب جلیل القدر صحابہ رضی اللہ عنہ میں سے تھے اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی صحبت میں ہمیشہ رہتے تھے‘ بعد کی خلافتوں میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی قابل تذکرہ صحابی خلیفہ نہ تھا۔ خلفاء راشدین سب کے سب ان لوگوں میں سے تھے‘ جو جنتی ہونے کی بشارت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان مبارک سے سن چکے تھے‘ لیکن بعد کی خلافتوں میں ایسے صحابہ نہیں پائے گئے‘ خلفاء راشدین کو مسلمانوں کی صلاح و فلاح کا خیال سب سے زیادہ تھا وہ اعلاء کلمۃ اللہ اور اجرا ء احکام شرع کے سب سے زیادہ خواہاں تھے‘ لیکن ملک گیری کا نصب العین نہ تھا۔ خلفاء راشدین ملکوں کے محاصل اور مال غنیمت کی آمدنی کو خزانہ میں ذخیرہ رکھنے کے عادی نہ تھے‘ جس قدر مال و دولت آتی وہ سب مسلمانوں کی تقسیم کر دیتے‘ یا مسلمانوں کی بہتری کے کاموں میں خرچ کر دیا کرتے تھے‘ یہاں تک کہ بیت المال کا تمام مال خرچ کر کے بیت المال میں جھاڑوں دلوا دیا کرتے تھے‘ لیکن بعد میں قائم ہونے والی خلافتوں کی حالت اس کے خلاف رہی۔ خلفاء راشدین ہمیشہ خود حج کے لیے جاتے اور وہاں عالم اسلام کے ہر حصے اور ہر گوشے سے آئے ہوئے مسلمانوں سے ملتے اور ان کی ضرورتوں اور شکایتوں سے واقف ہو کر وہاں کے عاملوں کی قابلیت اور ناقابلیت سے واقف ہوتے‘ ضروری احکام جاری کرتے اور اس طرح حج کے موقع پر عظیم الشان اجتماع سے فائدہ اٹھا کر اپنے فرائض کو پورا کرتے‘ اگر کسی ضروری کام یا مجبوری کی وجہ سے خود حج کے لیے نہ جا سکتے‘ تو اپنا قائم مقام بھیج کر ان ضرورتوں کو پورا کر لیتے تھے‘ لیکن خلافت راشدہ کے بعد حج کے اجتماع عظیم سے خلفاء نے یہ فائدہ اٹھانا ترک کر دیا۔ خلفاء راشدین دارالخلافہ میں خود ہی نمازوں کی امامت کرتے اور جمعہ کا خطبہ بیان فرماتے تھے‘ لیکن بعد میں صرف خلافت بنو امیہ میں یہ رسم باقی رہی ان کے علاوہ باقی خلافتوں میں خلفاء نے نمازوں کی امامت اور جمعہ کے خطبے دوسرے کے ذمہ ڈال دئیے۔ خلفاء راشدین کے زمانے میں مسلمانوں کے اندر الگ الگ مذہبی فرقے اور جماعتیں قائم نہ تھیں‘ آپس میں اختلاف بھی ہوتا تھا لیکن دین و ملت اور عقائد کے معاملے میں ان گروہ بندیوں کا نام و نشان بھی نہ تھا جو بعد میں پائی گئیں‘ اور آج شیعہ‘ سنی وہابی ‘ حنفی‘ شافعی ‘ قادری‘ چشتی وغیرہ سینکڑوں فرقے اپنی الگ الگ حیثیتیں قائم رکھنے پر مصر نظر آتے ہیں۔ خلفاء راشدین کے زمانے میں مذہب اور شریعت کے مقابلہ میں کسی رشتہ داری‘ قومیت‘ ہم وطنی وغیرہ کی کوئی حقیقت نہ تھی‘ ان کے حالات پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بھائی‘ بھائی کی پرواہ نہیں کرتا‘ باپ بیٹے کی رعایت ضروری نہیں سمجھتا‘ جب کہ دین و ملت کا معاملہ درمیان میں آ جائے‘ ہر شخص کو رائے کی آزادی حاصل تھی‘ خلیفہ کو سر منبر معمولی طبقہ کا آدمی روک اور ٹوک سکتا تھا‘ بعد میں رائے کی یہ آزادی اور دین و ملت کی یہ پاس داری کم ہو گئی تھی۔ خلفاء راشدین اپنے آپ کو مسلمانوں کا بادشاہ نہیں سمجھتے تھے‘ بلکہ وہ اپنے آپ کو مسلمانوں کا خادم سمجھ کر ان کی خدمت کرتے اور مسلمانوں کا چرواہا اور چوکیدار سمجھ کر ان کی پاسبانی کرتے اور مسلمانوں کو اپنی اولاد سمجھ کر ان پر شفقت فرماتے تھے‘ مسلمانوں کو اپنا غلام نہیں جانتے تھے اور ان سے غلاموں کی طرح اپنے احکام کی تعمیل نہیں کراتے تھے‘ بعد کی خلافتوں میں اس کے برعکس حالات پیدا ہوئے‘ اور خلفاء نے اپنے آپ کو قیصرو کسریٰ کا نمونہ بنا کر ظاہر کیا۔ خلفائے راشدین کی حکومت و سلطنت دینوی اعتبار سے قیصرو کسریٰ کی طرح قہرو وجبر کی حکومت نہ تھی‘ دینی معاملات میں بھی وہ بہ اختیار خود کچھ نہیں کر سکتے تھے‘ جب کسی دینی مسئلہ میں اختلاف یا شبہ پیدا ہوتا تو وہ دوسرے صحابہ رضی اللہ عنھم کو بلا کر ان سے دریافت کرتے اور جو بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت ہو جاتی اسی کے موافق احکام جاری کرتے‘ اور اگر کسی دینی معاملہ میں ان سے غلطی ہو جاتی اور بعد میں ان کو اپنی غلطی کا احساس و علم ہوتا تو فوراً اس کی اصلاح کر لیتے تھے‘ غرض دینی و دینوی ہر دو پہلوئوں میں ان کی سیادت و حکومت آج کل کی جمہوری حکومتوں کے صدر اور آج کل کے دینی علماء کی سیادت و حکومت آج کل کی جمہوری حکومتوں کے در اور آج کل کے دینی علماء کی سیادت و حکومت سے بھی بہت ہی کم تھی‘ ان کا کام شریعت کے احکام کا نفاذ اور امن و امان کا قائم رکھنا تھا ان کے زمانے میں لوگوں کو ہر قسم کی جائز آزادی حاصل تھی اور ہر چھوٹے سے چھوٹے معاملہ میں ہر شخص ان سے جواب طلب کر سکتا تھا‘ ان کو اپنے احکام کے نافذ کرنے کے لیے کسی طاقت اور فوج کی ضرورت نہ تھی‘ بلکہ ہر شخص ان کے حکم کو چاہے وہ اس کے خلاف ہو خود ہی اپنے اوپر جاری اور صادر کر لیتا اور اس کی تعمیل کرتا تھا‘ جو دلیل اس امر کی ہے کہ ان کی حکومت محبت اور عقیدت کی بنیاد پر قائم تھی‘ خوف و دہشت اور قہرو جبر کے ذریعہ قائم نہ تھی۔ لیکن بعد کی خلافتوں میں احکام شرع کے نفاذ و قیام کا کام خلفاء نے خود چھوڑ کر مولویوں‘ مفتیوں اور قاضیوں کے سپرد کر دیا‘ مساجد کے خطیب و امام الگ مقرر ہوئے‘ فوج اور خزانے کا اختیار اپنے قبضہ میں رکھ کر ان دونوں قوتوں کا استعمال مطلق العنان ہو کر شروع کیا‘ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی حکومت و سلطنت قہرو جبر و خوف و دہشت پر قائم ہوئی‘ لوگوں کی جائز آزادی چھن گئی‘ مذہبی احکام کے نفاذ و قیام میں بھی افہام و تفہیم اور رفع شکوک کی جائز آزادی لوگوں سے سلب ہو گئی‘ یہ وجہ ہے کہ آج کسی شخص کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی‘ کہ ایک معمولی نواب یا رئیس کی جس قدر ہیبت لوگوں کے دلوں پر طاری ہے اور وہ جس قدر اس کی تعظیم و تکریم بجا لانا ضروری سمجھتے ہیں‘ خلفاء راشدین کی اس قدر ہیبت اور اس قدر تعظیم و تکریم بھی خوف و دہشت کی وجہ سے کسی کے قلب پر طاری نہ تھی‘ بلکہ ان کی ہیبت و عظمت شفیق استاد اور والدین کی ہیبت و عظمت کے مانند تھی‘ شیر مردم اور نار مردم کش کی مانند نہ تھی‘ آج ایک صوفی‘ ایک مفتی ایک جبہ پوش مولوی کے قول و فعل پر نکتہ چینی کرتے ہوئے لوگ جس قدر ڈرتے اور خوف زدہ ہوتے ہیں‘ لیکن خلفاء راشدین کے قول فعل پر اگر ذرا بھی شبہ ہوتا تھا تو لوگ آزادانہ اعتراض اور نکتہ چینی کرتے تھے۔ خلافت راشدہ کے زمانے میں جس قدر ممالک میں اسلام پھیل گیا تھا اور دنیا کے جن جن حصوں میں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا قدم پہنچ گیاتھا‘ اس کی برکت سے آج تک بھی ان تمام ملکوں کی غالب آبادی کا مذہب اسلام ہی ہے‘ جو ممالک خلافت راشدہ کے بعد مفتوح ہوئے اور جن میں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے قدم نہیں پہنچے‘ ان ملکوں کے مسلمانوں کی اسلامی عصبیت اور ان ملکوں میں اسلامی عظمت اور اس کا استحکام اس درجہ پر نہیں پایا جاتا‘ اس حقیقت پر غور کرنے سے اس روحانی اثر و طاقت کا کچھ کچھ اندازہ ہو سکتا ہے‘ جو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم میں صحبت نبوی صلی اللہ علیہ و سلم سے پیدا ہو گئی تھی۔ تاریخ اسلام کی اس پہلی جلد میں خلافت راشدہ کی مختصر و مجمل تاریخ بیان ہو چکی ہے‘ اس پہلی جلد میں اکثر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے نام واقعات کے سلسلہ میں بیان ہوئے ہیں‘ ان ناموں کی برکت سے امید ہے کہ اس جلد کا مطالعہ قارئین کرام کے لیے ضرور مبارک ہوگا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم میں دس صحابی جن کو عشرہ مبشرہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے‘ زیادہ معزز و مکرم ہیں‘ یہ وہ دس بزرگ ہیں‘ جنہوں نے اپنے اعمال حسنہ کی بدولت اس دنیا ہی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان مبارک سے اپنی جنتی ہونے کی بشارت سن لی‘ ان بزرگوں میںسے سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ‘ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ‘ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ ‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ‘ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ‘ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ ‘ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ ‘ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ‘ سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ نو بزرگوں کا ذکر تھوڑا یا بہت اس جلد میں بیان ہو چکا ہے اور قارئین کرام ان سے ضرور واقف ہو گئے ہیں‘ عشرہ مبشرہ میں سے صرف ایک بزرگ یعنی سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کا ذکر شروع اوراق میں آ چکا ہے‘ ان آخری اوراق میں نہیں آیا‘ لہذا اس جلد کے ختم کرنے سے پیشتر ان کے متعلق چند سطریں اس خاتمہ میں لکھنی مناسب ہیں۔